دہشت گردی کی تشریح کا لائق تحسین فیصلہ - رانا اعجاز حسین چوہان

دہشت گردی کی عمومی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ خوف وہراس پیدا کرکے اپنے مقاصد کے حصول کا ایسا نپا تلا طریقہ اپنانا جس سے لوگوں کو وسیع پیمانے پر دہشت و تکلیف میں مبتلا کر دیا جائے، ان متشددانہ کاروائیوں کے مقاصد سیاسی بھی ہوسکتے ہیں اورگروہی و ذاتی بھی ۔

لیکن دہشت گردی کی جتنی بھی اقسام ہیں ان میں تشدد یا تشدد کا خطرہ مشترک عنصر کے طور پر پایا جاتا ہے۔ دہشت گرد عوامی مقامات ، مساجد، ہسپتالوں ، پارکوں، بازاروں ، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں ، ائیر پورٹوں، اور دیگرمقامات کے ساتھ اہم حکومتی اور دفاعی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کو جنگ سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ اس میں مقابل فریق سامنے سے نہیں عقب سے وار کرتا ہے ، اور اس ان دیکھے دشمن کے خلاف کاروائی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کا المیہ یہ رہا ہے کہ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بنائے گئے قوانین میں کئی ایسے اقدامات بھی شامل کر دیئے گئے جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق واسطہ نہ تھا، اور پولیس عام نوعیت کے جرائم میں بھی دہشت گردی کی دفعات شامل کرکے معاملے کو گھمبیر بنادیتی۔
جس پر گزشتہ دنوں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پاکستان سپریم کورٹ کے سات رکنی لارجر بینچ نے دہشت گردی کی تعریف سے متعلق 59 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے ،

جس کے مطابق منظم مذہبی، نظریاتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے پرتشدد کارروائی، حکومت یا عوام میں منصوبے کے تحت خوف و ہراس پھیلانا، جانی و مالی نقصان پہنچانا دہشت گردی ہے ۔ دہشت گردی کی تعریف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ’’منصوبے کے تحت مذہبی طور پر فرقہ واریت پھیلانا، صحافیوں، کاروباری برادری، عوام اور سماجی شعبے پر حملے کرنا دہشت گردی ہے ، البتہ ذاتی عناد یا دشمنی کے باعث پولیس، افواج پاکستان اور سرکاری ملازمین کے خلاف پرتشدد واقعات میں ملوث ہونا دہشت گردی نہیں۔ ذاتی دشمنی کی بنیاد پر کسی کی جان لینے کو دہشت گردی کی تعریف سے خارج کیا گیا ہے ، ایک دو یا تین چار قتل سنگین جرم ہیں لیکن ان کو دہشت گردی میں شمار نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ بلاشبہ عدالت عظمیٰ نے درست قدم اٹھایا ہے، اس فیصلے کے دور رس اثرات ہوں گے، یہ سلسلہ چلے گا تو بہت سے ابہام دور ہو جائیں گے ۔ اس تشریح سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ ہماری پولیس ہر گرفتار شخص پر انسداد دہشت گردی کی دفعہ ڈالنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ یہاں تو پولیو کے قطرے نہ پلوانے پر انسداد دہشت گردی کی دفعات لگانے کی دھمکی دے دی جاتی تھی۔

پاکستان جیسے ملک میں خرابی قانون میں نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والوں میں ہے، پولیس فورس خود امن و سکون کی علامت کے بجائے دہشت گردی کی علامت بن چکی ہے ، جبکہ محض شک کی بنیاد پر یہی پولیس والے کسی کو بھی قتل کر دیتے ہیں اور شک کا فائدہ اٹھا کر بری ہو جاتے ہیں۔ رائو انوار جن پر ساڑھے چار سو افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا الزام تھا، عدالتوں سے ضمانت پا کر آزاد ہو گئے ہیں۔ عدالت اعظمیٰ کے تفصیلی فیصلے سے معلوم ہوسکے گا کہ دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی تجویز کی گئی ہے ۔ دہشت گردی کی تشریح کا فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان نے خود تحریر کیا ہے ، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ پارلیمنٹ دہشت گردی کی تعریف بین الاقوامی معیار کے تناظر میں کرے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تیسرے شیڈول میں شامل ان تمام جرائم کا خاتمہ کرے جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ بلاشبہ عدالت عظمیٰ کے اس لائق تحسین اقدام سے جہاں دہشت گردی قانون کی تشریح میں مدد ملے گی وہاں قانون کی بالا دستی بھی قائم ہوگی ۔