مولانا فضل الرحمن نے دھرنا کیوں دیا؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

دھرنے کا اصل محرک خیبر پختونخوا میں ووٹ بینک کے ضیاع کا احساس ہے۔اس بات کو سمجھنے کےلیے اس سادہ سوال پر غور کیجیے کہ دھرنے میں کن پارٹیوں کے کارکن کہاں سے آئے ہیں؟جی ہاں۔ سوال تقریریں جھاڑنے والے لیڈرز کے متعلق نہیں بلکہ کارکنوں کے متعلق ہے۔

ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ جمعیت علماے اسلام کے کارکن آئے ہیں اور وہ پورے ملک سے آئے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ حضرت مولانا نے اپنے کارکنوں کی انتہائی طاقت اکٹھی کرکے سامنے رکھ دی ہے۔ چنانچہ ان کی انتظامی اور تحریکی صلاحیتیوں کی داد دینی لازم ہے ۔کسی زمانے میں قاضی حسین احمد صاحب مرحوم کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ وہ کہیں بھی بہت بڑا مجمع اکٹھا کردیتے ۔ بالعموم یہ مجمع ان کے اپنے کارکنوں کا ہوتا اور بالعموم یہی کارکن ہر جلسے اور مجمع میں جمع ہوتے۔ ہمارے بعض دوست ان دنوں کہا کرتے تھے کہ قاضی صاحب خود نہیں تھکتے لیکن ہمارا بھرکس نکل گیا ہے کیونکہ کبھی دیر میں جلسہ ہے تو کبھی پشاور میں، پھر لاہور میں، اس کے بعد کراچی میں اور ہرجگہ ہمیں جانا پڑتا ہے۔ حضرت مولانا نے اس اقدام کو اچھی حکمت عملی اور بہترین پلاننگ سے اپنی طاقت کے اظہار کےلیے استعمال کیا ہے۔ مولانا کے کارکن سندھ ، بلوچستان اور پنجاب کے بعض مخصوص علاقوں میں ہی پائے جاتے ہیں ؛ البتہ خیبر پختونخوا کے تقریباً ہر حلقے میں مولانا کے کچھ نہ کچھ ووٹرز پائے جاتے ہیں اور بعض حلقے تو گویا روایتی طور پر ان کی جیب میں پڑے ہوئے ہیں۔ مولانا نے یہ ساری قوت متحرک کردی ہے۔
دوسرے نمبر پر اس دھرنے میں آپ کو پختون قوم پرست پارٹیوں کے کارکن نظر آتے ہیں۔

البتہ پختونخوا میپ، یعنی جناب اچکزئی صاحب کی پارٹی شمولیت کےلیے عوامی نیشنل پارٹی سے مختلف وجہ رکھتی ہے۔ اچکزئی صاحب بنیادی طور پر میاں صاحب کی دوستی میں آئے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ ان کے ذاتی تعلقات، اگر ہم بعض معلوم ذاتی مفادات کا ذکر نہ بھی کریں، ہی اصل وجہ ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کے بھی میاں صاحب سے قریبی تعلقات ہیں لیکن ان کے کارکنوں کی شمولیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے ان کے ووٹ بینک میں بہت بڑا ڈینٹ لگایا ہے۔ یہ امر ابھی تجزیہ نگاروں کی نظر میں اہمیت حاصل نہیں کرسکا کہ پی ٹی آئی نے کیسے پختون قوم پرستوں کے ایک بڑے حصے کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی کے متوازی اس حقیقت کو بھی تجزیہ نگاروں نے کوئی خاص اہمیت نہیں دی کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے دونوں بڑی دینی جماعتوں ، جمعیت علماے اسلام اور جماعتِ اسلامی، سے بھی اچھا خاصا ووٹ بینک چھینا ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ خیبر پختونخوا کے سیاق میں پی ٹی آئی نے آخر کیسے ایک جانب قوم پرست اور دوسری جانب مذہبی ووٹرز کی حمایت حاصل کی ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کے سوئے ہوئے اور مایوس ووٹر کو بھی اپنی طرف کھینچا ہے لیکن اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ محترمہ کی شہادت اور زرداری صاحب کی قیادت کے بعد پیپلز پارٹی کے ووٹر کےلیے شاید پی ٹی آئی ہی مناسب آپشن رہ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   تیسر ا امپا ئر کیو نکر انگلی اٹھا ئے گا؟ عارف نظامی

(واضح رہے کہ یہ بات خیبر پختونخوا کے تناظر میں کہی جارہی ہےجس کی سیاسی حرکیات پنجاب اور سندھ کی سیاسی حرکیات سے الگ اور مختلف ہیں۔) اس لحاظ سے دیکھیں تو اس امر پر حیرت نہیں ہوگی کہ کیوں دھرنے میں خیبر پختونخوا سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔جہاں تک سندھ سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا تعلق ہے تو دھرنے میں ان کی موجودگی کالعدم ہے اور سندھ میں بھی آزادی مارچ کو پیپلز پارٹی نے انگریزی محاورے کے مطابق "سرد کندھا" دیا تو اس کی وجہ قابلِ فہم ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کا معاملہ ہے جیسے پنجاب ، بالخصوص لاہور ، میں نون لیگ نے کیا۔ "مصالحت" کی کوششیں بھی اس کے پیچھے ہوں گی لیکن بنیادی وجہ "مصلحت" ہے، یعنی اپنے ووٹرز کو مولانا کے ہاتھ نہ لگنے دینے کی خواہش۔یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آخر کیوں پنجاب نون لیگ کی بہ نسبت خیبر پختونخوا نون لیگ اپنے کارکن دھرنے میں لے آئی! یہاں بھی واضح رہے کہ بنیادی طور پر یہ کارکن امیر مقام کے زیر اثر علاقوں سے آئے ہیں۔ ویسے بھی خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں نون لیگ بہت پہلے ارذل العمر کی بیماریوں میں مبتلا ہوچکی ہے۔

چنانچہ خلاصہ یہ بنتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کے کارکنوں کو دھرنے کا حصہ بننے نہیں دیا، بالکل اسی طرح جیسے نون لیگ نے پنجاب، بالخصوص لاہور، کے کارکنوں کو بچانے کی پالیسی اختیار کی؛ بلوچستان کی سیاست ہمیشہ سے چوں چوں کا مربہ بنی رہی ہے اور اب بھی وہی کیفیت ہے؛ البتہ خیبر پختونخوا سے ہر بڑی پارٹی نے اپنے کارکنوں کی کچھ تعداد کو دھرنے کا حصہ بنادیا ہے۔ گویا دھرنے کے پیچھے اصل محرک خیبرپختونخوا کی سیاست میں اپنے اپنے حصے کے تحفظ کا احساس ہےاور اصل معرکہ خیبر پختونخوا کے ووٹرز کی حمایت کے حصول کا ہے۔ باقی ملک میں حالات جوں کے توں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دھرنے کے مقاصد کیا ہیں - مسزجمشیدخاکوانی

جمعیت علماے اسلام کے پرجوش کارکنوں سے مخلصانہ اپیل:
ناپسندیدہ تجزیہ برداشت کرنے کی خو پیدا کیجیے کیونکہ اس کا فائدہ دلپسند تجزیے سے زیادہ ہوتا ہے، اگر سمجھیں۔