ترک قومی اسمبلی اور امریکی ایوان نمائندگان

ترکی کی قومی اسمبلی کے عام اجلاس میں امریکی ایوان نمائندگان میں منظور کردہ قرارداد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ "قومی اسمبلی ہونے کے ناتے امریکی ایوان نمائندگان میں آرمینی نسل کشی کے مبینہ الزامات کے تناظر میں کچھ حلقوں کی جانب سے اٹھا گیا ہے.

ترکی کی قومی اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ قرارداد میں امریکہ کے ایوان نمائندگان میں ترکی کے خلاف منظور کردہ قرار داد کی مذمت کی گئی ہے اور اسے مسترد کرتے ہوئے امریکی قرارداد کی کوئی حیثیت نہ ہونے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ترکی کی قومی اسمبلی کے عام اجلاس میں امریکی ایوان نمائندگان میں منظور کردہ قرارداد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ "قومی اسمبلی ہونے کے ناتے امریکی ایوان نمائندگان میں آرمینی نسل کشی کے مبینہ الزامات کے تناظر میں کچھ حلقوں کی جانب سے اٹھا گیا ہے اور متعدد اراکین کی جانب سے اعتراض کرنے کے باوجود اس کی منظوری دے دی گئی ہے جس کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں۔
منظورہ کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سالوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات اٹھائے گئے تھے ہوئے تھے لیکن پہلی بار اسے دشمنانہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ادوار میں جو کچھ تبدیل کیا گیا ہے وہ تاریخی دستاویزات نہیں ہیں بلکہ شرمناک سیاسی ذہنیت اسے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خود ہی تشریح کرتے ہوئے پیش کررہی ہیں ۔

قراداد میں کہا گیا ہے کہ ترکی ہمیشہ اس طرح کے دعووں کا اپنے آرکائیو کھولتے ہوئے دفاع کیا ہےاور اس قسم کے موضوعات پر تبصرہ کرنا اور رائے دینا صرف مورخین کا کام ہونے ہی سے آگا ہ کیا ہےکیونکہ سیاستدان اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہمیشہ ہی جھوٹ کو بنیاد بناتے ہوئے چند ووٹوں کی خاطر حقائق کو جھٹلانے میں مصروف ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان نمائندگان کی ایک دیگر قرارداد میں ترکی میں چشمہ امن فوجی آپریشن کی وجہ سے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی کوششیں بلیک میلنگ کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ترکی کبھی بھی بلیک میلنگ کے ان ہتھکنڈوں کے سامنے اپنے سر نہیں جھکائے گا بلکہ ہم سب مل کر ہر قسم کی دہشت گردی اور تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔