چونی تو لپ سٹک بھی نہیں لگاتی - غلام اکبر

جب بھی آگ جلے گی تو موم پگھلے گا ، یہ ۱۹۵۹ء کی بات ہے.. میں انگریزی ادب میں آنرز کر رہا تھا.. سندھ یونیورسٹی میں ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر جمیل واسطی مرحوم تھے جو پنجاب سے ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر حیدرآباد آئے تھے..

ہماری کلاس میں تقریباً بیس سٹوڈنٹ تھے.. ان میں چھ کے قریب طالبات تھیں.. اس زمانہ میں طالبات انگریزی ادب فیشن کے طور پر پڑھا کرتی تھیں.. ہماری کلاس نے پکنک کا ایک پروگرام بنایا لیکن اس پر اختلاف ہوگیا کہ لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پکنک منانے جائیں یا الگ الگ..؟ یہ معاملہ پروفیسر جمیل واسطی کے علم میں آیا تو انہوں نے رائے دی کہ الگ الگ پکنک کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔"مگر یہاں تو مخلوط تعلیم ہے واسطی صاحب.." ایک لڑکی نے اٹھ کر احتجاج بھری آواز میں کہا..
"میں نے کب کہا کہ میں مخلوط تعلیم کا حامی ہوں..؟" واسطی مرحوم بولے.."سر ! یہ کیسی بات کر رہے ہیں آپ..؟ زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے.." وہ بولی.. واسطی صاحب نے گھوم کر لڑکی کی طرف دیکھا جو ایک معروف , متمول اور فیشن ایبل خاندان سے تعلق رکھتی تھی.. پھر انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا.. "غلام اکبر ! تمہاری جیب میں ایک چونّی ہوگی..؟" اس عجیب وغریب سوال پر میں چونک پڑا اور جلدی سے جیب میں ہاتھ ڈالا.. واسطی صاحب فوراً ہی بولے.. "دروازے سے باہر جا کر چونی کاریڈور میں رکھ دو.."

پوری کلاس حیرت زدہ تھی.. میں بھی حیران ہو کر دروازے کی طرف مڑا تو واسطی صاحب بولے.. "سمجھ لو کہ تم چونّی کلاس کے باہر رکھ چکے ہو.. اب بیٹھ جاؤ.."
پھر واسطی صاحب اس لڑکی کی طرف مڑے اور بولے.. "جب ہم کلاس ختم کرکے باہر نکلیں گے تو کیا وہ چونی وہاں موجود ہو گی..؟" لڑکی بدحواس سی ہو گئی , پھر سنبھل کر بولی.. "ہو سکتا ہے کہ اگر کسی کی نظر پڑے تو اٹھا لے.." اس جواب پر واسطی صاحب مسکرائے اور سب سے مخاطب ہو کر بولے.. "دیکھ لیں کہ جن لوگوں پر ایک چونّی کے معاملے پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا وہ لڑکیوں کے معاملے میں کس قدر شریف ہیں , حالانکہ چونّی بچاری تو لپ سٹک بھی نہیں لگاتی.." واسطی صاحب کی اس بات پر پوری کلاس کو سانپ سونگھ گیا.. میں آج تک وہ بات نہیں بھولا.. اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں دقیانوسی سوچ رکھتا ہوں یا واسطی صاحب بہت زیادہ قدامت پسند سوچ کے حامل تھے لیکن کیا اس بات میں کچھ سچ ایسے نہیں چھپے ہوئے جن کا تعلق براہ راست انسان کی فطرت اور ان جبلتوں سے ہے جنہیں سدھایا اور سدھارا نہ جائے تو ان کی رو میں تہذیب وتمدن کے تمام تقاضے بہہ جایا کرتے ہیں۔