بغیر ٹکٹ کے تماشا- خالد مسعود خان

اس وقت ملک میں ہر چیز پس منظر میں جا چکی ہے‘ سوائے میاں نواز شریف کی صحت اور مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے۔ مسئلہ کشمیر اور حالیہ بھارتی اقدامات پر ویسے تو حکومتی رویہ پہلے ہی دن سے ایک پنجابی محاورے کے مطابق ''شلجموں سے مٹی جھاڑنے والا معاملہ‘‘ تھا‘ لیکن اب تو وہ باقاعدہ نظر انداز شدہ معاملہ لگتا ہے۔

ہم اس سلسلے میں ہفتہ وار قسم کا ''ٹرکائو‘‘ احتجاج کر کے سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم اپنی ذمہ داری پوری کر دیتے ہیں۔ بھارتی طیاروں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود تک تو ہم بند کر نہیں سکے‘ بھلا کشمیریوں کے لیے ہم کیا قربانی دیں گے؟ ہفتوں پہلے غلام سرور خان نے بیان دیا تھا کہ ہم بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ تب سے اب تک کشمیریوں پر جبر و ابتلا کا دور اسی طرح جاری ہے‘ لیکن غلام سرور خان اینڈ کمپنی ابھی تک بھارت کیلئے پاکستانی فضائی حدود بند کرنے پر جاری سوچ بچار سے آگے نہیں نکل سکے۔ بھارت کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش کا معاملہ بھی غالباً غلام سرور خان کی جعلی ڈگری والے کیس جیسی صورت حال اختیار کر چکا ہے‘ جو ایک عرصے تک پاکستانی عدالتوں میں گھومتا رہا تھا۔ سرور خان صاحب کو اللہ جانے یہ کیسی غلط فہمی ہو گئی ہے کہ ہر کیس لٹکانے سے ان کے حق میں چلا جائے گا۔ ہر دو ماہ کے بعد بھارتی وزیراعظم کے طیارے کے لیے پاکستانی حدود سے گزرنے سے انکار کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے کشمیر پر اپنی ذمہ داری پوری کر لی ہے۔

جس طرح گزشتہ دنوں فواد چوہدری نے ایک بیان دیا کہ حکومت تو چار سو محکمے ختم کرنے پر غور کر رہی ہے‘ لہٰذا نوکریوں کے امیدواروں کو اپنی اس امید سے ہاتھ اٹھا لینے چاہئیں‘ گورنمنٹ نوکریاں نہیں دے سکتی‘ اسی طرح میرا خیال ہے کہ مناسب ہوگا‘ کشمیر کمیٹی کے بزرگ چیئر مین سید فخر امام بھی کشمیریوں کو پاکستان کی جانب سے کسی مدد کی لا حاصل امید سے باہر نکالیں اور ان کو صاف صاف بتا دیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ ہر ہفتے جمعہ کے دن مسجدوں میں آپ کے لیے دعائیں کر سکتے ہیں۔ دو چار چوکوں میں کشمیر جاری کرفیو اور لاک ڈائون کا کائونٹ ڈائون کلاک لگا سکتے ہیں۔ زبانی کلامی بیان بازی کر سکتے ہیں‘ اخبار میں خبر لگوا سکتے ہیں اور بس! کشمیریوں کو حق ِخود ارادیت ملنا توایک طرف ‘اگر یہی کام مولانا فضل الرحمن اگلے دس سال بھی کرتے رہیں کہ وہ موجودہ حکومت کے خلاف جمعہ کے جمعہ بددعائیں کریں‘ اس حکومت کی حماقتوں کے کائونٹ ڈائون کے لیے دو چار جگہوں پر کلاک لگا دیں‘ عمران خان اینڈ کمپنی کے خلاف بیانات جاری کرتے رہیں اور اخبار میں خبریں لگوانے تک محدود رہیں تو نہ حکومت کے کان پر جوں رینگے گی اور نہ ہی کوئی ٹس سے مس ہوگا۔

جب ان کاموں سے ہماری حکومت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تو بھلا ایسے ہومیو پیتھک اقدامات سے مودی سرکار پر کیا اثر پڑے گا؟
کیا دنیا میں کسی مسلمان ملک کو ان اقدامات کی بنیاد پر کبھی آزادی نصیب ہوئی ہے؟ آپ ایمانداری سے بتائیں ‘اگر افغان یہی کام کرتے رہتے اور برسوں چھوڑ عشروں کرتے رہتے تو کیا روس افغانستان سے پسپائی اختیار کرتا؟ اگر افغان طالبان صدر ٹرمپ کے خلاف کابل‘ قندہار‘ ہرات اور جلال آباد کی مساجد میں تباہی کی دعائیں کرواتے تو کیا امریکہ افغان مسئلے کے حل کے لیے بے چین ہوتا؟ اگر افغان ہر جمعہ کے دن سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کرتے اور پھر آرام سے گھر واپس چلے جاتے تو کیا امریکہ طالبان سے گفتگو پر آمادہ ہوتا؟ کیا ایسا ممکن تھا کہ افغان امریکہ کے خلاف دھواں دھار تقاریر کرتے اور امریکہ پاکستان کی وساطت سے طالبان سے گفتگو پر مجبور ہو جاتا؟ کیا ایسا سوچا جا سکتا ہے کہ افغان ٹوئٹر اور فیس بُک پر امریکی استبداد کے خلاف زوروں کی مہم چلاتے اور امریکہ افغانستان سے اپنی فوجوں کی تعداد کم کرنے پر غور کرتا؟ کیا یہ کبھی ہو سکتا تھا کہ افغان خواتین اپنے شہداء کے جنازے پر بین کرتیں اور مغرب کا دل پسیج جاتا؟ ایسا ممکن ہی نہیں۔

افغانوں نے ان میں سے کوئی کام نہیں کیا۔ صرف مسجدوں میں دعائیں نہیں مانگیں۔ عورتوں نے شہداء کی میتوں پر بین نہیں کیے۔ مردوں نے جلوس نہیں نکال۔ اقوام متحدہ سے اپنی قراردادوں کو پورا کرنے کے ترلے نہیں کیے۔ انصاف کے لیے منتیں نہیں کیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کسی ''پٹیشن‘‘ پر دستخط نہیں کیے۔ کبھی اپنے ٹوئٹر اکائونٹ بند کرنے کی شکایت نہیں کی۔ کبھی اپنے فیس بُک اکائونٹ پر پابندی کا شور نہیں ڈالا۔ صرف اور صرف زور ِبازو پر بھروسہ کیا ہے۔ بندوق اٹھائی ہے اور شہادت کے ماتھے پر بوسہ دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتا ہے تو ساتھ ہی بیک ڈور پالیسی کے تحت زلمے خلیل زاد کو پتلی گلی سے پاکستان بھجوا دیتا ہے۔ قطر میں برابری کی بنیاد پر مذاکرات ہوتے ہیں اور طالبان وفد کو پورا پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ یہ صرف اس جدوجہد کا نتیجہ ہے ‘جو افغان کر رہے ہیں۔ آزادی کی منزل صرف جدوجہد کے راستے پر چل کر حاصل کی جا سکتی ہے۔ہم نے گزشتہ ستر سال سے خود کو دھوکہ اور کشمیریوں کو ''لارا‘‘ لگایا ہوا ہے‘ بلکہ ایک محاورے کے مطابق‘ کشمیریوں کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔

ہم نے تو کبھی سنجیدگی سے ایسی کشمیر کمیٹی نہیں بنائی ‘جو واقعتاً کشمیریوں کے لیے دنیا میں کچھ کرنے کے قابل ہو۔ فخر امام صاحب توکبیر والہ سے جھنگ بمشکل پہنچتے ہیں اور کشمیر کے لیے دنیا بھر کی اخلاقی اور سفارتی مدد کے لیے حصول کے لیے جو انرجی اور تحرک درکار ہے‘ وہ ان میں جوانی میں بھی کم تھا اور اب تو خیر سے اخروٹ توڑنے سے بھی عاری ہیں۔ گزشتہ ایک عرصہ یہ کمیٹی مولانا فضل الرحمن کے سپرد تھی اور انہوں نے اس کمیٹی کی سربراہی سے پروٹوکول ‘ سرکاری گاڑی‘ سرکاری گھر اور نوکر چاکر کے علاوہ اور کچھ حاصل وصول نہیں کیا۔ کشمیر سے تو انہیں ویسے بھی کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کی بھارت میں ہم مسلکی جمعیت علمائے ہند نے حالیہ کشمیر کرائسس میں جو رول ادا کیا ہے‘ وہ دنیا بھر کے سامنے ہے۔ نہ وہ تحریک پاکستان کا حصہ تھے اور نہ ہی اس تحریک کے نا مکمل ایجنڈے کشمیر سے انہیں کوئی واسطہ ہے۔ انہیں فی الوقت آزادی مارچ کی پڑی ہوئی ہے۔ میں نے چوہدری بھکن سے پوچھا کہ آزادی مارچ‘ جلسہ جلوس اور دھرنے وغیرہ کے بارے میں اس کا کیا اندازہ ہے؟ چوہدری ہنسا اور کہنے لگا: ایک بندہ ریلوے میں بطور کانٹا مین بھرتی ہونے گیا۔

انٹرویو لینے والے نے پوچھا کہ اگر دو ٹرینیں بالکل آمنے سامنے ایک ہی لائن پر آ رہی ہوں تو وہ کیا کرے گا؟ امیدوار نے کہا کہ وہ کانٹا بدل دے گا۔ انٹرویو لینے والے نے پھر پوچھا کہ اگر کانٹا پھنس جائے تو وہ پھر کیا کرے گا؟ امیدوار نے جواب دیا کہ وہ سرخ جھنڈی زور زور سے ہلائے گا ‘تا کہ گاڑیاں رک جائیں۔ اس نے پھر سوال کیا کہ اگر وہ رات کا وقت ہوا تو پھر وہ کیا کرے گا؟ امیدوار نے کہا ؛وہ سرخ لالٹین ہلائے گا۔ انٹرویو والے نے کہا کہ اگر لالٹین میں تیل نہ ہوا تو وہ کیا کرے گا؟ امیدوار نے کہا کہ وہ پھر اپنی پھوپھو کو بلا لے گا۔ انٹرویو والے نے حیرانی سے پوچھا کہ اس کی پھوپھی اس موقع پر کیا کرے گی؟ امیدوار نے کہا: کچھ نہیں کرے گی‘ دراصل اسے ریل گاڑیوں کی ٹکر دیکھنے کا بڑا شوق ہے۔ چوہدری یہ لطیفہ سنا کر کہنے لگا کہ وہ دراصل اس وقت تماش بینی کے موڈ میں ہے اور مفت میں یہ مزا لینے پر تلا ہوا ہے۔ اگر مولانا پٹ گئے تو اسے تب بھی مزا آئے گا اور اگر حکومت کو رسوائی ہوئی تو بھی اسے ازحد خوشی ہوگی کہ اس حکومت نے اسے ''اک نک‘‘ کیا ہوا ہے۔ مہنگائی ‘ بے روزگاری‘ کاروبار میں خسارہ‘ معاشی صورتحال میں ابتری‘ سٹاک مارکیٹ کی بربادی۔ ہر طرف نا اہلی کے کارنامے بکھرے پڑے ہیں۔ اسے ہر صورت میں مزا آئے گااور خاص طور پر جب سارا تماشا بغیر ٹکٹ کے دکھایا جا رہا ہو۔ چوہدری بھکن کہنے لگا: وہ ایک ازلی تماشائی ہے اور اگلے دو چار روز وہ بغیر پیسہ پھینکے تماشا دیکھے گا۔ ایسے مواقع بھلا بار بار کب آتے ہیں؟