دلوں کی باتیں!ارشدزمان

اج ایک محفل میں جو گفتگو سنی وہ حاضر خدمت ہیں۔اللہ تعالی مولانا کو ہمت دے تاکہ عمران خان حکومت جو ایک بڑا عذاب ہے، اس سے عوام کو نجات دلائے۔ اے این پی کارکن عمران خان کی نیت ٹھیک ہے اور یہ پہلا حکمران ہے جو "مدینہ ریاست" قائم کرنے کیلیے کوششیں کررہا ہے۔

تبلیغی کارکندیگر حکمرانوں نے پندرہ پندہ سال حکمرانی کی ہے اس لیے عمران خان کو بھی کم ازکم پانچ سال تو ملنی چاہیے۔ تحریک انصاف کارکن اگر عمران خان کو مذید وقت دیا گیا تو اس ملک کا کباڑا نکالے گا۔ مذید کتنی مہنگائی لانی ہے؟سب کچھ برباد کیا۔ پی پی پی کارکنملک کی بہتری اور عمران خان کی عزت اسی میں ہے کہ وہ استعفی دے دے کیونکہ ان سے جو امیدیں تھی وہ دم توڑگئیں اور وعدے پورے نہ ہوسکے کیونکہ غلط لوگوں نے انھیں گھیر لیا ہے۔ تحریک انصاف نظریاتی کارکن عمران خان اس قوم کا اخری امید ہے، معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ یہ دھرنے بکواس ہے کچھ بھی نہیں ہونے والا۔ یہ سب کچھ چوروں کا واویلا ہے۔ عمران کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ چوروں کو پکڑ لیا ہے۔ تحریک انصاف سیاسی کارکنسابوڑی والا بھی فیل ہوگیا۔ ہمارا خیال تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ ہمارے بچے جو عرب ممالک میں خوار ہورہے ہیں انھیں اپنے ملک میں روزگار اور نوکریاں ملے گی۔ کھانے پینے کی اشیا سستی ہوگی مگر بات تو خطرناک ہے۔ بجلی کا بل،توبہ۔ آٹے کی بوری، استغفراللہ دوائیاں، اللہ کی امانکرائے، تپوس مہ کواکشمیر کا مسلہ، اللہ دی ئے تباہ کی ہم نے پچاس سال میں اتنی بربادی نہیں دیکھی۔میں نے پوچھا بابا،اپ کا تعلق کس جماعت سے ہے؟

بابا نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں تو جماعتی ہوں مگر اس دفعہ ووٹ سابوڑی( بلے) کو دیا ہے۔ بس غلط شوی یو نو۔ مڑا زمونگ سراج الحق خو شہزادہ دے۔ماحول کبھی زیادہ گرم اور کبھی کم گرم رہا کہ تحریک انصاف کے ایک سرگرم کارکن جو میرا چچا زاد بھی ہے نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ ناظم صیب بتاو اپ کا کیا خیال ہے؟ہم نے ہنستے ہوئے گزارش کی کہ خواہش تو ہماری بھی ہے کہ خان کچھ کرکے دیکھائے کیونکہ یہ ملک مذ ید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر بدقسمستی سے کسی بہتری کی کوئی امید نظر نہیں ارہی اور حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے اور دن بدن مایوسیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مگر پھر بھی اسے کچھ مذید وقت دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے تمام پتے کھیل پائے۔ عمران خان حکومت کو سیاسی شہادت دلانا درست حکمت عملی نہیں۔ کونے میں بیٹھے ہوئے نسبتاً ایک نیوٹرل جوان نے فورً لقمہ دیا کہ اپ جماعتی بھی بڑے ہوشیار ہیں۔اپ کا خیال ہے کہ انھیں پورا وقت ملے تاکہ تبدیلی کا کیڑا مکمل طور پر بےحال ہوجائے اور دوبارہ سر اٹھانے کا قابل نہ ہوسکے۔ ہم سمیت سب نے قہقہ لگایا البتہ بعد میں ہم نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ خواہش ہو مگر لفظ کیڑے کے ساتھ ہمارا اتفاق نہیں ہے۔
ایک بزرگ نے فرمایا کہ اللہ تعالی وہی فرمائیں جس میں اس ملک کی اور ہماری بھلائی ہوں۔ہم سب نے کہا، آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */