جوانی سے بڑھاپے کے سفر میں معاشرہ کیسے سپورٹ کرے - ایمن طارق

پیرنٹنگ کو ورکشاپس اور کتابوں سے سمجھنے کا دور ہے ۔ ایکٹویٹی بیسڈ لرننگ مقبول و معروف ہے ۔ مٹیویشنل اسپیکر ز وہ نکتے سمجھاتے ہیں جو پہلے بڑے بوڑھے سمجھاتے تھے ۔ مقابلہ کی فضا ہے کیونکہ ہر ایک دوسرے سے بہترین پروڈکٹ مارکیٹ میں لے کر ارہا ہے ۔

انوکھے اور جدید طریقوں سے مارکیٹنگ کی جاتی ہے ۔ چمکتے دمکتے ، جوان جوشیلے ، نیا سوچنے اور نئے انداز میں بات کرنے والے مقبول ہیں ۔ خاندان کے بڑے بوڑھوں سئینر سٹیزنز کی نمائشئ اہمیت رہ گئ ہے کیونکہ ان کے دور میں برتے جانے والے سارے طریقون ، انداز تعلیم و تربیت پر سوال اُٹھتا ہے ۔ پرانے طریقے کہہ کر اُنہیں ریجکیٹ کرنا آسان بن گیا ہے ۔ جو عقل و دانش پہلے خاندانوں کے بڑے سمجھاتے تھے آج وہی مہنگی فیس دے کر ورکشاپ یا کورس میں سمجھی جاتی ہیں ۔ بچے جو کہانیاں دادا دادی سے نانا نانی سے سنتے تھے وہ یا تو یو ٹیوب سے اپنے آئ پیڈ کی مختلف apps سے یا اسٹوری ٹیلنگ سیشن میں جا کر سنتے ہیں ۔ بڑے بوڑھے بچوں کو چھپا چھپا کر چاکلیٹ ٹافی دیتے تھے اس پر بھی ماں باپ نے جنک نہ کھانے کی پابندی عائد کر دی ۔ تو پھر جوانی سے بڑھاپے کی طرف سفر کرنے والے اور گہما گہمی اور مصروفیت کی زندگی جو گزاری اس کے ختم ہونے کے بعد اس فراغت کی زندگی میں ہمارے بڑے کیا کریں ؟؟ رئٹائرمنٹ کے بعد ہمارے سئینر سٹیزن خود کو کیسے مصروف رکھیں ؟ ۶۰/۷۰/۸۰ کی عمر کو پہنچ جانے والے بزرگوں کے لیے ہم اپنے پاکستانی معاشرے میں ایسا کیا کریں کہ وہ بڑھاپے کی تنہائی اور فراغت سے گھبرا کر ڈپریشن اور منفیت کا شکار ہونے سے بچیں ۔

اس کے لیے کوئی جادوئی نسخہ تو نہیں لیکن مغربی معاشرے میں صبح شام یہ جوان بڑھاپا دیکھ کر بات بار اپنے بزرگ یاد آتے ہیں ۔ جوان بڑھاپے سے مراد ہے کہ عمر کے لحاظ سے ۶۰ سے اوپر ہو جانے والے افراد کا جوانی کی زندگی میں کیے جانے والے سارے کاموں میں خود کو انوالو رکھنا ۔ آج ہی تذکرہ کیا ایک اور پوسٹ میں کہ ۶۰ سالہ خاتون جن کو رعشہ کا مرض تھا ۳۰/۳۵ بچوں کے ساتھ اسٹوری سیشن کنڈکٹ کروا رہی تھیں ۔اب اگر یہ مثالیں دیکھ کر ہم کہیں کہ بھئ ہمارے ہاں تو حکومت کی طرف سے سئینر شہریوں کے لیے کوئی سہولت نہیں تو اس بیچارگی اور بے بسی کے احساس کے ساتھ کچھ بھی کرنا مشکل ۔ خود بڑھاپے کی اسٹیج پر پہنچنے والے افراد کا خود کو ناکارہ اور کسی کے لیے اہم نہ ہونا والے احساس کو ختم کرنا تو ضروری ہے ہی اور خود کو ویلیو ایبل سمجھ کر اپنے لیے راستے ڈھونڈنا ۔ لیکن اس کے ساتھ تعلیمی اداروں کو سماجی اداروں کو اپنے سئینر شہریوں کے لیے ایسے تعلیمی پروگرام مرتب کرنا کہ جہاں آکر وہ اپنے علم و تجربہ سے نوجوانوں کو اسکولوں کے بچوں کو فیض یاب کر سکین ۔ ہماری امی نے سنا تو کہنے لگیں کہ ہم بھی ایسا سیشن کرو سکتے ہیں اور واقعی یہ جو ہمارے والدین ، ساس سسر ، اس پاس کے سمجھدار بڑے ہیں یہ ہمیں واقعی بہت فائدہ پہنچا سکتے ہیں .

یہ بھی پڑھیں:   خدارا! اپنے بچوں کو سمجھیں - عبدالباسط ذوالفقار

اگر ہم اس نئ بدلتی دنیا کے نۓ نۓ تعلیمی و تربیتی طریقون میں ان کی خدمات سے استفادہ کر لیں ۔ مثال کے طور پر انفرادی خاندان کی سطح پر پر دادی کی کہانی سیشن میں اردگرد کے بچوں کو بھی بلا لیا جاۓ ۔ اردگرد کچھ کشن اور ڈیکوریشن سے ماحول بنا دیا جاۓ ۔ دادی کو تھوڑا ایکسپریشن سے اسٹوری سنانے کے دو چار طریقے ھلکے پھلکے بتا دیے جائیں ۔ اور ایک اچھا سا اسٹوری ٹیلنگ سیشن ہو جاۓ ۔ بچے بھی والدین کی اس محنت سے اپنے بڑوں کی اہمیت سمجھیں گے اور اینجواے کریں گے ۔ تعلیمی اداروں میں بھی اسی طرح سئینر شہریون کی خدمات سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے ۔ ان کے لیے سیشن ارینج کیا جاۓ اور تھوڑی سی ٹریننگ دے کر ان سے اسٹوری ٹیلنگ سیشن کرواے جائیں ۔ یہاں تک کہ وہیل چیر پر بیٹھے افراد بھی یہ کام کر سکتے ہیں ۔جیسے ہمارے اسکول میں ابھی کچھ نانا اور دادا کو بلایا گیا جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کی اپنی یادیں شئر کیں بچون سے ۔ اسی طرح جو خاندان پڑھے لکھے سمجھدار ہیں یا مختلف کمیونٹی گروپس اپسمیں مل کر ایسے آئیڈیاز سوچیں جن سے ہمارے بوڑھے ہمارے معاشرے کا متحرک فرد بن سکیں ۔کم سرمائے سے اپسمیں مل کر ایسی بہت سی تجاویز پر کام کیا جا سکتا ہے ۔ انشاللہ کچھ عرصے میں شئر کرتے ہیں کہ وہ تجاویز کیا ہو سکتی ہین ۔ آج اس سوچ کو منتقل کرنا مقصد تھا ۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.