اک اور سیاہ باب - نسیمہ ابوبکر

سلطنتِ مغلیہ کے انحطاط اور دہلی کی تباہی کے بعد ہڈسن نے مغل شہزادوں کو جمع کیا ، انکے شاہی لباس اتروا کر انکے سر قلم کر دیے۔اور پھر غصّے میں ان شہزادوں کے خون کا اک چلو ہڈسن نے پیا اور کہا ” اگر میں یہ خون نہ پیتا تو میرا دماغ خراب ہوجاتا ”۔

کچھ ایسی ہی بازگشت ہے جو حکومتِ وقت کے بیانات میں سنائی دیتی ہے اور انکا اخلاقیات سے گرا ہوا منتقمانہ اور متعصبانہ رویّہ اسی نفرت کی عکاسی کرتا ہے۔ کبھی کبھی ایک فرد کا خون قوم کے لئے اتنا بھاری ہوتا ہے کہ انکی آئندہ آنے والی کئی نسلیں اسکا کفّارہ ادا نہیں کر پاتیں۔ حضرت عثمان غنی رضی الّٰلہ عنہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلّم کے محبوب صحابی، امّتِ مسلمہ کے مظلوم ترین خلیفہ اور شہید - جو سازشوں اور اندھی بغاوت کا شکار ہو کر بے دردی سے شہید کر دئے گئے؀اس ایک مظلوم فرد کے خون نے قیصروکسرٰی کی عظیم الشّان سلطنتوں کو فتح کرنے والی،عروج کی بلندیوں کو چھوتی امّت کو نکت وادبار کی پستیوں میں پہنچادیا .
حضرت عثمان غنی رضی اللّہ عنہ کا خون امّتِ مسلمہ میں خانہ جنگی کے اس دور کا آغاز تھا کہ اس کے بعد امّت اپنا عروج و وقار،اور وہ اتفاق والتفات دوبارہ نہ حاصل کر سکی۔ ۰لیاقت علی خان سے نواز شریف تک؀پاکستان کا کوئی بھی وزیرِاعظم اپنی حکومت کا دورانیہ مکمل نہیں کر سکا .

لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد سازشوں کے جال نے پورے پاکستان کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا کہ کوئی سرا سلجھتانظرنہیں آتا ۔ سیاسی اختلافات سے قطع نظر، بھٹو کی شخصیّت اور سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے؀مگر بھٹو کے خون سے سندھ کے سیاسی زوال کی وہ بنیاد پڑی جس نے روشنیوں کے شہر کراچی کو تاریکی میں دھکیل دیا؀ذوالفقارعلی بھٹو جیسے منظورِنظر اور مضبوط ، منتخب وزیراعظم کا خون پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ باب تھا کہ پھرکوئی چراغ کراچی کی سیاہی کو دور نہیں کر پاتا۰۰۰ بالکل اسی طرح نواز شریف کا خون پنجاب کے زوال کا آغاز ہوگا ۔ نفرت اورخانہ جنگی کے سلسلے کی نئی شروعات .اورپاکستان کی سیاہ تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ۰۰۰ تنگ نظری ،کم ظرفی اور احسان فراموشی جس قوم کا طرّۂ امتیاز بن جاۓ - اور بقول طلعت حسین صاحب “جس قوم کے لئے عزّت و وقار، عزم وبہادری ، اور ایثاروقربانی جیسے الفاظ صرف بوجھ بن کر رہ جائیں”وہ اس انجام کی مستحق ہے؀دوسروں کی کمزوریوں کا مذاق بنانا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے اور مکافات ہمارا مقدّر۰۰۰مقدّر قوم کا لکھتے ہیں وہ معجز نما لمحے - جو صدیوں کے آگے سر اٹھا کرمسکراتے ہیں