مستقبل کے معمار ہورہے ہیں خوار - لطیف النساء

کسی بھی معاشرے میں نوجوان طبقہ کافی متحرک فعال اور معاشرے کے مستقبل کے معمار ہو تے ہیں ۔ کالج لائف بہت مئوثر اور تما م تر خوابوں سے آراستہ کافی تیزی سے ایک مستقبل کاٹارگٹ لئے آ گے بڑھتی ہیں اور ان کے والدین اور متعلقہ افراد اساتذہ اور دیگر بہن بھائی بھی ان کی طرف ایک خوش آئند امید لئے ان کی ہر دم مدد کرنے کے لئے اپنی اپنی خدمات پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔

قوم کے یہ بچے ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں ان کا ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے جتنے انرجیٹک اس لائف میں ہوتے ہیں اتنے ہی اپنی مستقبل کے بارے میں سنجیدہ بھی ہوتے ہیں ۔ میرٹ پر آنے والے اور درمیانی نمبروں اور ڈی گریڈ والے سب ہی حسین خواب سجائے کہیں نہ کہیں اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلے کے کوشاں ہوتے ہیں ۔ N.E.Dکی کلاسز شروع ہوچکی ہیں جبکہ دیگر شعبہ جات خاص کر میڈیکل سے دلچسپی رکھنے والے طلباء و طالبات اب تک خوار ہو رہے ہیں کیوں ؟ یہ ہزارہا مسائل کا شکار ہیں اور کافی کنفیو ز ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ بھی اس بے چینی کا مستقبل شکار ہیں ۔ NTSنیشنل انٹری ٹیسٹ دینے والے ایک طویل جدوجہد اور حیرت انگیز مراحل سے گزر کر بڑی تیاری کرکے NTSدیتے ہیں اس سے پہلے فارمز لینے اور ٹیسٹ فیس جمع کروانے کے کٹھن مراحل سے گزارتے ہیں آج ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ٹیسٹ دیئے ہوئے ابھی تک میرٹ لسٹ نہیں لگائی گئی اور اس طرح نہ صرف طلبا ء و طالبات بلکہ ان کے متعلقین کی زندگیاں بھی اجیرن بنی ہوئی ہیں ۔

D.M.C میں جب 1000روپے فارم فیس اور2000 روپے ٹیسٹ فیس لیکر جب ٹیسٹ لیا جا ئے تو پھر بچوں کی سہولیات اور وقت کا بھی ویسے ہی خیال رکھنے کی ضرورت ہے . ان کی بے چینی اور مطلوبہ شعبہ جات میں پہنچنے کے لئے انہیں ادھر ادھر کے دھکے کھانے پڑتے ہیں ۔ جب ہفتہ دو ہفتے میں میرٹ لسٹ لگ جائے تو باقی طلبا ء و طالبات کو تعلیمی معیار اور گریڈ کے مطابق K.U کے دیگر شعبہ جات میں فارمیسی کے سارے دیگر شعبہ جات اور بی۔ایس۔سی وغیرہ میں خود بخود نام چلے جانے چا ہئیں ۔ جن کو جہاں جانا ہے صرف درخواست دے دیں اور تاریخ مقرر کرکے ان کے مطلوبہ شعبوں میں داخلے اور آسان بنانا چاہئے یہ کیا کہ ہر جگہ ہزاروں رو پے کے فارمز لیں بلکہ خود کمپیوٹر سے نکلوائیں اور فیسیں بھی خود مقررہ بینکوں میں جمع کرکے اسٹیمپ سیل لگوا کر دوبارہ کمپیوٹر کے ذریعے جمع کئے جائیں ۔ پھر اکثر متعلقہ افراد گائیڈ بھی صحیح طرح نہیں کرتے ۔ اس طرح طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ والدین اور متعلقہ افراد کو کتنی تکالیف دی جارہی ہیں .

یہ بھی پڑھیں:   سوال کرنے کی ہمت - قادر خان یوسف زئی

اس کا کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ یہ مراحل کتنے خوار کرنے والے اور قابل افسوس ہیں ۔ مستقبل کے ابن معماروں کے لئے خوش آئند ہونے کے بجائے مایوس کن اور انتہائی کوفت کا باعث ہیں بلکہ اب تو دن بدن ان مشکلا ت میںا ضا فہ ہی ہوتا جا رہا ہے ۔ پھر سندھ بورڈ اور اے لیول ۔ او لیول والوں کے بچوں کو بلا تفریق N.T.S میں شامل کر لینا ایک الگ مسئلہ ہے ۔ بے قاعدگی اور عدم توازن کا غیر مساوی معاملہ ایک اور بے چینی کا باعث ہے جس سے مایوسی جنم لیتی ہے کیونکہ ان کے لیولز اور معیار سے دیگر بچوں کے معیار میں تھوڑا نہیں کافی فرق آجاتا ہے اور سیٹ لینا مزید دشوار ہو جاتا ہے اور وہی ذہنی کوفت ہوتی ہے ۔ اس طرحP.M.D.C کونسل کے نئے قوانین NTS کے بعد ادارے پر کسی اور نے قبضہ کرکے NTS کے قوانین کو نہ مان کر مزید مزید مسا ئل دے گئے ۔ فارمز جمع کرنے کے سلسلے میں بھی کوئی سہولت نہ دی گئی بلکہ مخصوص برانچ کرکے لوگوں کو خوار کیا گیا ۔ دونوں اسٹیٹ کی خواہش رکھنے والوں کے لئے ایک ہی فیس میں ہو سکتی تھی ۔

اس طرح بچوں پر بہت زیادہ اخراجات آجاتے ہیں ۔ ہر جگہ کی فیس ، فارمز، فوٹو اسٹیٹ ، تصاویر کرائے اور وقت کی ڈیمانڈ کو پورا کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے الگ الگ چارجز دینا تقریباً مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوجاتاہے پھر سونے پہ سہاگہ گا ئیڈ کرنے والے بھی سر پھرے صحیح سے ہمدردی اور پیار سے مستقبل کے ان معماروں کو اچھی طرح گائیڈ نہیں کرتے بلکہ اپنے روکھے رویئے اور معلومات نہ دے کر آگ لگا دیتے ہیں . اس طرح ان کو ادھر ادھر رولاتے پھرتے ہیں ۔ اسطرح کی صورتحال میں طلبا ء و طالبات اوروالدین مسلسل دبائو کا شکار ہوتے ہیں مستقل خوا ر ہو کر بے چارے بچے کچھ مایوس ہو جاتے ہیں ، کچھ میدا ن چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں اور کچھ تو صاحب حیثیت لوگ ملک ہی چھوڑ کر باہر ایسے پڑھنے جاتے ہیں کہ ہمیشہ کے لئے اپنے خاندان اور ملک کو پرا یا کر جاتے ہیں ۔ ان سب کو تو صحیح معنوں میں سہولیات دیکر یکساں مواقع دیکر خوشی کے ساتھ ان کے رجحان کے مطابق خوشی خوشی اعلیٰ تعلیم کے مواقع دیکر تعلیم کی کی طرف را غب کر نا چاہئے ، حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔

یہ بھی پڑھیں:   اساتذہ کے اوقات ایک ٹینشن - لطیف النسا ء

اپنی بے پناہ سہولیات اور بہترین قیادت کے ساتھ رہنمائی دینا چاہئے ورنہ تو ان کو دھتکارنے کے برابر کام ہو تے ہیں ہمارے ملک میں ویسے ہی بچے اس لیول تک آتے آتے آدھے سے بھی کم رہ جا تے ہیں ۔ اسے میں تو انہیں وظائف اور سہولیات دیکر حو صلہ افزائی کے ساتھ آگے آنے دینا چاہئے تا کہ مستقبل کے ان معماروں کو مستقبل روشن ہو وہ اپنے ہی ملک کے لوگوں کو اپنی خدمات پیش کریں اور علم کا دینیوی اور دنیا وی فریضہ احسن طریقے سے پورا کریں ۔ماشاء اللہ ہمارے بچے بڑے صابر اور حوصلہ مند ہیں اپنے حالات سے واقف ہیں محنت کرنا چاہتے ہیںبا عزت معتبر پیشے اپنانا چاہتے ہیں ۔ ضرورت ہے تعاون کی ہر کسی کے تعاون کی حکومتی اداروں ، اساتذہ، والدین ،و یلفیئر ادارے اور مخیر حضرات جو اپنا رول ادا کر رہے ہیں مگر مزید توجہ اور دلچسپی کی ضرورت ہے ۔

ان بچوں پر سرمایہ کاری کریں یہ ہی ہمارا مستقبل ہیں ہر جگہ ہر وقت انہیں کی ابیاری ہم سب پر فرض ہے ۔ ورنہ ہم انکے اور آنے والے مستقبل کے لئے ہمیشہ فکر مند اور غیر مطمئن رہیں گے ۔ میری حکومتی اداروں سے التجا ہے کہ ملک کے اس عظیم سرمایے کی قدر کریں کہ یہ ستارے اپنے ملک ہی میں نہیں دونوں جہاں میں سدا چمکتے رہیں ۔ (آمین)