وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے - بنتِ سحر

وہ محمد ص تھے ، وہ رحمت للّعالمین تھے۔ اور تاریخ کی نگاہوں نے اس رحمت کے بے شمار مناظر دیکھے۔ ساتھیوں پہ شفقت تو تھی ہی مگر دشمن نے بھی اس شفقت کی شیرینی کو چکھا۔ ان کو فتح مکہ جیسی عظیم فتح کے بعد بدترین دشمنوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے دیکھا گیا۔

دشمن بھی وہ جس نے زبان سے اور ہاتھ سے اذیت دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ۔ جس نے ہر دم ان کو جھٹلایا ۔ ان کی تحقیر کی ۔ ان کو طائف کی گلیوں میں لہولہان کردیا۔ لیکن محمد ص نے ان کو معاف کردیا کہ وہ تو سراپا رحمت تھے۔ وہ محمد ص تھے۔ ان کو اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز کیا گیا۔ حضرت عائشہ رض نے ان کے اخلاق کو قرآن کا چلتا پھرتا نمونہ بتایا۔ انس رض غلام تھے مگر کہتے ہیں مجھے کبھی سخت الفاظ نہ کہے۔ صحابہ رض نے ان سے کبھی کوئی ایسی بات نہ سنی جو ان کے اخلاق سے ہٹ کر ہو۔ وہ محمد ص تھے۔ وہ صبر کی عملی تصویر تھے۔ ان کی زندگی کے مصائب کا مقابلہ ہم اپنی زندگیوں سے نہیں کرسکتے۔ ان کو ان کے خونی رشتوں نے تنہا کردیا۔ ان کو ان کے عزیز لوگوں کے حوالے سے اذیتیں دی گئیں ۔ ان کی دعوت کو بارہا ٹھکرایا گیا۔ مکے کی گلیوں میں ان کو مجنوں مجنوں پکارا گیا۔ ان کی ہجو لکھی گئی۔ مگر وہ صبر کرتے گیے۔ وہ محمد ص تھے۔ وہ داعیٔ دین تھے۔ وہ دین کی دعوت دینے کے لیے میلوں چلے اور پہروں تھکے۔ وہ راتوں کو اٹھ کر بخار کی حالت میں قافلے والوں کو دعوت دینے چلے گۓ۔ وہ طوفان کے عالم میں ابو جہل کے دروازے پہ رب کا ہیغام لے کے پہنچ گۓ کہ شاید اس وقت اس کا دل نرم ہو۔ ان کا عمل بولتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 8 )

دشمن ان کے اخلاق کا قائل تھا۔ ان کے کردار پہ دشمن بھی تہمت نہ لگا سکا۔ وہ صادق اور امین تھے۔ وہ جس معاشرے میں دعوت کا کام کرتے تھے وہ معاشرہ ان کے ’اخلاق’ سے متاثر تھا۔ وہ محمد ص تھے۔ وہ ایک اجتماعیت کے امیر تھے ۔ ان کا قول حکم کا درجہ رکھتا تھا۔ ان کا عمل ہی تربیت تھا۔ ان کا اسوہ بن کہے قابلِ تقلید تھا۔ ان کا دل بے انتہا نرم تھا۔ وہ درگزر فرمانے والے تھے۔ ان کا ہر کارکن سمجھتا تھا کہ وہ مُجھ ہی سے سب سے زیادہ محبت فرماتے ہیں۔ وہ حکمت اور دور اندیشی والی قیادت تھے۔ وہ وقت سے پہلے آنے والے فتنے کا سد باب کرنے کے لیے اپنے اصحاب کو تیار کرتے تھے۔ وہ محمد ص تھے۔ وہ عظیم جنگجو تھے۔ وہ قلیل سازو سامان مگر مضبوط قوت ایمانی والے لشکر کی تربیت کرنے والے سالار تھے۔ جرات کا وہ عالم کہ وہ تیروں کی بارش اور تلواروں کے ساۓ میں بھی نمازیں ادا کرتے رہے۔ وہ جرات اور استقامت کے ساتھ حکمت سے بھی نوازے گۓ تھے۔ وہ محمد ص تھے۔ وہ نرم دل تھے۔ وہ رشتوں کو نبھانے میں بہترین تھے۔ وہ اپنی بیٹیوں کے لیے جگہ خالی کردیا کرتے تھے۔ وہ اپنی ماں کے بہترین بیٹے تھے۔ وہ اپنی رضائی بہن کی آمد پر جگہ سے اٹھ جایا کرتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کو کھیل دکھانے کے لیے گھنٹوں کھڑے رہ سکتے تھے۔

وہ خدیجہ رض کی وفات کے بعد بھی ان کی سہیلیوں کی آؤبھگت کیا کرتے تھے۔ وہ محمد ص تھے۔ وہ رشتہ داروں، دوستوں، غلاموں، بیواؤں، یتیموں ،ہمسایوں حتیٰ کہ دشمنوں کے حقوق پورے ادا کرگۓ۔ کسی کا کوئی حق انکے ذمہ واجب الادا نہ تھا بلکہ ہر ایک ان کا مقروض تھا۔ وہ محمد ص تھے۔ وہ پیغمبر تھے۔ اُن کو شرک، جہالت ، بدامنی، بداخلاقی، بدکرداری اور ظلم مٹانے کے لیے مبعوث کیا گیا۔ اور اُن کے وصال کے بعد سے یہ فریضہ ان کی امت کی جانب منتقل ہو گیا یے.. کہ وہ خاتم النبیین تھے__!!! اور___وہ محمد ص تھے۔ وہ نبی مہربان تھے۔ وہ تو ہمارے محسن تھے۔ وہ ہمارے لیے راتوں کو اُٹھ کر روتے رہے۔ ہمارے لیے اذیتیں اٹھاتے رہے۔ مگر ہمیں دین پہنچا گۓ۔ حتیٰ کہ قیامت کے روز بھی کہ جب ہر جگہ نفسی نفسی کی آواز ہو گی، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم "اُمتی اُمتی" کہہ کر ہمارے لیے دعا کریں گے۔ ہمارے لیے فکر مند ہوں گے۔ وہ محمد ص تھے۔ وہ سب سے زیادہ محبت کے حقدار ہیں۔ ہمارے ہر رشتے سے زیادہ وہ ہماری محبت کے حقدار ہیں۔ آئیے ہم پیارے نبی ص کے اسوہ کو اپنی زندگی کا رول ماڈل بنالیں ۔ اور ان کے مشن کی خاط خود کو کھپا لیں تاکہ کل ان سے حوضِ کوثر پہ مسرتوں اور لذتوں والی دنیا میں ملاقات ہو۔ آمین