راہیں - حبیب الرحمن

دریاؤں پر بند تعمیر کئے جاتے ہیں تاکہ پانی کا رخ اس جانب موڑا جائے جہاں اس کا ذخیرہ کیا جانا مقصود ہو۔ جہاں پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے اس کو ڈیم کہا جاتا ہے۔ دریاؤں کے رخ کو موڑ کر پانی ان ڈیموں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ پانی کے اخراج کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا جائے بلکہ ذخیرہ کی جانے والی مختص جگہ (ڈیم) میں پانی زیادہ آنا شروع ہوجائے تو پانی کی سطح کو بر قرار رکھنے کیلئے ڈیم کی وہ گزرگاہیں جو پانی کے اخراج کیلئے بنائی جاتی ہیں۔

ان کو ایک قائدے کلیے کے مطابق کھول دیا جاتا ہے تاکہ پانی کی سطح اتنی بلند نہ ہوجائے کہ وہ ڈیم کے بندوں سے چھلکنے لگے اور تعمیر کئے گئے مضبوط سے مضبوط پشتوں کو بھی توڑ کر ڈیم اور ڈیم سے ملحقہ آبادی کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے۔ یہ بات اس بات کی غماز ہے کہ کسی بھی معاملے میں پابندیاں کسی ایک حد تک تو قابل برداشت ہو سکتی ہیں لیکن حد سے بڑھ جائیں تو وہی پابندیاں جو سود مند ثابت ہو رہی ہوتی ہیں، اپنی حد سے باہر ہوجانے پر تباہ و بربادی کا سبب بن جاتی ہیں۔
سنہ 74-73 کی بات ہے، میں بہاولپور کی ایک نو تعمیر کالونی (وحدت کالونی) میں قیام پذیر تھا۔ اگر وحدت کالونی سے فرید گیٹ کی جانب جایا جائے تو بائیں ہاتھ کی جانب ایک کنٹومنٹ رہائشی کالونی پڑتی ہے جس کے درمیان سے ایک چھوٹی سی سڑک گزرتی تھی۔ اس سڑک سے ہلکی سواریاں وغیرہ گزرکر دوسری جانب جا سکتی تھیں۔ یہاں سے گزرکر جانے کی وجہ سے ہر سواوری کا دو ڈھائی کلومیٹر کا راستہ بچ جایا کرتا تھا۔
ایک دن میں نے فرید گیٹ جاتے ہوئے دیکھا کہ بڑے راستے پر دیوار چن دی گئی ہے اور اب صرف پیدل چلنے والے یا موٹر سائیکل اور سائیکل سوار ہی وہاں سے گزر سکتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد میں نے اس جگہ کو اتنا تنگ پایا کہ بصد مشکل پیدل چلنے والا ہی گزر سکتا تھا۔ دوڈھائی ہفتے بعد اس راستے پر بھی دیوار چن دی گئی اور اس کے سوکھنے تک مسلح دستے کو بٹھا دیا گیا۔ پہرہ اٹھنے کے ٹھیک تیسرے روز میں نے اس راستے سمیت رہائشی کالونی کی دیوار کو تین چار مقامات سے منہدم پایا۔

وہ کونسا دور ہے جب ذرائع ابلاغ اور لوگوں کی نقل و حرکت پر قدغنیں لگتی نہیں دیکھیں۔ کب ایسا نہیں ہوا کہ حقائق بیان کرنے والوں پر زندگی تنگ نہ کی گئی ہو اور کب ایسا نہیں ہوا کہ اخبارات میں خبروں کی بجائے قینچیوں کو چھپتے نہ دیکھا ہو۔ دور کوئی سا بھی رہا ہو، ہر طاقت کا رویہ ایک ہی جیسا دکھائی دیا ہے کیونکہ طاقت اپنے متعلق کسی بھی شکایت کو سننا گوارہ نہیں کیا کرتی اور جو لفظ اس کی زبان سے ادا ہوجائے، اس کو درست نہ کہنے والا زمین پر رہنے کے قابل سمجھا ہی نہیں جاتا۔ یہ تماشہ آج کا نہیں، زمانہ جاہلیت سے تا حال یہی تماشہ لگا ہوا ہے اور قیامت تک یہ تماشہ ممکن ہی نہیں کہ ختم ہو۔ فراعین کے دور سے لیکر، نام نہاد جمہوریت کے دور تک وہی ایک سوچ ہے جو انسانوں کے ذہن ہی میں نہیں، اس کے روئیں روئیں تک یوں سرائیت کر گئی ہے کہ اس کا زہر لہو کے ایک ایک قطرے میں جیسے اتر کر رہ گیا ہو۔
کل کے دور کے حاکم وقت اپنی مخالفت میں ایک لفظ سننا گوارہ نہیں کرتے تھے اور آج کے دور میں اپنے آپ کو اظہار رائے کی آزادی کے چمپین کہلانے والے بھی یہ کب گوارہ کرتے ہیں کہ کوئی لب ان کی مخالفت میں کھلے، اس لئے کہ آزادی کی آڑ لئے وہی سب بھیانک چہرے ہیں جو ابلیس نے بولہب و بو جہل کی صورت میں انسانوں میں برپا کر دیئے ہیں۔

پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا، وہ اسلام جو ہر فرد کو ایسی آزادی دیتا ہے کہ امیرالمومنین بھی مجبور ہوتا ہے کہ وہ ایک بدو کے سوال کا جواب دے اور امیر سے سوال کرنے والا یا اس پر تنقید کرنے والا کسی بھی قسم کی ظالمانہ رد عمل سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھے، بد قسمتی سے نہ تو ملک میں اللہ اور اس کے رسول کا نظام نافذ ہو سکا اور نہ ہی آزادی اظہار کے چمپین کہلائے جانے والے حکمران لوگوں کو بولنے کا حق دے سکے۔ اس پاکستان میں یہی دیکھا گیا کہ ہر جانب یا تو بولنے والوں کے گلے گھونٹے گئے یا حق گوؤں کیلئے دار و رسن سجائے گئے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ہر فرد و بشر کو اونٹ کی طرح بے نکیل اور گھوڑے کی طرح بے لگام ہونا چاہیے اور نہ ہی آزادی کا مطلب مادر بدر آزادی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی دین، دھرم یا مذہب یا خود اسلام، انسان کو کسی بھی طور بے لگام نہیں چھوڑتا بلکہ اس کے اختیارات، خوشیوں، غموں اور دکھوں کے گرد کچھ حدود قائم کرکے اسے ان حدود کے اندر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ڈیموں کو صرف اس لئے تعمیر نہیں کیا جاتا کہ دریاؤں کا رغ موڑ کر اس میں پانی ذخیرہ کیا جائے بلکہ اس میں پانی کے اخراج کا راستہ بھی لازماً رکھا جاتا تاکہ حدود سے زیادہ پانی خود اس کی اور اس سے ملحقہ آبادی کی تباہی کا سبب نہ بن جائے۔

مجھے صرف ایک سوال کا جواب چاہیے اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی ملک میں لگائی جانے والی حد سے زیادہ پابندیاں اس کے اپنے ملک اور عوام کے حق میں کسی اچھے نتیجے کا سبب بنیں یا تاریخ نے ایسی سلطنتوں، ریا ستوں، بادشاہتوں، جمہویتوں یا آمریتوں کا قلع قمع کرکے رکھ دیا۔ دور مت جائیے، پاکستان میں کیا بے جا پابندیاں کسی بھی حکومت کے حق میں گئیں یا جب جب بھی پابندیوں کے بند ٹوٹے یا توڑے گئے تو پابندیاں لگانے والی حکومتیں تنکوں کی طرح نہیں بہہ گئیں۔ ایوب خان، یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیا الحق، اور پرویز مشرف قصہ ماضی نہیں بن گئے۔ کیا جمہوری دور کے نواز، بے نظیر اور اب خود عمران خان اسی بے جا پابندیوں کے طوفانِ بلا خیز میں گھرے نظر نہیں آ رہے۔
یاد رکھیں کہ ہر فردو بشر ایک حد تک پابندی کو برداشت کر سکتا ہے جب تک وہ آخری حد جو اس کی برداشت کی حد کو توڑ کر نہ رکھ دے، کھلی رہتی ہے تو مملکت ہو یا کوئی بھی نظام، قائم رہتا ہے اور لوگ اس امید پر کہ کبھی تو اس کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں گی، آخری حد کو بھی سہنے کیلئے تیار و آمادہ ہوجاتا ہے لیکن جب ایک گزرگاہ کو اتنا بھی نہ رہنے دیا جائے کہ اس میں سے پیدل چلنے والا بھی نہ گزر سکے تو پھر سر پھرے صرف اتنی ہی جگہ نہیں بناتے کہ خود گرز کر اس پار جا سکیں بلکہ وہ بپھرے ہوئے دریا کی طرح دیواروں اور بندوں کے سارے حصاروں کو توڑ دیا کرتے ہیں۔

ہر دور میں عوام سے یہی کہا جاتا ہے کہ ہم ان کے حقوق دلائیں گے، ان کیلئے آسانیاں فراہم کریں گے، ان کے ہر قسم کے حقوق بحال کریں گے، ان کو اظہار خیال کی مکمل آزادی ہوگی اور وہ حکمرانوں کے کسی بھی غلط کام اور پالیسی پر کھل کر بات کر سکیں گے لیکن تخت حکومت پر بیٹھتے ہی وہ اپنے سارے قول و قرار سے پھر جاتے ہیں اور انھیں ہر وہ فرد جو ان کے خلاف لب کشائی کرتا دکھائی دیتا ہے، زہر لگنے لگتا ہے۔
موجودہ حکومت تو آئی اسی سارے ایجنڈے کے ساتھ تھی لیکن یہ اپنے سارے سابقین سے کئی گناہ زیادہ آمرانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ میڈیا جتنا اس دور میں پابندیوں کا شکار نظر آرہا ہے، اتنا پابند سابقہ فوجی دور میں بھی نہیں تھا۔ اخبارات ہوں، رسائل ہوں یا نام نہاد آزاد چینلز، سارے کے سارے اس بری طرح پابندیوں میں جکڑے نظر آرہے ہیں جو کسی بھی دور میں دکھائی نہیں دیئے۔

میں صرف موجودہ حکومت سے اتنا ہی پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ان کی لگائی جانے والی یہ پابندیاں، بولنے والوں لبوں پر لگائے جانے والے تالے یا آوازیں بلند کرنے والی زبانوں کا کاٹے جانا ان کی مضبوطی کا اور استحکام کا سبب بن رہا ہے یا مسلسل ان کی بنیادوں کو گھن کی طرح کھاتا چلا جارہا ہے۔ کیا آج انسانوں کو وہ سیلاب جو پایہ تخت کی جانب بڑھتا چلا جارہا ہے، اور جس کی لائیو کوریج پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں، وہ اسلام آباد جانے کی راہیں مسدود کرنے میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے؟۔

اگر یہ سب سچ ہے اور ہر اٹھایا جانے والا قدم مشکلات پر مشکلات کھڑی کرتا جارہا ہے تو پھر یہ جان لینا چاہیے کہ پابندیاں لگائے جانے اور راہوں کو بالکل بند کرنے سے کبھی مثبت نتائج بر آمد نہیں ہوا کرتے۔ پابندیاں لگائیں، حدود باندھیں لیکن وہ محدود ہوں لا محدود نہیں۔ بے نکیل و بے لگام ہونا بھی اتنا ہی تباہی کا سبب بن جاتا ہے جتنا ہر راستے اور حد کا بند کر دیا جانا۔

بیچ کا راستہ یہی ہے جو اسلام کا راستہ ہے اور اسلام کہتا ہے کہ "درمیان" میں رہو یہاں تک کہ نہ اتنا آہستہ چلو کہ غرور ٹپکنے لگے اور نہ ہی اتنا تیز چلو کہ وقار جاتا رہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ کنٹومنٹ کی آبادی کی دیوار میں اتنا راستہ ضرور چھوڑدیا جائے کہ اس میں سے کم از کم پیدل چلنے والا تو گزر سکے ورنہ ہوگا یہ کہ آبادی کے چاروں جانب تعمیر کی گئی دیوار پوری کی پوری بھی ڈھائی جا سکتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */