کلچر یا اسلام ‎- ایمن طارق

یہ کہنے دیجیے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے بچوں کے معیارات اور صحیح غلط کے پیمانے خود مقرر کرتا ہے ۔ ہم اپنی سوچ ، نظریے ، عقائد اور کلچر کے مطابق بچوں کو دنیا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسی طرح ہم میں سے کوئی اگر کسی دوسرے کے اُس کے بچوں کے حوالے سے طرزعمل کو قابلِ اعتراض سمجھتا ہو وہ دوسرے کے اوپر انگلی نہیں اُٹھا سکتا یہ جانے بغیر کہ کسی دوسرے کی سوچ کیا تھی ۔

ظاہر ہے کبھی کبھی ہم ایک دوسرے کے تجربات سے بھی سیکھتے اور اپنی غلطیوں کو درست کرتے ہیں جو کہ ایک بہت ہی معقول رویہ ہے لیکن کبھی کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنے اپنے بچوں کی تربیت کے لیے جس انداز سے سوچ رہے ہوں دوسرے اُس سے متفق نہ ہو سکیں یا ہم دوسروں سے متفق نہ ہو سکیں ۔ یقین کریں کہ یہ بالکل فطری ہے اور ہرگز نامعقول رویہ نہیں ۔ بلکہ سوچ کا اختلاف سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ کچھ معاملات جو ہمیں اُلجھاتے ہیں اُن میں ایک الجھن جذبات کے اظہار کے حوالے سے ہے ۔ محبت کا جذبہ فطری ہے لیکن دین ہمیں اُس کی حدود کے حوالے سے رہنمائی دیتا ہے ۔ مخالف جنس کے درمیان دل کی پسندیدگی کا محسوس کرنا فطری ہے جس کا اظہار بعض دفعہ چہرے اور آنکھوں کے تاثرات سے عیاں ہونا بھی ممکن اور اس کے بعد کی رہنمائی یہ ہے کہ چھپ چھپ کر ملاقاتیں کرنے اور خفیہ تعلقات کے بجاۓ مہذب طریقے سے نکاح کی درخواست کی جاۓ جسمیں بڑوں اور فیملی کی موجودگی ضروری ہے اور نکاح کے بغیر خفیہ تعلق کی اسلام حوصلہ شکنی کرتا ہے ۔

میاں بیوی کے درمیان جو محبت و موددت کا تعلق ہے وہ کسی بوقت فرینڈ گرل فرینڈ کی فینٹیسی سے زیادہ پرکشش ہے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو واقعی سمجھ کر فولو کیا جاۓ ۔ اب یہاں بچوں اور نوجوانوں کو حدود بتانا ضروری ہے لیکن اُن کے جذبات کو یہ کہہ کر کچلنا یا غلط تعلیم دینا کہ محبت کا جذبہ ہی غلط اور ایسا خیال حرام ہے یہ بھی ایک دوسری انتہا ہے اور اسمیں بیلینس ضروری ہے ۔ اسی طرح میاں بیوی کا ایک دوسرے سے مہذب انداز میں جذبات کا اظہار کرنا ، ضرورت پڑنے پر ہاتھ پکڑ کر سہارا دے دینا ، کندھے پر ہاتھ رکھ کر موجودگی کا احساس دلانا ، سفر پر روانگی کے وقت ماتھا پر بوسا دے دینا یہ سب بچوں یا کسی کی بھی موجودگی میں قابلِ اعتراض نہیں لیکن دوسری طرف بڑوں کی موجودگی میں جذباتی لگاوٹ کا غیر ضروری اظہار معیوب بھی محسوس ہوسکتا ہے ۔۔اگر آپ کے گھر مصنوعی تکلف کے ایسے معیار ہیں کہ جہاں مہذب انداز بھی قابلِ اعتراض ہے تو یہ آپ کے اپنے اصول اور خاندانی کلچر ہو سکتا ہے اسلام کا نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں جعلی اسلام کی سر بلندی - ام یحییٰ

یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے دو مختلف انتہائیں اپنی سوسائٹی میں دیکھی ہیں یا تو وہ کہ جہاں بچے اور بڑے ساتھ بیٹھے انڈین مویز یا ٹی وی ڈرامے ملاحظہ کر رہے ہوتے ہیں اور ننھے ننھے معصوم بچے محبت عشق، گرل اور بواے فرینڈ کی اصطلاحات بڑے اعتماد سے سمجھتے اور ضرورت پڑنے پر استعمال کرتے ہیں اور دوسری طرف جائز اور فطری جذبوں کا تصور ہی گناہ ہے یا ان کا اظہار بے حیائی۔۔آج کل کے زمانے میں جہاں آپ گھر میں ٹی وی نہ رکھیں، بچوں پر پابندی کڑی لگائیں تو اس کے باوجود بچے باہر کی دنیا میں چلتے پھرتے ، دوستوں سے ملاقاتوں میں وہ سب کچھ دیکھ لیتے ہیں اور سن لیتے ہیں جس کا آپ کے فرشتوں کو علم نہیں ہوتا ۔۔ ( الا یہ کہ آپ کے بچوں کے گھر سے باہر نکلنے پر ، کسی سے بات کرنے پر ، د وستوں کے ساتھ میل ملاقات پر مکمل بین ہو ) وہاں ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ کچھ قریب ہونے اور ان کے ساتھ دنیا کے مختلف رنگ دکھانے کی کوشش کرنی ضروری ہے۔۔ اگر آپ دینی زہن رکھتے ہیں تو بچوں اور بچیوں کی اس انداز سے تربیت کہ وہ نارمل چیزوں کو ایبنارمل نہ سمجھیں ایک انتہائی ضروری پہلو ہے ۔۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.