عورت کو خراج عقیدت - پروفیسر جمیل چودھری

دنیا کے مختلف مصنفوں ، فلسفیوں اورشاعروں نے اپنی عقل وسمجھ کے مطابق عورت کو خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔اسکے گیت گائے ہیں ۔خوبصورت سے خوبصورت الفاظ استعمال کئے ہیں ۔اکثر شعراء کی شاعری توعورتوں کے وجود کے گرد ہی گھومتی ہے۔

شاعری کی ایک صنف غزل کہلاتی ہے۔اس کے معنی ہی عورتوں سے باتیں کرنا اور عورتوں کے حسن وجمال کی تعریف کرنا ہے۔کئی شاعروں کوغزل گو ہی کہاجاتا ہے۔اردو اورفارسی زبان ایسے شاعروں سے بھری پڑی ہے۔آج میں عورت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے امریکہ کے سب سے بڑے مصنف،تاریخ دان اور فلاسفر کے الفاظ مستعارلے رہاہوں۔اگرچہ یہ مصنف اپنی سب سے بڑی تصنیفThe Story of Civilization کے لئے دنیا بھر میں معروف ہے۔ اس بڑی تصنیف کے علاوہ بھی انکی کافی تصانیف ہیں۔دل ڈیورنٹ نے سب سے آخر میںThe Fallen leavesکے نام سے اپنی دانش،مطالعے اور مشاہدے کانچوڑ پیش کیا ہے۔عورت پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔"جب میں یہ دعویٰ کرتا ہوں توکوئی یقین نہیںکرتا کہ میں عورت کے حسن کو اس کے جسم کی طلب کے بغیر سراہا سکتا ہوں یا متاثر ہوسکتا ہوں۔میرے مطابق میراتمام ترلگاؤ خالصتاً جمالیاتی ہوتا ہے۔شاید میں خود کو دھوکہ دیتاہوں۔کیونکہ میں اس ہوس کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا۔جومیرے لاشعور میں پوشیدہ ہے۔لیکن پھر بھی جیسا کہ میں بارباردھراچکاہوں۔یہی کہوں گا کہ میں نے ہمیشہ عورت کی طرف احترام سے دیکھا ہے اور اس قدر دلکش اور خوش اداہونے پر اس کا مشکور ہواہوں۔

لیکن اس سارے عمل میں کبھی اس پر جسمانی دسترس حاصل کرنے کی خواہش سے مغلوب نہیں ہوا۔حتیٰ کہ کبھی اس کا ہاتھ بھی نہیں چھوا۔میں حسن کی ہرشکل سے متاثر ہوجاتاہوں۔وہ سب لوگ جو سیروسفر کے دوران میرے ہمراہ ہوتے ہیں میری اس عادت سے بری طرح تنگ ہوتے ہیں۔کیونکہ میں ہرخوش نما اور دل آویز مظہرفطرت کو دیکھ کر بے پایاں جوش وخروش کااظہار کرتاہوں۔نیلگوں آسمان پر سفید بادل یا الیسم کے شیریں پھولوں کی شہد جیسی خوشبو یاقریب سے گزرتا ہوا کوئی نوجوان روشن چہرہ،یا کوئی خوش قامت ایلم کا درخت اور اس کا روح پرور نظارہ جسے وٹ مین کے الفاظ میں اس نے اپنی پھیلی ہوئی شاخوں سے آفاق کو آغوش میں لیا ہو۔یہ سب مناظر مجھے مدہوش کرنے کے لئے کافی ہیں۔ جب میں سوچتاہوں کہ اس جھومتے گھومتے سیارے پر حسن وجمال کے کتنے مظاہر ہیں تو مجھے ایسالگتا ہے کہ اگر میں سب کو دیکھ پاؤں تو اس کی لافانیت پر محلول کرلوں۔ لیکن شاید ہی کوئی اور انسان عورت کی تخلیق یا ارتقاء میں خداکاشکر گزار ہونے میں میری طرح جذباتی ،سادہ لوح،بھولا اور معصوم ہو۔

اس خطرناک موضوع پر میں نے شوپنہار کو پڑھاہے۔اور میں جانتا ہوں کہ میرے لاتعداد ہم عصروں نے ان چڑیلوں پر کتابیں پر کتابیں سیاہ کر ڈالیں،جن میں ان تمام پھندوں،جالوں اور چالوں کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔جن کی مدد سے یہ ہمیں قابو کرتی ہیں۔ اورپھر ہمارے اندر سے زندگی کی آخری بوند تک نچوڑ لیتی ہیں۔جب میںدیوانگی اورجنون کے دور سے نکل کرفرزانگی میں لوٹتا ہوں تو یہ ادراک کرلیتاہوں کہ متعدد عورتوں میں خامیاں ہوتی ہیں۔بہت سی عورتیں حریص،ملکیت پسند،حاسد اور مغرور ہوتی ہیں۔وہ طویل رفاقت اوردوستی کی اہلیت نہیں رکھتیں۔کیونکہ ان کازیادہ تروقت محبت کوجیتنے،سنبھالنے اور بانٹنے میں صرف ہوجاتا ہے۔بہت سی عورتوں کاحسن مصنوعی ہوتا ہے۔جسے شب خوابی سے پہلے الگ رکھناپڑتا ہے۔عورتوں میں دوسری عورتوں کے شوہر ہتھیانے کا فن بھی پایا جاتا ہے۔
وہ دل اور گھرتوڑنے کا ہنر بھی جانتی ہیں۔بہت کم عورتیں مردوں کی طرح معروضی انداز میں سوچتی ہیں۔وہ صرف ان چیزوں اور مصنوعات میں دلچسپی رکھتی ہیںجو دلچسپ مردوں سے تعلق رکھتے ہوں۔وہ اپنی خواہشوں کو ہی حقیقت تصور کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مجھ پہ دکھ کا بوجھ نہ لاد - رانا اعجاز حسین چوہان

اور تکرارکودلیل ۔بسااوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انکی عقل دماغ سے نکل کر زلفوں کے ہالے میں الجھ گئی ہو۔وہ ایسے خوشامدیوں سے بے وقوف اور الوبننا پسند کرتی ہیں جو محض ان کے انداز واطوار کو حسن سے تعبیر کریں اور معمولی مفاد کے لئے عورت کواستعمال کرسکتے ہیں۔مردوں کی نسبت عورتیں،نجومیوں،عاملوں اور پیروں پرزیادہ ایمان رکھتی ہیں۔کیونکہ وہ مردوں کے برعکس کارزار حیات میں اپنے غم وآلام جلدی اور آسانی سے نہیں بھلاسکتیں۔انہوں نے مردوں کی نسبت نوع انسانی کوبہت کم نابغہ اور دانشوروں کاتحفہ دیا ہے۔تاہم مردوں کی نسبت ان میں کنجوس اور خبطیوں کی تعداد بہت کم ہے۔مردوں میں اقتصادی مسابقت اور سیاسی جوڑ توڑ سے عقل کوجلاملتی ہے۔لیکن عورتوں کو ان سرگرمیوں کی اکثر ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔کیونکہ انکابنیادی فریضہ مادرانہ کردار ہے۔جس میں جبلت کوعقل پر فوقیت حاصل ہے۔اور وہ ہر وہ چیز جذبات سے جیت لیتی ہے جسے مرد نے سرکھپا کھپا کرحاصل کیاہوتا ہے۔ لیکن عورت کی تمام غلطیاں میں صرف اس بنیاد پر پس پست ڈالنے پر تیارہوں کہ وہ نسل انسانی کی ماں ہے۔

اور اسے برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہے۔غالباً نسل کوقائم رکھنا بھی اتنا ضروری نہیں۔ لیکن یہ بھی ایک اور سوال ہے۔فی الحال میں عورت کو ایک لڑکی کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں جس کی خوبصورتی کو پاکبازی نے چارچاند لگادیئے ہیں اور کچھ کچھ وہ اس امرسے آگاہ بھی ہے۔کہ تھوڑی ہی دیربعد شکاری اس کے اردگرد منڈلانے لگیں گے اور کوئی اسے بیٹریاں پہنا کر قید کر لے گا۔پھروہ نسل کے فروغ کا ذریعہ ہی بن کررہ جائے گی۔اس کے گالوں میں قدرتی گلاب ہیں۔کیونکہ کھیل کود اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔بائیسکل چلانا اور گھڑ سواری اس کوبہت پسندہے۔ اس کے پیارے پیارے ننگے پاؤں ہوا میں سانس لینے کے لئے آزاد ہوتے ہیں۔اس وقت میرا دل اس کے لئے کھنچا جاتا ہے جس کی نوعمری ختم ہونے والی ہوتی ہے۔اور نوجوان مرد اس کے اردگرد گھیرا ڈالے ہوئے ہوتے ہیں۔اس کی نظر کرم کے منتظر اس کے ہاتھ،یا لبوں کی لبس کے طلب گار اور اس سے بھی کچھ بڑھ کر۔میں اندازہ کرسکتا ہوں کہ وہ کسی تنگ اور بل کھاتی ہوئی پگڈنڈی پر کھڑی ہوتی ہے اور اسے فلرٹ اور جعل سازلوگوں کے درمیان سے راستہ نکالنا ہوتا ہے۔بے مصرف معرکوں اور مستقل تنہائی سے نکل کر منزل پر پہنچنا کتنادشوار گزار ہے۔

یہ امرقابل حیرت نہیں کہ متعدد پنجا آزمائیوں کے بعد وہ اپنے اندر ایسی خود پسندی پیداکرلیتی ہے اور غیر ضروری اشیاء کو اس طرح چھانٹ دیتی ہے۔جیسے نرپرندہ مادہ کو آمادہ کرنے سے پہلے دقت نظری سے خود کو جازب نظربناتا ہے۔لیکن ہمارے دورمیں تو اس پر بوجھ ڈال دیاجاتا تھا۔کہ وہ متعدد چاہنے والوں میں سے اس کا انتخاب کرے جو اسے محض تعریف وتوصیف سے بے وقوف نہ بنائے بلکہ اس میں ضبط ، ٹھہراؤ اور بیوی بچے پالنے کی اہلیت ہو جوایک باوقار شوہر اور مشفق شوہر ثابت ہوسکے ۔وہ مضبوط اور باشعور بھی ہو اور معاشی طورپر مستحکم بھی۔ ایک نوجوان دماغ اور دھڑکتے ہوئے دل پر اتنا بوجھ؟ اب وہ ایک دلہن ہے۔شرمائی لجائی اور مغرور ۔ بالکل اس جواری کی طرح جس نے اپنا تن من دھن صرف ایک چال میں داؤ پرلگادیا ہے۔اگر آپ جوانی کی حدود عبورکرچکے ہیں تو یقیناً کسی دوڑ لگانے والے گھوڑے کے حق میں دلائل دے سکتے ہیں۔ جس کی کھال چمکدار اور ناک نوکیلی ہو ۔ مجھ پر ایسے لمحات بیت چکے ہیں ۔لیکن واپس آیئے عورت کی طرف ۔امریکی ،آئرش ،انگریز ، فرانسیسی، اطالوی ،جرمن، پولش، روسی ،یونانی، ہندو، مسلمان (کیا کبھی آپ نے عربی فارسی کی رومانوی شاعری پڑھی؟) چینی، جاپانی۔۔۔''

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیاں بھی انسان ہوتی ہیں - عمارہ خان

الغرض یہ سب مختصر ترین الفاظ میں حسن وخوبی اور دل آویز وقار کاپیکر اور معجزہ ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی حالت جب وہ اپنے جوبن پر ہوتی ہیں انہیں دیکھ کر مجھے رشک آتا ہے۔مجھے انکی مخملیں جلد دیکھ کررشک آتا ہے،انکے ہاتھوں کی بالائی جیسی نرمی اور وہ پھول جیسا لمس جس سے وہ آپ کے چہرے کو چھوتی ہیں اور آپ کی جیبیں جھاڑلیتی ہیں۔میراجی چاہتا ہے کہ میں انکے بالوں میں انگلیاں پھیروں لیکن پھر اندیشہ ہوتا ہے کہ انکے سلیقہ سے بنے ہوئے بال بگڑ نہ جائیں۔میں انکی آنکھوں میں جھانکنے سے کتراتا ہوں کہ کہیں انکی گہرائی میں ڈوب ہی نہ جاؤں۔اور کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ واپسی کاچارہ بھی نہ رہے۔اظہار محبت اور دوران نغمہ اس آواز کے زیرولیم سے میں متحیر ہوجاتا ہوں کہ کہیں ارتقاء کے پردے میں خداخود ہی تو کارفرما نہیں ہے؟۔ میرے خیال میں عورت کاپیکر ہرزاویے سے خیرہ کن اور باکمال ہے۔عورت کی چال ڈھال کاوقار گویایوں ہے۔جیسے شاعری نے گوشت پوست کا پیرھن اوڑھ لیاہو۔میں مدہوش ومتحیر ہوکردیکھتا رہتاہوں کہ وہ کمرے میںکس قدر روانی اور آسانی سے متحرک رہتی ہے۔وہ ماں بھی بنتی ہے ۔

اب بیس تیس برس کی نئی مشقت اور فکر کا آغاز ہوتا ہے۔کہ بچے کی تربیت کیونکرممکن ہو۔اسے صحت مند،مہذب اورذہین کیسے بنایا جائے۔تب وہ خالق کاکردار اداکرتی ہے۔اگردنیا میں کہیں خدائی ہے توبس یہیں ہے۔عورت میں ہے۔کوئی بھی ماہر حیاتیات خداکوصرف نسوانی انداز میں سمجھ سکتا ہے۔ ہمیشہ عورتوں سے نرمی سے پیش آنا چاہئے۔عورت کی خطا سے درگزر کرناچاہیئے۔ہمارے لئے وہ صرف مشفق ماں ہے۔ماں کو یہ سوال پوچھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ زندگی کاکوئی مفہوم ہے۔یانہیں۔جب وہ پنے بچوں کی جسمانی وذہنی نشوونما دیکھتی ہے تو اسے علم ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی تخلیق کا مقصدپورا کررہی ہے۔جب وہ اپنے بڑھتے پھولتے قبیلے کو اپنے ارد گرد دیکھتی ہے تووہ خاموش تفاخر اور ناقابل بیان مسرت محسوس کرتی ہے۔ ماں کو بچوں سے محبت کرتے اور محبت پاتے دیکھ کر کون یہ کہہ سکتا ہے کہ عورت کو زندگی کے مفہوم کاپتہ نہیں۔اگرزندگی کو آبرومندی اوربھرپور انداز سے جیاجائے تو یہ خود ہی اپناانعام ہے۔جسے خارج سے کسی پزیرائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے"۔ول ڈیورنٹ نے اپنے مختصر اور خوبصورت الفاظ میں عورت کوزبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
.