گُوادر تو نہیں بدل رہا - ظریف بلوچ

سمندر کی مست موجیں کوہ باتیل پر ٹکراتے ہوئے ساکت ہورہے تھے، اور باتیل کے پہاڑ کے آخری کونے پر بیٹھ کر گوادر کو دیکھتے ہوئے مجھ پر عجیب کیفیت طاری تھا ۔کوہ باتیل کے دامن میں واقع گوادر کی فضا خاموش ہونے کے باوجود ہر طرف ریل پیل جاری تھا ۔

پدی زر کی سمندر کو اداس دیکھ کر مجھے شاہی بازار میں قدیم تہزیب و تمدن کے آثار یاد آئے تو کریمک ہوٹل کی طرف رخ کیا۔ چائے کی چسکیاں لے رہا تھا کہ کریمک ہوٹل کی کرسیاں چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ اب گوادر بدل چکا ہے ۔ گوات در سے گوادر کا سفر ، انگریز سامراج سے سلطنت آف عمان کے دور دیکھنے والا ماہی گیروں کی یہ بستی اب وی وی آئی پی موومنٹ کو قریب سے دیکھ رہا تھا۔ ”پدی زر“ سے ”دیمی زر“ جاتے ہوئے گوادر کے تنگ و تاریک گلیوں سے گزر کر اپنائیت کے جذبے سے زیادہ اجنبیت کے مناظر مجھے یہاں سے دور جانے کو کہہ رہے تھے۔ لوگوں کے چہروں پر عارضی مسکراہٹ دیکھ کر اتنا احساس ہوتا رہا کہ ہم اجنبی ضرور مگر اپنائیت کے جذبے سے سرشار ہیں ۔ دیمی زر سےاتنا یاد آیا کہ زمانہ طالب علمی میں تیراکی سے ناواقف ہوتے ہوئے بھی ہم سمندر میں چھلانگ لگاتے تھے ۔ سمندر سے محبت ہمیں روز اپنی طرف بلاتا تھا ۔ گوادر کے شاہراہوں پر چہل قدمی کرتے کرتے ہم جناح ایونیو پہنچ گئے، جہاں ادھورے خوابوں کی تکمیل کے لئے دو گز زمین کی تلاش مقصود تھا ۔

پھر سوچتے سوچتے نیوٹاؤن کے بنگلوں پر نظر پڑی تو عالیشان محلوں ک دیکھ کر اتنا محسوس کیا کہ گوادر اب بدل رہاہے۔ گوادر کے قدیم ورثوں کو غیر محفوظ دیکھ کر کچھ سوچے اور سمجھے بغیر ایک زندہ قوم ہونے کا احساس ہوا۔ گوادر کے زمین کی قمیتوں کا سنکر میں یہ سمجھ بیٹھا کہ شاید یہاں آکسفورڈ نہیں تو آئی بی اے کا کوئی کیمپس ہوگا۔ پھر معلوم ہوا کہ یہاں یونیورسٹی آف تربت کا ایک سب کیمپس بغیر بلڈنگ کے علم کے نام پر ڈگریاں بانٹ رہی ہے۔ تعلیم سے پھر یاد آیا کہ جب زمانہ طالب علمی میں لیکچرار نہ ہونے سے ہم موجودہ ڈگری کالج سے کلاسز کا بائیکاٹ کرکے اپنے گھروں کی طرف آچکے تھے۔تو سمندر کی بے رحم موجوں کا مقابلہ کرنے کے بعد میرے والد صاحب جب گوادر پہنچ گئےتھے اور مجھے گوادر میں نہ دیکھ کر شدید غصے کی عالم میں اتنا کہہ کر فون بند کیا تھا کہ ” گوادر خود آؤ گے یا میں آکر تمیں لے جاؤ“ ڈر کے مارے میں نے اسی وقت ٹیلی فون کے تار کاٹ کر گوادر کی طرف رخت سفر باندھ لیا اور پھر کئی روز تک گوادر کے گلیوں میں آوارہ پھرتا رہا۔

کئی سال گزرنے کے بعد اتنا معلوم ہوا کہ آج بھی جدید گوادر میں لیکچرار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کشادہ شرکوں کو دیکھ کر سکھ کا سانس لیا۔ صحت عامہ کی سہولتوں کو قریب سے دیکھنے سے پہلے مجھے گوادر سے نکلنا پڑا۔ کیونکہ وین کے ڈرائیور کو اپنی منزل مقصود کی طرف جانا تھا۔ راستے میں جاتے ہوئے جب وین ہمارے آبائی گاؤں کے قریب سے گزر رہا تھا تو مین روڑ پر زمینوں پر برجیوں کی نشان دیکھ کر دل سے ایک آہ نکلی کہ نانا اور نانی نے وراثت میں ہمارے لئے جو بنجر زمین چھوڑے تھے۔ وہ بھی پٹواریوں کی بندر بانٹ کے نذر ہوچکے ہیں۔ جب مجھے واپس خیال آیا تو وین اپنی منزل کی طرف پہنچ چکا تھا اور میں اب بھی خیالوں کی دنیا میں مگن گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔