تبصرہ " میرے پاس تم ہو ‎" - ایمن طارق

پاکستانی چینلز دیکھنے کا اتفاق الحمدللہ نہیں ہوتا اس لیے کہ نری درد سری ہے ۔ سوشل میڈیا کی بدولت البتہ گاہے بگاہے احباب متوجہ کرتے رہتے ہیں کہ کیا چل رہا ہے ۔ ہمارے ہاں ڈرامے فلمیں دیکھنا کبھی پسندیدہ نہ سمجھا گیا اس لیے اتنا باقاعدگی سے کبھی فالو نہ کیا ۔

لیکن تعلیم و تدریس کی فیلڈ سے تعلق ہونے کی بنا پر اکثر دوستوں کی محافل میں ان ڈراموں کے موضوعات پر گفتگو کے دوران خود کو کافی لاعلم محسوس کرکے فیصلہ کیا کہ پاکستانی ڈراموں پر نظر ڈالتے رہنا چاہیے تاکہ اندازہ رہے کہ جن خواتین کی زہنی تربیت کی ہم کوشش کر رہے ہیں اُن کے اوپر کن سوچوں کا غلبہ ہے ۔ یو ٹیوب زندہ باد کہ فرصت کے وقت میں جائزہ لینا آسان ۔۔ پچھلے کچھ عرصے دیکھ کر نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بگاڑ کی اولین وجہ ٹی وی چینلز ہیں ۔

مہنگائی آسمان سے باتیں کرتی ہے لیکن ٹی وہ چینلز گلی محلے دیکھنے کی آسانی ہے ۔ بچوں بڑوں کے الگ پروگرام دیکھنے کی کوئی حدود و قیود نہیں سو ہر ایک بلا تخصیص ہر قسم کی معلومات سے بیک وقت مستفید ہے ۔ “میرے پاس تم ہو “ایک ایسا ہی ڈرامہ ہے جس پر تعریف و تنقید کافی سنی پچھلے دنوں ۔ مکمل دیکھنے کا حوصلہ اور وقت نہیں تھا ۔ آخری قسط جو شاید تازہ ہے دیکھ کر آنکھیں کھلی ہی رہ گئیں. شادی شدہ عورت جو کچھ ہی دن میں باس کی دولت اور شخصیت سے متاثر ہوکر اپنے شوہر اور بچے کو چھوڑ کر دوسرے آدمی کے ساتھ رہنے کو تیار ہو گئ اس کا شوہر صدمے سے بے حال بیوی کی محبت کی بھیک مانگنے اس باس کے پاس جاتا ہے .

اور باس بہت ہی ہیرو بن کر اس عورت کے شوہر سے بیوی کو طلاق دینے اور اپنی اور اس کی بیوی کے افئر کی کہانی بہت فخر سے بیان کرتا ہے ۔
اسقدر سنسنی انگیز ، جذبات کو برانگیختہ کرنے والاڈرامہ ، شرم و حیا کی پامالی ، خاندانی مظبوطی کو تار تار کر دینے والا تصور ، شوہر کے گھر کی تنگی دیکھ کر پٹری سے اتر کر آ دوسری ٹرین پکڑ لینا ۔ چاہے اس ڈرامے کا بد ترین انجام بھی دکھایا جاۓ لیکن یہ برائی کی راہیں کھول دینے والے ڈراموں میں ٹاپ آف دا لسٹ ہے جس کو بہت فرصت سے لکھا گیا ہے ۔ اس سے زیادہ بے باکی کی حد ہے کہ شوہر سے اس کی بیوی کا ہاتھ مانگا جا رہا ہے ۔

شوہر پر جو قیامت گزر رہی ہے اسکی عکاسی کو ہمایوں سعید کی شاندار اداکاری کہہ کر ہم لطف اندوز ہو رہے ہین استغفار ۔۔لکھنے والے نے شاید معاشرے پر پڑنے والے اس کے نتائج سے بے پرواہ ہوکر انوکھی کہانی لکھ ڈالنے کے لیے یہ خاکہ بنایا ہے ۔ ریٹنگ کے چکر میں اصلاحی مواد لکھنا تو اب خواب ہے اصل میں چینل کو کتنا بزنس ملتا ہے یہ ترجیح ہے ۔ معاشرے کا جائزہ لے لیں ۔ جب سے جو کچھ ہو رہا ہے دکھایا جانے کا آغاز ہوا ہے وہ سب کچھ کئ گنا بڑھ گیا ہے یعنی سدھار کے بجاے بگاڑ زیادہ ہوگیا ہی ۔نسلیں جائیں بھاڑ میں ،

حیا جاۓ چولھے میں اور چین کی بانسری بجاتے جائیں تو مغربی اور مشرقی معاشرے میں کیا فرق ۔۔ اس وقت دینی ذہن اور سلجھے ہوے ذہن رکھنے والوں کے لیے ایک بڑا چیلینج یہ ہے کہ اس بے راہ روی کا منہ بند کرنے کے لیے نۓ ائیڈیاز ، کہانی اور پروڈکشن کے اعلی معیار کے زریعے یہ ثابت کریں کہ اگر میڈیا کے میدان کو مثبت انداز میں اصلاح کے لیے استعمال کرنا ہی مقصد ہے تو اس کے لیے اقدار کا گلا گھونٹ کر ہی اس کی لاش پر آگے بڑھنا واحد راستہ نہیں ۔اگر ڈیمانڈ نصیحت اور اصلاح کے بجاے تفریح کی ہی ہے تو تفریح بھی حدود کے اندر رہ کر ہزار آئیڈیاز سے پروڈیوس کی جا سکتی ہے اس کے لیے پھکڑ پن اور نقالی ضروری نہیں ۔

اگر اس وقت سنجیدگی سے اقدام نہ اُٹھاے گۓ اور صرف پیمرا کے سامنے احتجاج کرتے ہوے ڈرامے بند کروانے پر ہی اکتفا کیا گیا تو کوئی تبدیلی نہیں آۓ گی بلکہ لوگوں کے اندر شوق ، تجسس اور ایکسائٹمنٹ مزید بڑھے گی کیونکہ انہیں بے حیائی کے ساتھ تفریح کی لت لگ چکی ہے سو اس وقت امتحان ہے صالح زہن رکھنے والے جیینیس افراد کا جو ہواؤں کارُخ تبدیل کریں ۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اسی چینل پر بےشمار ایسی بھی ڈرامے ہیں جہاں شوہر کھلے عام بیوفائی کررہا ہے تب تو کسی کو اخلاقی اقدار کے پامالی پر لکھنے کا خیال نہیں آیا نہ ہی معاشرے میں بےحیائی پھیلتی نظر آئی۔ ایک عورت نے بیوفائی کی تو پورا پاکستان جلتے توے پر بیٹھ گیا ہے

    • نہی بہن برای تو برای ھے چاھے وہ عورت سے ھو یاںمرد سے بات میڈیا کے طرز عمل کی ھے جو جلتی پر تیل کا کام کر رھا ھےاور معاشرے میں اسکےاثرات بہت تیزی سے پھیل رھے ھیں