کشمیریوں پر بد ترین ظلم کے باوجود انڈیا سے تجارت - ترئین حسن

کشمیریوں پر بد ترین ظلم کے باوجود ہم نے انڈیا سے تجارت جاری رکھی ہوئی ہے کیونکہ ہم اشد ضرورت کی اشیاء یہاں تک کے دوائیں بھی ملک میں تیار نہیں کرتے۔ انڈیا نے 1956 میں اینٹی بائیوٹک فیکٹری اور تحقیقی مرکز قائم کیا جو آج پاکستان سمیت بہت سے دوسرے ملکوں کو جان بچانے والی ادویات فراہم کرتا ہے۔

ہم قرض لینے میں لگے رہے اور خوش ہوتے رہے کہ ہمارے تعلقات دنیا سے بہت اچھے ہیں ۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک اور بہت سی بنیادی ضرورت کی اشیاء کے لئے دنیا کی چھٹی بڑی مارکیٹ ہونے کے باوجود ہماری ان اشیاء کی ملک میں تیاری کے لئے کوئی دور رس پلاننگ نہیں رہی ۔ ہماری ترجیح تحقیق ، اور تجارت نہیں صرف غیر ملکی انویسٹمنٹ پر خوش ہونا ہے۔ کیا پچھلے بہتر سال میں ہمیں کم از کم اپنی ضرورت کی اشیاء کی ملک میں تیاری کے لئے دور رس پلاننگ کی ضرورت نہ تھی چاہے قرضہ لیکر بھی کرتے ۔ اس وقت بھی چین ہمیں نیوکلیر پاور سے بجلی بنانے کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے بجائے بجلی بیچ رہا ہے جبکہ اگر وہ دوست ہے تو ہمیں بجلی کی پیداوار میں اسکی مدد سے خود کفیل ہونے کی ضرورت ہے۔ اسکے بجائے ہم ایک غیر ملکی طاقت پر انحصار بڑھا رہے ہیں اور خوش ہیں کہ چین نے سرمایہ کاری کی ہے اور منصوبے مکمل ہوئے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے ملک میں لگائے گئے بجلی گھروں میں بنائی جانے والی کرائے کی بجلی ہے جسکی بھاری قیمت ہمارے غریب عوام ادا کر رہے ہیں -

دوسرے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ڈیم ہے جو بنانے کا چین کا غیر معمولی تجربہ اور ایکسپرٹیز ہیں۔ کیا بجلی بنانے میں خود کفیل ہوئے بغیر ہم کرائے کے بجلی گھروں سے ترقی کر سکتے ہیں یا ملکی سلامتی اور انفرا سٹرکچر ہم دوسروں کے ہاتھوں میں دیتے جا رہے ہیں اور خوش فہمی یہ ہے کہ سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ یہ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی قرض کی ایک شکل ہے۔ اسکے اثرات اور فائدوں اور نقصانات پر کھلی بحث کی ضرورت ہے مگر حال یہ ہے کہ جن ایکسپرٹس کو ان چیزوں پر کھل کر بحث کرنی چاہیئے وہ چین کے تقدس میں گوڈوں گوڈوں تک دھنسے ہوئے ہیں ۔ چینی منصوبوں پر تنقید تو کجا اس پر تعریف و توصیف کے علاؤہ بات کرنے کو حب الوطنی کے خلاف بلکہ شرعی احکامات پر بحث کی طرح ممنوع سمجھا جاتا ہے -