کشمیری کس حال میں‌ہیں ؟ ۔حاجی محمد لطیف کھوکھر

اس وقت اسلامی ملک ملائشیا کے حکمران مہاتیر محمد کا سب سے مضبوط موقف سامنے آیا ہے اور انہوں نے بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ" پام آئل نہیں لینا تو مت لو" کشمیر سے متعلق بیانات سے نہیں ہٹوں گا۔وزیر اعظم مہاتیر محمد بھارتی تاجروں کی طرف سے ملائیشیا سے پام آئل کی درآمد کے بائیکاٹ کو ایک تجارتی جنگ سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ 85 روز سے زائد کرفیو کی وجہ سے کشمیر کا رابطہ بیرونی دنیا سے کٹ چکا ہے ۔ تمام ذرائع ابلاغ انٹرنیٹ،ٹیلی فون،ٹیلی ویڑن،اخبارات بند ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی بندش کے سبب وادی میں اشیا خوردونوش کی کمی کے باعث قحط کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، شیر خوار بچے دودھ کیلئے بلک رہے ہیں، مریض دوائیوں کیلئے رل رہے ہیں،ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔انڈیا کشمیر کی جغرافیائی تبدیلی کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی بھی کر رہا ہے۔

سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا یاجا رہا ہے، نہتے کشمیریوں کو آئے روز شہید کیا جا رہا ہے۔مقبوضہ وادی میں وہ ممنوعہ ہتھیار بھی استعمال کئے جا رہے ہیں جن پر اسرائیل بھی پابندی لگا چکا ہے، بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال کیوجہ سے ہزاروں کشمیری بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کی املاک و باغات کو تباہ کیا جا رہا ہے، کشمیریوں کی تیار فصلوں اور جنگلات کو جلایا جا رہا ہے۔ بھارتی فوجی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے غنڈے کشمیری ماؤں بیٹیوں کی عصمت دری کر رہے ہیں۔ مساجد بند ہیں مسلمانوں کومساجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں۔

کشمیری اپنے مرحومین کو گھروں میں دفنانے پر مجبور ہیں۔ لیکن ان سب ظالمانہ اقدامات کے باوجود عالمی ضمیر جاگنے کا نام نہیں لے رہا، اور بھارت کے قاتل ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔ کشمیری شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو چکے ہیں جب کہ گھروں میں ادویات اور کھانے کا ذخیرہ ختم ہونے کے باعث موت آہستہ آہستہ کشمیریوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان مشکل صورتحال میں مقبوضہ کشمیر کے بچوں، جوانوں اور بوڑھوں نے جس طرح ہر قسم کے مظالم کا سامنا کرنے اور ہر روز اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود آزادی و حریت کا پرچم نہ صرف سر بلند رکھا ہوا ہے ۔ دنیا انہیں سلام پیش کرتی ہے۔

ہندورقہ پرست عناصر اب کشمیریو ں کی عزت نیلام کرنے اور ان کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل کروانے کے لئے ایک گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پر کشمیر اور پاکستان میں ابھی شادیانے بج ہی رہے تھے کہ بھار ت نے آئینی سرجیکل اسٹرئیک کر کے آئین کی دفعہ 370 کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ دفعہ 35 اے کو بھی ختم کردیا گیا، جس کی رو سے غیر ریاستی باشندے جموں و کشمیر میں غیر منقولہ جائیدادنہیں خرید سکتے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر کوتقسیم کرکے لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا گیا اور بقیہ ریاست یعنی جموں اور کشمیر کے خطوں پر مشتمل علاقہ بھی مرکز کے زیر انتظام ہوگا، مگر دہلی کی طرح برائے نام اسمبلی بھی ہوگی۔اس اسمبلی اور اگلے وزیر اعلیٰ کے اختیارات شہر کے میئر کے برابر ہوں گے۔ پولیس وغیرہ کا انتظام براہ راست وزیر داخلہ کے پاس ہوگا۔

مسئلہ کشمیر ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسانوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا مسئلہ ہے، آٹھ لاکھ بھارتی فوج وحشیانہ کاروائیوں کی مدد سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ بھارتی میڈیا منفی پراپیگنڈہ پر عمل پیرا ہے۔ بھارت کا مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویہ ایشیاء میں کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتا ہے، اس لیے مسئلہ کشمیر کا جلد از جلد حل ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ عالمی برادری نہتے کشمیری مسلمانوں پر بھارت کے بدترین مظالم کا سلسلہ رکوانے میں کردار ادا کرے، اور مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تنازع کشمیر سے متعلق سب سے پہلی قرار داد جنوری 1948 ء میں منظور کی اور اب تک اس تنازع کے حل کے لیے ایک درجن سے زائد قرار دادیں منظور ہو چکی ہیں مگر بے سود۔

یہ بھی پڑھیں:   شہداء جموں - چوہدری محمدالطاف شاہد

مقبوضہ وادی میں سخت اقدامات کرنے کے دو ماہ بعد بھارتی حکومت کی جانب سے مواصلات اور انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے کئی جانیں جاچکی ہیں۔ ایک درجن سے زائد مریض ایمبولینس کو کال نہ کر پانے یا سڑکوں کی بندش کی وجہ سے وقت پر ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے انتقال کر چکے ہیں۔ کئی کینسر کے مریض جو اپنی ادویات کی آن لائن خریداری کرتے تھے، اپنے آرڈر دینے سے محروم ہیں۔موبائل فون سروس کے بغیر ڈاکٹر ایک دوسرے سے رابطہ قائم نہیں کر پاتے، ماہرین کو ڈھونڈ نہیں پاتے یا زندگی اور موت کی صورتحال میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مدد حاصل نہیں کر پاتے ہیں۔زیادہ تر کشمیریوں کے گھر میں لینڈ لائن نہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی کو بھی مدد کے لیے نہیں پکار پاتے ہیں۔کئی ڈاکٹروں کا اپنے انٹرویو میں کا کہنا تھا کہ انہیں صحافیوں سے بات کرنے کی وجہ سے نوکری سے نکالا جاسکتا ہے، بھارتی سیکیورٹی فورسز کشمیری ڈاکٹروں کو ہراساں کرتے ہیں اور تذلیل کرتے ہیں۔

سری نگر کے سری مہاراجہ ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران سرجریز کی تعداد میں 50 فیصد کمی آئی ہے جس کی وجہ پابندیاں اور ادویات کی قلت ہے۔متعدد ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ موبائل فون سروس نہ ہونے کی وجہ سے ان کے کام پر اثر پڑ رہا ہے، جب انہیں سینیئر ڈاکٹروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ان کی تلاش میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔متعدد کشمیری ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ درجنوں مریض جنہیں بچایا جاسکتا تھا راستوں کی بندش کی وجہ سے انتقال کرچکے ہیں۔کشمیر میں عائد پابندیوں کی وجہ سے بچوں کے ڈاکٹر اور میٹرنٹی سروسز مقبوضہ وادی میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

اب توبھارتی سپریم کورٹ نے بھی مودی سرکار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مقبوضہ کشمیر میں کتنے دن پابندیاں برقرار رکھنا چاہتی ہے ،اب تو 2ماہ سے زائد عرصہ ہو چلا ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد اگست کے پہلے ہفتے میں نافذ کی جانے والی تمام پابندیوں کو ختم کرنے کے لئے بھارتی عدالت عظمیٰ نے حکومت سے جوابات طلب کئے ہیں۔جبکہ بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوںکی تعیناتی اور سخت پابندیوںکے نفاذ کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوںمیں معمولات زندگی بری طرح سے مفلوج ہیں۔ اقوام متحدہ کے یوم تاسیس کے موقع پر جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارے نے کشمیرکے بارے میں متعدد قرار دادیں منظور کیں جن میں کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے انکا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   شہداء جموں - چوہدری محمدالطاف شاہد

تاہم تقریبا سات دہائیوں کا عرصہ گزرنے کے باوجود عالمی ادارہ اپنی قرار دادوںپر عمل درآمد نہیں کراسکاہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بھارتی فوجیوںنے مقبوضہ کشمیرمیں اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 1989ء سے اب تک 95ہزار463کشمیریوںکو شہید کیا جن میں سے 7ہزار134کو جعلی مقابلوںکے دوران شہید کیاگیا۔ رپورٹ کے مطابق رواںسال 5اگست کو بھارت نے مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ اور وہاں کا فوجی محاصرہ کردیا اور جس کے بعد سے بھارتی فوجیوںنے پر امن مظاہرین پر گولیوں ، پیلٹ گنوں اور آنسو گیس کے بے دریغ استعمال کے ذریعے 27بے گناہ کشمیریوںکو شہید کردیاہے۔اس دوران 693کشمیری زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر پیلٹس لگنے کے باعث زخمی ہوئے ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے فوجیوں کے لئے چالیس ہزار بْلٹ پروف جیکٹیس بھیج دی ہیں۔ یہ جیکٹیس کلاشکوف کا فائر بھی روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ چالیس ہزار بْلٹ پروف جیکٹیس مقبوضہ علاقے میں ڈیوٹی کرنے والے فوجیوں کو پہنائی جائیں گی جو اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری گھرانوں کا محاصرہ کئے ہوئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والی چند بھارتی خواتین نے دل ہلا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔بھارتی خواتین پر مشتمل ٹیم سری نگر سمیت ضلع شوپیاں، پلوامہ اور باندی پورہ کے متعدد دیہات کا دورہ کیا۔ ان کی رپورٹ میں کشمیرمیں پابندیاں لگنے کے بعد عینی شاہدین کی کہانیاں بھی شامل ہیں۔فیکٹ فائینڈنگ رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر رات آٹھ بجے تک گھروں کی روشنیاں بند کرنا لازمی ہے۔ ’باندی پورہ میں ہم نے دیکھا کہ اس امکان کے پیش نظر کہ سکول جلد کھل جائیں گے ایک نوجوان لڑکی نے امتحان کے لیے پڑھنے کی خاطر غلطی سے لیمپ جلتا رہنے دیا۔

کرفیو کی اس خلاف ورزی نے بھارتی فوجیوں کو مشتعل کر دیا اور وہ دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہو گئے اور گھر میں موجود صرف دو مرد حضرات والدہ اور بیٹے کو پوچھ گچھ کے لیے ساتھ لے گئے۔رپورٹ میں باندی پورہ کی ایک خاتون کا بیان بھی درج ہے۔ جن کا کہنا ہے کہ ’سورج غروب ہونے کے بعد جب میرا چار سالہ بیٹا کتوں کے بھونکنے کی آواز سنتا ہے تو بے اختیار اپنی انگلی ہونٹوں پر رکھ لیتا ہے۔ میں موبائل فون آن نہیں کر سکتی کہ اس کی روشنی میں اپنی چھوٹی سی بیٹی کو ٹوائلٹ لے جا سکوں۔ روشنی دور سے دکھائی دے جاتی ہے اور اس کی قیمت ہمارے مردوں کو جان دے کر چکانی پڑتی ہے۔کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے میں نے محسوس کیا کہ یہ بھارت کی جانب سے نسل کشی کی ایک شکل ہے۔

انسانی سانحہ جنم لے چکا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں جن میں مواصلاتی نظام کی مکمل بندش، ٹرانسپورٹ کا غائب ہونا اور بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ہونے والی اموات شامل ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی فوجی 13 ہزار نوجوان لڑکوں کو اٹھا کر لے جا چکی ہے۔ کشمیری ماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو فوج نے رات کے وقت اٹھا کر لے جاتی ہے ااور ان اس بارے میں کچھ بتایا بھی نہیں جاتا ۔بھارتی فوج نوجوان لڑکے لڑکیوں کو رات کے وقت ڈراتی ہے ۔کسی کشمیری لڑکے کو دیکھ کر بھارتی فوجی غصے میں آ جاتے ہیں او انہیںتھپڑ مارنا معمول بن گیا ہے۔ان تمام مظالم سہنے کے باوجود ان کی پہلی اور آخری خواہش صرف اور صرف آزادی ہے ۔