پُھسکا خیال! ارشدزمان

وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کی یوم سیاہ کے موقع پر قوم کو لیکچر دیتے ہوئے فرمایا کہ پوری قوم کو مظلوم ومقہور کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور جو بھی ہندوستان کے خلاف جہاد کیلیے کشمیر حائے گا وہ کشمیر اور پاکستان کا دشمن ہوگا۔

کشمیر کے حوالے سے جناب عمران خان کے تمام تر تقاریر اور بیانات سے تین باتیں عیاں ہیں۔

اول: وہ ایک انجانے خوف کا شکار ہے کہ ہندوستان ایک بڑی قوت ہے اور کسی بھی وقت پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹاسکتا ہے۔

دوم: وہ بہت بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ اہل پاکستان کو انکھیں بند کرکے ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں ہے اور کان بند رکھ کے کسی اہ وبکا اور فریاد وپکار کو سننے کی حماقت بھی نہیں کرنی چاہیے۔ جب کشمیر کی گلی کوچے خون سے بھر جائیں اور انسانیت دم توڑ جائے تو خود ظالم دنیا کو ان پہ رحم اجائے گا اور کسی داد رسی کیلیے ہندوستان سے درخواست کرے گا۔

سوم: وہ عظیم خام خیالی اور زعم میں مبتلا ہے کہ جناب دنیا کو اپنی قوت گویائی کی سحر میں مبتلا کرکے ہندوستان کے خلاف کرکے بدقسمت کشمیریوں کے حمایت پہ امادہ کرلے گا۔

اس خوف، خوش فہمی اور زعم کیوحہ سے جناب مسلسل بے سروپا خیالات پیش فرمارہے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ یہ کسی ایٹمی ملک کا سربراہ نہیں بلکہ کسی این جی او کا ڈائریکٹر ہے۔

کم ازکم ارمی چیف صاحب کو پڑھی گئی سبق کی روشنی میں اس بندے کو سمجھانا چاہیے کہ اگر خدانخواستہ کشمیر قبرستان میں تبدیل ہوجایے اور کوئی ایک انسان بھی زندہ نہ بچ پائے تو بھی نہ ہندوستان نے ترس کھانی ہے اور نہ بےضمیر دنیا اور بے حس وغلام اسلامی ممالک کورحم انی ہے کہ یہ مفادات کی دنیا ہے رحم دلی اور خدا ترسی کی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کہنے - زرین تارڑ

شام دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے نرغے میں ہے اور چاروں طرف سے ان پہ اگ و بارود کی بارش جاری ہے مگر سنگ دلوں کو رتی برابر بھی ترس نہیں ارہا اور ہر کوئی اپنی مفادات کے حصول کیلیے چنگیز خان اور ہلاکو خان سے بھی ہزار قدم اگے بڑھ کر ظالم بنا ہوا ہے۔

خان صاحب یاد رکھیے گا کہتقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجاتاخری بات،اگر کچھ کرنے کی ہمت وجرات نہیں تو کم ازکم زبان کو تو لگام دیجیے گا اور پُھسپُھسا قسم کی گل افشانیاں بکنے سے کچھ وقت کیلیے پرہیز فرمالیجیے گا۔ بڑی مہربانی ہوگی۔