پاکستان میں جعلی اسلام کی سر بلندی - ام یحییٰ

اس بات میں بہت وزن ہے کہ .. آج کے دور کی اسلام سے جنگ کا انداز ہی بدل گیا ہے . اسلام میں لپیٹ کر باطل کو عام کرنے کا انداز اختیار کیا گیا ہے ۔۔۔ جو ہمیں ہر طرف نظر آ رہا ہے۔ ایک یلغار ہے جیسے برساتی کیڑے نکل پڑتے ہیں ۔ پچھلے دس سالوں میں فیس بک پہ لا تعداد پیجز نے یہ کام کیا اور سیاسی معاشی اور حب الوطنی تک قوم کے نظریات بدل کر رکھ دئیے ۔

ایک پوسٹ میں بڑی خوبصورتی سے ایک اچھائی کی ترغیب دے کر دوسری اچھائی بلکہ ستون دین کو نشانہ بنایا جاتا رہا ۔۔۔۔۔ جیسے ہمارے معاشرے میں سنت ابراھیمی سے زیادہ سنت انسانیت زیادہ ضروری ہے ۔ جانوروں پہ رحم کر کے نفرتیں ذبح کریں ۔۔۔ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں مسجدوں میں لوٹوں کو باندھا جاتا ہے ۔ پاکستان میں شراب پینے والوں سے زیادہ زم زم پینے والوں نے غل مچا رکھا ہے ۔ آزادی کے بعد بنگلہ دیش میں ٹکے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے ۔ بلوچستان کی آواز
ہم غافل رہے یہاں تک کہ عوام میں قطرہ قطرہ زہر اترتا رہا اور ذہن سازی ہوتی گئی ۔۔۔ پھر سیاست میں مدینہ کی بستی بسانے کے خواب دکھا کر ربواہ کا سفر تیز تر کر دیا گیا ۔ کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگا کر جہاد کشمیر کو دہشت گردی ثابت کر دیا گیا ۔۔۔ہمدرد بن کر چھرا گھوپننے کے طریقہ میں کامیابی ملتی جا رہی ہے ۔ اسی طرح سینکڑوں عالم دین پیدا ہو گئے جو قرآن کی تفسیر بیان کر رہے ہیں جس میں ایمان اور چند اخلاقی امور پہ بہترین اسلوب سے بات کر نے کے بعد تمام تر باطل نظریات پڑھائے جا رہے ہیں غزوہ بدر میں اتنا ریشو تھا جہاد جب تک فرض نہیں جب تک طاقت کا ریشو بیلنس نہ ہو .

یہ بھی پڑھیں:   ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور - رومانہ گوندل

عورت کا عورت کے سامنے ستر اتنا ہے اس لیے گھر میں ہر طرح کا لباس پہنا جا سکتا ہے ، میوزک حلال ہے وغیرہ ... ہم غافل ہیں بلکہ بعض جگہ انھیں پروموٹ کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ اور اب ڈراموں میں یہی اسلوب اختیار کیا جا رہا ہے اور فحش لباس پہنے اداکاروں کو اسلامیات کا ٹیچر بنایا جا رہا ہے ۔۔۔ ہر وقت فضول لباس میں راگ گانے والی نانی کا اللہ پہ ایمان مضبوط اور سچا مسلمان دکھایا جا رہا ہے ۔ مہوش حیات جیسے لوگوں کو محب وطن بنا کر رہنما بنایا جا رہا ہے جو غیر محسوس طریقہ پہ نئی نسل میں نفاذ کرتا جا رہا ہے ۔ نئی نسل کی ذہن سازی ہر طرف سے ہو رہی ہے ۔۔۔ اور بہت آسانی سے وہ کامیاب ہو رہے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ اپنی محنت کا پھل کھا رہے ہیں ۔۔۔ ہم اپنے دائرہ سے باہر نکلیں اور دیکھیں کہ سیکولر نظریات عام ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔ اسلام کی بات نہ کریں اسلام پہ نہ لڑیں انسانیت کی بات کریں ۔ اسلام آپ کی پاکٹ میں رہے ۔ کسی کو جج نہ کریں کون کیسا لباس پہنتا ہے نامعلوم وہ کتنا نیک ہے ۔ کہنا یہ ہے کہ کفر کےطریقہ واردات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ابھی تک جماعت اسلامی فکری محاذ پہ کامیاب تھی ۔

اس پہ ہمیں فخر بھی رہا لیکن وقت بدل چکا ہے نئی نسل جعلی اسلام کے فریب میں نام نہاد پر امن انسان دوست نظریات سے مغلوب ہو چکی ہے ۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تو بہت پہلے سے کام ہو رہا ہے اب فکر کی بات یہ ہے کہ گورنمنٹ اسکولوں میں سیکولر این جی اوز کے مضبوط قدم جمانے کا کام شروع ہو گیا ہے جو ٹیچرز کی ٹریننگ کر رہے ہیں اور زہن سازی کا جو اسلوب اختیار کیا جا رہا ہے اس سے ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنا انداز پر امن رکھنا ہو گا ۔ بہت مہذب، بہت دھیما ۔۔۔مان لیں کہ ہم اس وقت سیاسی ہی نہیں فکری محاذ پہ بھی دفاعی پوزیشن پہ آ کھڑے ہوئے ہیں ۔ نئی نسل پہ باطل نظریات کو باطل ثابت کرنے کے لیے نئ جہتوں پہ کام کرنا ہو گا ۔ اور کچھ حقیقی اسلامی اصول ہمیں بھی اپنانے ہونگے ۔ دوسروں پہ تنقید کا انداز بدلنا ہو گا خود کو کامل سمجھ کر ہر جگہ ہر وقت اپنی بات کو مقدم رکھنا دوسرے کو خاموش ضرور کرا سکتاہے دل میں اترنا مشکل ہو جائے گا ۔۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے ایسا کیوں کیا؟ عمر ڈابا

دوستی محبت اور امن کا جھنڈا پکڑ کر اپنا کام پیش کرنے میں ہی اصل کامیابی ہے ۔ ایک مثال کوریا کے حال ہی میں مسلمان ہونے والے مشہور یوٹیوبر "جے کم " کی ہے جن کا اسلامی نام داود کم رکھا گیا ہے ۔ انھوں نے حالت کفر میں جب کہ وہ اسلام سے صرف امپریس تھے لاتعداد کورین عوام کے انٹرویو کیے اور بہت مسکرا کر پرامن دوستانہ انداز میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں رائے لی اور پھر ہنس ہنس کر ان کی ہاں میں ہاں ملائی ہاں جی میڈیا یہ بتاتا ہے مسلمان بہت خطرناک ہوتے ہیں ۔۔۔ آخر میں ایک سوال کر کے کایا پلٹ دیتا ۔۔۔ آپ کی کسی مسلمان سے ملاقات ہوئی ہے آپ نے کیسا پایا ۔۔۔۔۔ وہ لوگ خود کہنے پہ مجبور ہو جاتے کہ ہاں جی اسلام کے خلاف میڈیا پروپیگنڈا بہت زیادہ ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد انھیں جو ٹوپی پہنا دی گئی ہے اب شاید وہ اسلام کی اسطرح خدمت نہ کر سکیں جیسی کے اس پہچان سے پہلے کر چکے ہیں ۔ کفر کے درمیاں کافر رہ کر