مولانا کا آزادی مارچ 27 اکتوبر ہی کو کیوں؟

27 اکتوبر کی ایک تاریخی اہمیت ہے ۔ اسی روز صبح 9 بجے ڈکوٹا جہازوں میں بھر کر بھارتی فوج سری نگر اتاری گئی ۔ اب تو یہ حقیقت طشت از بام ہو چکی کہ پہلے سری نگر میں بھارتی فوج اتری، اور اس کے بعد جموں بھاگ جانے والے مہاراجہ سے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کروائے گئے ۔

یہ دستخط اس وقت ہوئے جب مہاراجہ کے دارالحکومت پر بھارت کی فوج قابض ہو چکی تھی ۔جس دن یہ فوجیں اتریں اس دن سے لے کر اب تک یہ دن یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر ، آزاد کشمیر اور پاکستان ہی میں نہیں ، دنیا بھر میں جہاں جہاں پاکستانی اور کشمیری موجود ہیں وہ اس روز کو یوم سیاہ کے طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں ۔ اس سال اس دن کی معنویت اور بڑھ چکی ہے ۔ کشمیر میں کرفیو کو 83 دن ہو گئے ۔ کون جیا کون مرا کسی کو کچھ خبر نہیں ۔ کشمیریوں کی آر پار رشتہ داریاں ہیں ، وہ اپنے رشتہ داروں کے لیے پریشان ہیں ، انہیں کوئی خبر نہیں وہ کس حال میں ہیں ۔ انہوں نے مل کر اس سال 27 اکتوبر کوغیر معمولی احتجاج کا فیصلہ کیا ۔ امریکہ ، برطانیہ ، سپین ، جرمنی ، کینیڈا میں بڑے بڑے اجتماعات اور احتجاج کا پلان دیا جا چکا ہے ۔ پاکستان نے بھی اس روز پہلے سے بڑھ کر یوم سیاہ پر احتجاج کا فیصلہ کیا تھا ۔ لیکن مولانا عین اسی دن آزادی مارچ کو لے کر بیٹھ گئے ۔ کیا کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے کہ کیوں؟

پاکستان کشمیریوں کا دیرینہ ساتھی ہے ۔ یہاں میڈیا پر ، سیاسی بیانیے میں ، حکومتی سطح پر ہر طرف کشمیر کی بات ہونا تھی، اگر مولانا بیچ میں آزادی مارچ نہ لے آتے ۔ دنیا بھر کے سفارت کار یوم سیاہ کو دیکھتے اور اپنے اپنے ممالک کو رپورٹس بھیجتے ۔ ایک احتجاج ریکارڈ ہوتا ۔ لیکن اب کیا ہو رہا ہے؟
دنیا بھر میں کشمیر کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں اور یوم سیاہ منایا جا رہا ہے لیکن پاکستان کے قومی سیاسی بیانیے میں کشمیر پس منظر میں چلا گیا ہے ۔ یہاں دارالحکومت میں کنٹینرز لگ چکے ہیں اور میڈیا میں ہر طرف یہی بحث ہے کہ مولانا کیا کر رہے ہیں اور ان کا مارچ کیا کرنے جا رہا ہے ۔ جن سفارت کاروں نے اپنے اپنے ملک کو کشمیر اور یوم سیاہ کی رپورٹس بھیجنا تھیں اب وہ بتا رہے ہوں گے کہ یہاں تو معاملہ ہی اور کا اور ہو چکا ہے ۔ جب پاکستان ہی سے کشمیر کے لیے بھر پور آواز نہ اٹھ سکی تو دنیا اس پر کیا خاک آواز اٹھائے گی ۔ اتنے اہم موقع پر کشمیر کا معاملہ قومی سیاسی اور صحافتی بیانیے میں ثانوی حیثیت اختیار کر جائے یہ کوئی معمولی المیہ نہیں ہے ۔ میرا سوال وہی ہے کہ یہ محض اتفاق ہے یا حسن اتفاق؟

طنزیہ سی اور ذو معنی سی مسکراہٹ بکھیر کر کہا جا سکتا ہے کہ کیا یوم سیاہ منا کر کشمیر آزاد ہو جائے گا؟ جمعیت علمائے ہند کے اکابرین جیسے آلودہ رویے اختیار کر کے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کیا مولانا نے کسی کو کشمیر فتح کرنے سے روک رکھا ہے لیکن یہ بات ذہن رکھنی چاہیے کہ مزاحمت کے عمل میں ہر مورچے اور ہر قدم کی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے ۔ آزادی مارچ سے یہاں کون سی مولانا کی تاج پوشی ہو جانی ہے لیکن ان کی سیاسی جدو جہد میں جلسے جلوس یہ سب ایک حکمت عملی کا حصہ ہے اور اس کی اپنی اہمیت ہے ۔ مولانا ایک ساحب بصیرت سیاستدان ہیں ۔ یہ ہو نہیں سکتا انہیں اس دن کی معنویت کا اندازہ نہ ہو ۔ وہ ایک عشرہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے ہیں ۔ وہ خووب جانتے ہیں ستائیس اکتوبر کی کیا اہمیت ہے ۔ سوال وہی ہے: سب جانتے بوجھتے اگر انہوں نے اپنے سیاسی احتجاج کے لیے اسی دن کا انتخاب کیا ہے تو یہ محض اتفاق ہے یا حسن اتفاق؟ بھارت کشمیر پر اٹھنے والی آوازوں سے پریشان ہے ۔ کرفیو طویل ہوتا جا رہا ہے ۔

مہاتیر محمد کشمیریوں کے حق میں بولے تو پام آئل کی پابندی لگانے کی بات کر دی گئی ۔ طیب اردوان نے کشمیر کا نام لیا تو ترکی کے خلاف بھارتی اخبارات میں داریے لکھے جانے لگے ۔ برطانیہ میں احتجاج کی تیاریاں ہونے لگیں تو میئر محمد صادق کے پاس بھارتی وفد چلا گیا کہ پلیز ایسا نہ ہونے دیجیے ۔ جو کام روکنے کے لیے بھارت دنیا میں لڑتا الجھتا اور منتیں کرتا رہا وہ کام پاکستان میں یوں غیر محسوس طریقے سے پس منظر میں چلا جائے تو سوال وہی ہے: کیا یہ محض اتفاق ہے؟ کشمیر کے مسئلے کو پس منظر میں دھکیلنے کے لیے بھارت نے جمعیت علمائے ہند کو استعمال کیا ۔ جمعیت علمائے ہند ہی کا ایک وفد سعودی عرب بھی بھیجا گیا کہ جناب ہم مسلمان تو بھارت ماتا میں بڑے سکھی ہیں ۔ بھارت میں موجود مسلم دنیا کے سفیر وں کے پاس بھی جمعیت علمائے ہند کے وفود بھیجے گئے کہ کشمیر میں مسلمان بہت خوش ہیں آپ پریشان نہ ہوں ۔
اب سوال تو اٹھے گا کہ ایک طرف جمعیت علمائے ہند کہہ رہی ہے کشمیر اہم نہیں ، اہم یہ ہے کہ یہاں مسلمان خوش ہیں تو کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پاکستان میں جمعیت علمائے اسلام زبان حال سے ثابت کر دے کہ اس کے نزدیک آزادی مارچ زیادہ اہم ہے ،

کشمیر کے حوالے سے یوم سیاہ کا کیا ہے وہ تو بس ایسے ہی ہے، برائے وزن بیت؟تنقید ہوئی تو کہا گیا دیکھیں جی ہم نے بھی تو 27 اکتوبر کا دن کشمیر کے لیے مختص کر دیا ہے. ساری تیاری آزادی مارچ کی ہے. سارا بیانیہ اسی سے متعلق ہے. سارے بیانات آزادی مارچ سے متعلق ہیں. ایسے میں محض مٹی جھاڑنے کے لیے یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ستائیس کو تو ہم کشمیر پر احتجاج کریں گے. آپ بہت سیانے ہوں گے، آپ نے بھی منطق پڑھ رکھی ہو گی لیکن عوام بھی نری انور مسعود کی مجھ نہیں ہے. دس سال مولانا کشمیر کمیٹی کے چیئر مین رہے ۔ یہ واحد کمیٹی ہے جس کے سربراہ کا رتبہ ایک وفاقی وزیر کے برابر ہوتا ہے اور اسے وزراء کالونی میں رہائش دی جاتی ہے ۔ غیر معمولی مراعات ہیں ۔ کیا اس منصب اور اس کاز سے اتنی طویل وابستگی کا اتنا بھی حق نہ تھا کہ آزادی مارچ دس دن بعد میں کر لیا جاتا؟
یاد رہے کہ ان سوالات کا تعلق حب الوطنی سے نہیں حکمت عملی سے ہے ۔ کسی کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے کا بلاشبہ کسی کو حق نہیں لیکن حکمت عملی پر ادب و احترام کے ساتھ شکوہ کرنے کا حق تو ہم طالب علموں کو ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */