اسرائیل کا تعلیمی نظام ۔ عبدالحفیظ بٹ

14مئی 1948ء میں ارضِ فلسطین پر بین الاقوامی سازش کےذریعے ریاست اسرائیل کا وجودعمل میں لایا گیا۔اسرائیل اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بحیرہ احمرکے شمالی ساحل پر واقع ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی لحاظ سے یہ نہایت اہم مقام ہے۔

اسرائیل کی زمینی سرحدیں کچھ اس طرح ہیں کہ اس کے شمال میں لبنان اورگولان کی پہاڑیاں،مشرق میں اردن اور فلسطینی علاقہ مغربی کنارہ، شمال مشرق میں شام اورجنوب مغرب میں غزہ کی پٹی اورمصر واقع ہیں۔ اس طرح اسرائیل ایشیا، افریقہ اوریورپ کے درمیان ایک پُل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اسرائیل کا کُل رقبہ 20ہزار 7سو 70کلومیٹر ہے۔ تاہم اس رقبہ میں 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں قبضہ کیے گئے عربوں کے علاقے بھی شامل ہیں۔ان مقبوضہ علاقوں کا مجموعی رقبہ 7ہزار99مربع کلومیٹر ہے۔ اسرائیل کےمرکزی محکمہ برائے شماریات کے مطابق اسرائیل کی موجودہ آبادی 90 لاکھ 62 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اس آبادی میں یہودی 74.2 فیصد عرب 20.9 ہیں جبکہ 4.9فیصد دیگر اقوام ہیں۔ اسرائیل کا دارالحکومت تِل ابیب ہے۔ یہ سائنس اورٹیکنالوجی کا مرکز ہے۔جب کہ دیگر شہروں میں بیت المقدس (یروشلم) اورساحلی شہر حیفہ قابلِ ذکر ہیں۔

بیت المقدس(یروشلم) کے بعد حیفہ اسرائیل کادوسرا بڑا اور اہم شہر ہے اسرائیل کی مجموعی آبادی کا55 فیصد ان شہروں میں سکونت پذیر ہے ۔ قابلِ ذکربات یہ ہےکہ اسرائیل نےحیرت انگیز طور پر 2 ہزار سال پرانی عبرانی زبان کو زندہ کردیا ہے۔ موجودہ اسرائیل میں جدید عبرانی زبان بولی جاتی ہے۔ عربی دوسری بڑی سرکاری زبان ہے۔ اگرچہ انگریزی بھی بولی جاتی ہے۔ اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی اولین اقدام میں سے ایک اتوار کے بجائے ہفتہ کو سرکاری تعطیل کا اعلان تھا۔
اسرائیل میں یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کے بعد سب سے بڑا درجہ تعلیم کا ہے۔
اسرائیل کے طول وعرض میں تعلیم کو سورج کی روشنی اور ہوا کی طرح مفت قرار دیا گیا ہے۔ 1967میں ساری دنیا کے یہودیوں نے چندہ جمع کیا تاکہ ایک بڑا سینیگاگ (یہودی عبادت گاہ) تعمیر کیا جائے۔
یہ مجموی رقم ایک بلین امریکن ڈالر پر مشتمل تھی یہ تمام رقم جب اسرائیل کے چیف ربی (مفتی اعظم اسرائیل) کی خدمت میں پیش کی گئی توچیف ربی نے عبادت گاہ کی تجویز کو یہ کہہ کررد کردیا کہ ’’خداساری دنیا کا مالک ہے۔ساری شان و شوکت اسی کے لیے ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں اس کے لیے ایک بلین ڈالر کی رقم کا محل تعمیر کرنے والے اس کی بندگی تو ہر جگہ سوتے جاگتے کی جا سکتی ہے۔ خدا کو جاننے کے لیے علم ضروری ہے۔ جاؤ اس رقم سے ایک تعلیم ٹرسٹ بناؤ تاکہ یہودی بےعلم نہ رہیں‘‘۔اس طرح دنیا کا سب سے بڑا تعلیم ٹرسٹ 1970 میں اسرائیل میں قائم کیا گیا۔
17مارچ 1969میں مسزگولڈامیر اسرائیل کی وزیرِاعظم منتخب ہوئیں۔ وہ اسرائیل کی پہلی اور دنیا کی تیسری خاتون وزیرِاعظم تھیں۔ گولڈامیر پیشہ کے اعتبار سے ایک ٹیچر تھیں، لہذا انہوں نے اسرائیل کی ترجیحات میں تعلیم کو سرِفہرست رکھا۔اس کام کے لیے انہوں نےایک نہایت عمدہ ایجوکیشن پالیسی پروگرام ترتیب دیا۔ جس کے مطابق اسرائیل میں صرف اُس شخص کو پڑھا لکھا تصورکیاجائے گا جو پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کرے۔
ایجوکیشن پالیسی پروگرام کے لیےخطیر رقم بجٹ میں مختص ہے،ایجوکیشن پروگرام طلبہ کی تعلیم میں نمایاں کامیابی کےلیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتاہے۔ پری اسکول ،میڈل اسکول اورہائی اسکول کی تعلیم، اساتذہ کی تربیت سازی،اعلیٰ درجے کی تعلیم پر خصوصی محنت اور توجہ اورپھر تمام مراحل کی مکمل جانچ پڑتال اورنگرانی کی جاتی ہے۔

تعلیمی پالیسی پروگرام کے افراد مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے سرکردہ محققین اور ماہرین پر مشتمل ہوتے ہیں۔جس میں وزارتِ تعلیم کے ڈائریکڑ جنرل اورچیف سائنس دان ،عبری تعلیم کے ماہرین اور پالیسی تھنک ٹینکس شامل ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج اسرائیل میں ہر شخص تعلیم یافتہ ہے۔اورخواندگی کا تناسب 98 فیصدہے۔ بین الاقوامی یونیورسٹیز میں اسرائیلی طلبہ کا شمار سب سے زیادہ نمبرزحاصل کرنے والے طلبہ میں کیا جاتاہے۔اب تک 9 اسرائیلی سائنسدان مختلف شعبہ جات میں نوبل انعام حاصل کرچکے ہیں۔ دنیا کی 100بہترین یونیورسٹیز میں اسرائیل کی 3 یونیورسٹیز بھی شامل ہیں۔
اسرائیل میں مطالعہ کارجحان بہت زیادہ ہے۔دنیا بھر سے منتخب کردہ کتب کے تراجم سرکاری سرپرستی میں وسیع پیمانے پر کئے جاتے ہیں۔اس اعتبارسے اسرائیل دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جبکہ کتابوں کی اشاعت میں اسرائیل دوسرے نمبر پر ہے۔
اقوامِ متحدہ ہو یا اُس کے ذیلی ادارے،بین الاقوامی مالیاتی ادارے ہوں یادنیا بھر میں پھیلی ہوئی کثیر الملکی کمپنیاں الغرض آپ کو دنیا کے کلیدی اداروں میں اہم مناصب پر اسرائیلی دکھائی دیں گے۔
معیاری ،مساوی اورمفت تعلیم کی بدولت اسرائیل کو ہنر مند اورتعلیم یافتہ افرادکی ایسی زبردست افرادی قوت حاصل ہوگئی ہے۔جس نے اسے دنیا کی 35 ویں بڑی معاشی طاقت بنادیا ہے۔معاشی خوشحالی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی باشندوں کا معیاری زندگی پہلے نمبر پر ہےجبکہ اسرائیلی کرنسی شیکل(Shekel) ایشیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ایک شیکل 44 پاکستانی روپیہ کے برابر ہے۔ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔