استحکام پاکستان میں افواج پاکستان کا کردار - عظمیٰ عروج عباسی

اے وطن تیرا اشارہ آگیا، ہر سپاہی کو پکارا آگیا ....نعرہ تکبیر ...اللہ اکبر....کی گونج ہی پاکستان کی سالمیت بقاء،دفاع اور امن واستحکام کی ضامن ہے- قیام پاکستان کے بعد 1947 سے لے کر اج تک"ایک ایک محاذ پر افواج پاکستان کے کارناموں کی نا قابل فراموش داستانیں جو وطن عزیز کے جانبازوں ،جوان دل شیروں نے اپنی بہادری ہمت و شجاعت سے رقم کیں ہیں-!

اس تاریخ کا ایک ایک لفظ شہیدوں کے لہو سے درخشاں ہے،اج جن آزاد فضاؤں میں ہم سانس لے رہے ہیں ،اس مٹی میں کتنے شہیدوں کے لہو کی خوشبو رچی ہے،اس مٹی کا ایک ایک ذرہ قوم کے سپاہیوں کے خون کا مقروض ہے -
سرزمیں پاکستان میں لا الہ الااللہ کے ماننے والے سپاہیوں کی ہیبت ،حمیت اور لازوال قربانیاں ہمہاری روشن تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں-
"نقش ہے جو دل پر وہ تحریر پاکستان ہے
اس کے ہر ذرے میں خون شھیداں شامل ہے"
""جوائنٹ چیف اف اسٹاف کمیٹی "" افواج پاکستان کے قیام سے لے کر اج تک ایک منظم ترین ادراہ ہے ،افواج پاکستان خواہ وہ بری ہے،بحری یا پاک فضائیہ ،دیگر اداروں کی مانند یہ قوم کا اعتماد جیت چکے ہیں، قوم ان پر بھروسہ کرتی ہے،اور یہ تینوں جغرافیائی سرحدوں کیساتھ ساتھ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے بھی محافظ و معاون ہیں...!"سو جاؤ عزیزو! کہ فصیلوں پہ ہر اک سمت
ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں"
پاک فوج 3 جون 1947 کو برٹش انڈین آرمی کی تقسیم کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی،بھارت نے 1947 میں نہایت جارحیت اور غیر منظم طریقے سے اپنی فوجیں کشمیر کی مسلم اکثریتی ریاست پر اتار دیں،مہاراجہ ہری سنگھ نے 80 فیصد مسلمان ہونے کے باوجود کشمیر کا بھارت کیساتھ الحاق کردیا-یہ اقدام بعد میں اغاز پاک بھارت جنگ ثابت ہوا-

قائد اعظم محمد علی جناح اور مجاہدین کی معیت میں پاک فوج کی یونٹیں باقاعدہ جنگ میں شامل ہونے لگیں،گو کہ پاکستان کی افواج بھارت کے مقابلے میں زیرو پوائنٹ پر تھیں،لیکن پاک افواج کے نو تشکیل دستوں نے مجاہدین کیساتھ ملکر بھارت کے لڑاکا جتھوں، اسکاؤٹس، بکتر بند،توپ خانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس بات کی ہر گز پرواہ نہیں کی کی کہ جنگی سازو ساماں بھارت کے مقابلے میں نا ہونے کو ہے، بلکہ پاک فوج نے اصحاب بدر رض کی مثال قائم کرتے ہوئے اللہ کی مدد کیساتھ اپنے زور بازوں پر حق کا حلم بلند کیا، اور ڈٹ گئے-
لیکن بدقسمتی سے پاکستان تشکیل نو کے مرحلے میں داخل ہوا تو اور بنیادی مسائل کیساتھ پاکستانی بری افواج کے برطانوی کمانڈر انچیف"جرنیل سر فرینک میسروی" پاکستانی افواج کی سربراہی کر رہے تھے،انھوں نے مداخلعت کر کے جنگ بندی کی حکمت پر زور دیا اور اقوام متحدہ کے حکم پر فوجیں واپس بلا لیں،بعدازاں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی
"لارڈ ماونٹ بیٹن"نےنہایت غیر منصفانہ طریقے سےپاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کا شمال مغربی حصہ یعنی"آزاد کشمیر"پاکستان کے سپرد کیا اور بقیہ علاقہ مقبوضہ کشمیر بھارت کے زیر انتظام آگیا ،جسے پاک فوج سمیت پوری قوم نے مسترد کردیا، بعدازاں پاکستانی قوم کے احتجاج کرنے پراقوم متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ علاقہ متنازعہ قرار پایا-
اس کے بعد 50 کی دہائی میں پاک فوج کے غیور اور زیرک نظر سپوتوں نے اپنی دفاعی ،اقتصادی صلاحیتوں کو مضبوط کیا اور قبائلی علاقوں سے نئے دستے فوج میں شامل کیے گئے، یونٹ کیساتھ نئے ڈویژن تشکیل دیے گئے تاکہ اقوام عالم میں پاک فوج اپنا اور پاکستان کا نام روشن کر سکے-

60کی دہائی میں بھی جنگی ماحول بنا رہا،بھارت کیساتھ تعلقات دن بدن کشیدہ ہو رہے تھے ،تاہم 1951 میں پہلے مسلم کمانڈرانچیف جنرل ایوب خان نے پاکستان آرمی کی کمان سنبھالی،جنرل ایوب خان وہ بہترین پاکستانی سپہ سالار تھے،جہنوں نا صرف پاکستان کی فوج کو نئے سرے سےمستحکم کیابلکہ1965 کی پاک بھارت جنگ کی جیت کا سہرا انکو ہی سجتا ہے-"ہر ھیرو سولجر نہیں ہوتا،مگر ہر فوجی ھیرو ضرور ہوتا ہے"
جنرل ایوب خان جنہیں اقوام عالم بہترین آرمی جرنیل اور صدر مانتی ہے-
جنرل ایوب خان کی حکمت دور اندیشی ،حب الوطنی ،شھادت کا جذبہ اور ولولہ انگیز خطاب 1965 کی جنگ میں کلیدی کردار کی حثیت رکھتا ہے-

6 ستمبر کی صبح جب دشمن نے اپنی بزدلانہ روایت برقرار رکھتے ہوئے اچانک نومولود پاکستان پر دھاوا بول دیا تو جنرل ایوب خان بجائے بوکھلاٹ کے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے اس وقت وہ پاکستان کے صدر کے عہدے پر فائز تھے ،مگر اپنی فوجی بصیرت استعمال کرتے ہوئے ایسا پرجوش خطاب کیا کہ دس کروڑ عوام سپاہیوں کے ہمراہ لا الہ الا اللہ کی صدا بلند کرتی دشمن کے دانت کھٹے کرنے بارڈر پر پہنچ گئی-
لیکن پاکستان کے ڈھول سپاہیوں نے سب سے پہلے خود کو پیش کیا اور دشمن کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا کہ ..!اے دشمن تو نے کس قوم کو للکارا ہے؟
میجر شفقت بلوچ نے بھارت کی پوری بریگیڈ کو نو گھنٹے تک روکے رکھا اور ایک انچ بھی اگے نہیں بڑھنے دیا،صرف ایک سو فوجیوں کی مورچوں پر اس طرح تشکیل دی کہ کہ دشمن یہ سوچتا رہ گیا کہ جانے پاکستان کی کتنی فوج مورچوں تک پہنچ چکی ہے ،ان کی اس تدبیر نے بھارتی جنرل کی بھڑک کو اگ کے شعلوں میں بھسم کردیا -اور لاہور کی رونقیں لاہور کا جم خانہ اج بھی اباد ہے اور یاد دلاتا رہیگا کہ میجر شفقت محمود کی اس پہلی پیش قدمی کو جس نے پوری جنگ کا پانسا پلٹ کر رکھ دیا تھا"

یہ بھی پڑھیں:   شاہ محمود قریشی: پاکستان نے سی پیک پر امریکی موقف مسترد کردیا ہے

سیالکوٹ کے چونڈہ سیکٹر میں ایک ایک سپاہی ایسی جواں مردی ،بہادری اور شجاعت سے لڑا کے اسکا ذکر کتابوں میں سمیٹنا مشکل ہے"
"اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے اتے ہیں"
وطن عزیز کی سالمیت اس کے دفاع اور اسکے امن و استحکام میں پاک فوج کے لہو کی رنگینی سے اس زمیں کی ابیاری ہوئی ہے،تب ہی جا کرہریالی آئی ہے -17 روز تک لڑی جانے والی 1965 کی جنگ نےاپنے سے 5 گناہ بڑے دشمن کا پانسا پلٹ کر رکھ دیا تھا،ہمہارے اج کو بہترین بنانے کیلئے فوج کے ان جری جوانوں نے گولی کو اپنے سینوں ہر اعزاز سمجھ کر سجایا اور دھرتی ماں پر قربان ہو گئے-
دوسری جنگ عظیم کے بعد 1965 کی جنگ کو ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کہا جاتا ہے،جب ایک گیدڑ نے شیر کے پنجرے میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تھی "میجر عزیز بھٹی شھید نے پانچ دن تک دشمن کو ناکوں چنے چبوائے ،اور اخری مورچوں پر جا کر گولیوں اور بلیک ایلیفینٹ ٹینکوں کے بھڑکتے شعلوں کے اگے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے ،بھادری اور شجاعت کی وہ مثال قائم کی کہ دشمن انکے خوف سے ٹینکر وہیں چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا،دشمن کی کئی بزدلانہ نشانیاں اج بھی چونڈہ کے مقام پر پاک فوج کی بہادری اور اور دشمن کی شرمناک ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں-اسکا سہرا میجر عزیز بھٹی سمیت کئی نامعلوم سپاہیوں کے سر کا تاج ہے جہنوں نے اس جنگ کو جیت کر بھارت کا 1200 کلو میٹر علاقہ فتح کیا اور خود امر ہو گئے ،پاکستان اور پاکستانی قوم ان شھیدوں کی کی بے مثال قربانیوں کو مرتے دم تک بھول نہیں سکتی!
"تختہ و تخت میں سے ایک چنا کرتے ہیں
ہم ادب و شان سے دنیا میں جیا کرتے ہیں
توپ کیا چیز ہے؟بندوق کسے کہتے ہو؟
ہم تو ٹینکوں کی صفیں چیر دیا کرتے ہیں"
"پاک بحریہ کی ابدوز غازی جس کے ذکر کے بغیر 1965 کی جیت ادھوری ہے ،یہ پی.این ،ایس غازی 7 ستمبر کو دوارکا کے قلعے پر قہر بن کر برس پڑی اور بھارت کے جنگی جنون کوستمبر میں ستمگر ثابت کیادوارکا کا اڈہ تباہ کر کے یہ شان سے غازی بن کر لوٹی اور اسمیں موجود کرنل تاریخ کے سنہرے اوراق میں ہمیشہ زندہ و جاویداں رھیں گے .....
اقبال کی اس نظم کے چند اشعار جو اندلس کی جنگ میں طارق بن زیاد جیسے ہر غازی کے نام ہیں-
"یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنھیں تو نے بخشا ہے ،ذوق وخدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے راہی"

پاک بحریہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کے تحفظ کیلئے گیارہ گیارہ ماہ بغیر سورج کی روشنی اور تازہ ہوا کے جنگی جہازوں میں ہمہ تن پانیوں کی گہرائی میں پاکستان کے امن و سکون سلامتی کیلئے پہرہ گیر ہے،اب تک ہونے والی کئی آبی جھڑپوں میں پاکستان کی سالمیت کیلئے دشمنوں کو آب بوس کر چکی ہے،سمندری حدود میں کسی قسم کی جغرافیائی خلاف ورزی پر پاک بحریہ کے جری جوان تلاطم خیز موجوں کا رخ بدل کر دشمن کو غرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں...!
"پاک فضائیہ کے ورلڈ ریکارڈ جو دنیا میں اج تک کوئی نہیں توڑ سکا انھیں کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے،بہادر جانباز ،نڈر،بے باک ،شیر دل شاہین ان سے کون باخبر نہیں جس نے 1965 کی جنگ میں ایک منٹ سے کم وقت یعنی40 سکینڈ کے اندر 5 بھارتی ہنٹر طیارے ڈھیر کردیے ،اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیا پاکستانی شاہین اپنے دفاع کیلئے ہوا کا سینہ چیر کر دشمن کی ہر بازی ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،شھید ہو کر امر یا غازی بن کر فخر قوم بن جایا کرتا ہے،ایم ایم عالم کا یہ ورلڈ ریکارڈ پاکستان کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے.!
"خون دل دے کر نکھاریں گے برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے"

رواں سال 27 فروری پاک فضائیہ کے جانباز اسکوارڈن لیڈر احسن صدیقی نے ایم،ایم عالم کی یاد تازہ کردی اور چند سکینڈ میں بھارت کے دو فائٹر طیارے مار گرائے،mig-21کے پائلٹ ابھی نندن کو زندہ گرفتار کرلیا، شاہین احسن صدیقی نے نہایت بہادری سے انڈین سورماؤں کو چت کر دیا اور پیغام دیا کہ شاہین کا مقابلہ کرنا اسان نہیں...اللہ کی مدد و نصرت خلاؤں،ٍفضاؤں میں پاک فوج کے سپاہیوں کی معاون ہے-
عزم و حوصلے کی نئی مثال آسمانوں میں اپنی منزل تلاش کرتی مریم مختار پاکستان کی پہلی فائٹر پائلٹ شھید ہیں جو پاکستان کیلئے کچھ کرنے کے جذبے سے سرشار معمول کی پرواز پر تھیں کہ اچانک f7 میں تکنیکی خرابی کے باعث پرواز ڈھولنے لگی،راشد مہناس کی مثال قائم کرتے ہوئے انھوں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر طیارے کو زمینی اور جانی نقصان سے بچاتے ہوئے کچہ گاؤں گجرات کے مقام پر جان کا نذرانہ دے کر جام شھادت نوش کیا اور دنیا میں پاکستان کا نام بلند کیا!
"شھید کی جو موت ہے،وہ قوم کی حیات ہے
لہو جو ہے شھید کا وہ قوم کی زکواۃ ہے"

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر یہ نام سنتے ہی دل غم سے پھٹ پڑتا ہے۔-علی رضا

"اس سرزمین کے کھیت و کھلیان امن امان بچے جوان ،شہر نغمگاں .صبح بہاراں یہ سب رونقیں جمال ایک ایک سپاہی نے اپنے خون سے سینچ کر اس چمن میں ہریالی لائی ہے،اس وطن کی کٹھن تاریک راہوں میں جان دے کر ہمارے لیے روشن سویرے پیدا کیے ہیں،ہم سوتے ہیں،سپاہی برف ہوش ویران چوٹیوں پر بیدار گھڑے رہتے ہیں، عید ہو یا محرم ،آگ ہو یا دریا،بہار ہو یا خزاں ،جنگل ہو یا صحرا،میدان ہوں یا ٹیلے ،کھائی ہو یا بلندی ہر سمت پیٹ کے بل رینگتے ہوئے ہماری حفاظت پر مامور ہیں،مالی نے اپنے خون سے پانی دے کر اس گلشن کی حفاظت کی ہے تب ہی جا کر ہم سکون سے رہتے ہیں....!!

سطح سمندر سے 17000 فٹ کی بلندی پر لڑنا کیا ہوتا ہے؟-20c پر وطن کیلئے جان دینا کیا ہوتا ہے؟بس یوں سمجھیں!کہ ایک ریفریجٹر پر پر 1cپر برف بنتی ہے،اور انسانی خون -2c پر جمنا شروع کردیتا ہے،کارگل اور سیاچن میں -20c ٹمپریچر ہوتا ہے،

"نسیم زھرہ اپنی کتاب میں from kargil to the coup میں لکھتی ہیں ""اپریشن کوہ پیما" ایک ضرب المثال اپریشن تھا،جرنل عزیز پہلے ہی سیاچن کے مقام پر 28 برف پوش چوکیاں فتح کر چکے تھےاور کارگل میں جس طرح ہمہارے فوجی جوانوں نے پیش قدمی کی اتنی بلندی پر اور بڑی خاموشی سے جنگی سامان پہنچاہا،اسکی داد پوری دنیا میں نہیں ملتی،اگر ملکی سیاست آڑے نا اتی تو قریب تھا کہ جرنل پرویز مشرف اور جرنل جاوید کی قیادت میں مقبوضہ کشمیر فتح ہو جاتا"
کیپٹن کرنل شیر خان 5جولائی 1999کو کارگل کے محاذ پر لڑتے ہوئے شھید ہوئےبھارت نے جب انکا جسد خاکی واپس کیا تو تمام بھارتی چینل ،میڈیا چیخ چیخ کر اس عظیم سپوت کی بہادری کا قصہ سنا رہے تھے جسکا منجمد جسم نیل نیلگوں تھا ،پر جذبہ شھادت وقت نزع تک جوان تھا"

"پاک فوج کے ssg کمانڈوز جنگی بصیرت،بہادری میں پوری دنیا کی ایلیٹ فورسز میں نمبرون پوزیشن رکھتے ہیں سعودیہ عربیہ سمیت باہر کی دنیا میں کئی معرکے سر کرنے والی پاکستانی افواج کو اقوام عالم دنیا کی بہترین انفرادی فوج مانتی ہے اسکی انفرادیت جزبہ شھادت نعرہ تکبیر .......یا فتح ....."

""صرف خانہ جنگی میں ہی نہیں ....! بلکہ ملک کو معاشی سطح پر بھی مستحکم کیا تمام بڑے ڈیمز اآرمی کے دور حکومت میں بنائے گئے،
شمالی وزیرستان سے لے کر کراچی تک زلزلہ ہو یا سیلاب،بد امنی ہو یا بد حالی پاک فوج کے سپوتوں نے ہر مصیبت کو گلے لگایا اور قوم کے سر پر سایہ فگن رہے"

9/11 کے بعدملکی حالات ابتری کا شکار تھے ہر طرف خوف کے بادل منڈھلا رہے تھے ، اندرونی سطح پر ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا جارہا تھا،پوری دنیا پاکستان کو دہشت گرد مانتی تھی،دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سپہ سالارجرنل راحیل شریف کے ہمراہ اپریشن راہ نجات ،ضرب عضب،ردالفساد" کیا افواج پاکستان نے ملک کو امن کا گہوارہ بنا دیا اور دنیا کو بتایا کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا نا ہر مسلمان دہشت گرد ہوتا ہے"اندونی بیرونی سازشوں کا ڈھٹ کر مقابلہ کیا-

"آرمی کے مارخورخفیہ ہیروز استحکام پاکستان کیلئے دنیا کے کونے کونے میں اپنی خدمات خاموشی کیساتھ انجام دے رہے ہیں.،ملک میں چھے ٍغداروں ،کلبھشنوں کو بے نقاب کر کے دنیا کے سامنے لا رہے ہیں.ان کی داستانیں کئی گناہ زیادہ طویل اور دردناک ہیں لیکن آزادی سے لے کر اج تک ہر محاذ پر ہونے والی پاکستان کی کامیابیوں اور امن استحکام میں انکا بھی پورا پورا کردار ہے"
"
ہم بڑی اسانی سے گھر میں بیٹھ کر افواج کو مورد الزام ٹھہرا دیتے ہیں ،پر یہ نہیں سوچتے کہ گولیوں کی سنسناہٹ ،گولوں کے اگلتے شعلے چوبیس گھنٹے موت سر پر"
کاش یہ سوچیں وہ بھی کسی کا ماہی کا لال ہوگا،کسی سہاگن کا سہاگ ہوگا،کسی بیٹی کا باپ،کسی خاندان کا کفیل ہوگا ،جس نے پاکستان کے امن واستحکام کی خاطر اپنی خوشیوں کا گھلا گھونٹ کر اس مٹی کو سیراب کیا!
"اے پتر ہٹاں تے نہیں ویکد"

"ہم افواج پاکستان کے لازوال کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور یہ عہد کرتے ہیں کہ آرمی چیف جرنل قمر جاوید باجوہ،ائیر چیف مارشل مجاہد انور،چیف اف نیول ظفر محمود عباسی کے شانہ بشانہ ملکی امن استحکام کی جنگ خون کے آخری قطرے تک لڑتے رہیں گے"
حوالہ جات:
"تاریخ مطالعہ پاکستان،گریجویشن لیول،تحریک آزادی کشمیر،مصنف :فتح ملک،اردو ڈاکو منٹریز،لائن آف فائر،:پرویز مشرف"