چھوٹے لوگ بڑے دعوے _ طارق حبیب

خان نے تھوڑا ہوش سنبھالا تو حکم دیا کہ پنجاب حکومت سانحہ ساہیوال میں مدعی بنے گی۔اب زرا کوئی پوچھے کہ جب سارے گواہ منحرف کرائے جارہے تھے ۔ آپ کی پنجاب حکومت اور آپ کہاں تھے ۔ اس وقت آپ کو اندازہ نہیں ہوا کہ کیس کس رخ پر جارہا ہے ۔ جب متاثرین کا وکیل بتارہا تھا کہ بچوں کو اور مجھے جان کا خظرہ ہے تو اس وقت ہی دیکھ لیتے کہ اس کیس کے ساتھ کیا کیا جارہا ہے ۔

سنے خان صاحب فیصلہ آج آیا ہے مگر کیس تو 28 مئی کو ہی پلٹ دیا گیا تھا اور پھر 7 اکتوبر کو تو سب واضح ہوچکا تھا ۔ عوام سمجھ گئی تھی، وکلاء جان چکے تھے، صحافی جان گئے تھے اور وہ معصوم بچے تک سمجھ گئے تھے کہ انکے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے ۔

اسلیے عدالت میں کیس ہونے کے باوجود پنجاب اسمبلی کے سامنے ہاتھ جوڑے انصاف کی بھیک مانگ رہے تھے ۔ بس اگر نہ سمجھ سکے تو ایک آپ اور آپ کی سادہ اور معصوم کابینہ نہ سمجھ سکی ۔

اور پنجاب حکومت کا بھی بتا دوں کہ زرا متاثرین سے مل کر پوچھ لیں سنا ہے کہ دبائو ڈالنے والوں میں خود پنجاب حکومت کے اہم ذمہ داران شامل ہیں ۔ یعنی کے جنھوں نے کیس یہاں تک پہنچایا اب وہی اپیل کریں گے ۔ چلتے چلتے ایک اور بھی بات بتا دوں ۔

مشرف غداری کیس میں پہلے چار بار ججوں کے بنچ تحلیل کیے گئے تھے ۔ مگر جناب محترم وزیر اعظم صاحب ۔ اس دفعہ استغاثہ ہی تحلیل کردیا گیا ہے .... انصاف کی فراہمی کے ایسے معجزوں کا اعزاز پاکستان کو ہی حاصل ہے اور حاکم آپ ہیں۔

سو بس گزارش اتنی ہے کہ دعوے وہ کریں جن پر عمل کرسکیں ورنہ چھوٹے قد و منہ سے بڑی باتیں مناسب نہیں لگتیں۔

انصاف فراہم کرنے کے دعووں پر عملدرآمد صرف وہ کروا سکتے ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اور ایسے ابھی دور دور تک نظر نہیں آتے۔

رہے نام مولا کا