حکم کے بغیر ایمپائر انگلی نہیں اٹھاتا - قادر خان یوسف زئی

گزشتہ دورَ حکومت میں تحریک انصاف نے جب اسلام آباد میں دھرنے ، سول نافرمانی، لاک ڈائون اور اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تو اُس وقت بھی پاکستان متعدد بحرانوںسے گذر رہا تھا۔ الیکٹرونک میڈیا ، تحریک انصاف کے احتجاج و دھرنے کی پل پل کر خبر دے رہا تھا اور کوئی ایک ایسا لمحہ نہ تھا جس میں عمران خان و طاہر القادری کے خطاب کا بلیک آئوٹ کیا گیا ہو۔ نیوز چینل وہ سب کچھ دکھاتے رہے جو عوام شاید دیکھنا پسند نہ کرتے لیکن الیکٹرونک میڈیا نے اُس وقت اس بات کا بھی خیال نہیں کیا کہ اس سے ملک کے دیگر حصوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اب رواںکتوبرکے آخری دنوںمیں حزب اختلاف اُسی سیاسی عمل کو دوہرا رہی ہے اور راقم کا وہی موقف حزب اختلاف کے رہنمائوں کے لئے بھی ہے کہ اگر انتہائی شدید اختلافات ہیں تو پی پی پی ، سندھ کی حکومت کو تحلیل کردے ، رہبر کمیٹی کی تمام سیاسی جماعتیں سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیں ۔ سب سے پہلے اپنی نیت کو تو واضح کریں کہ پارلیمان منتخب کی گئی یا کرائی گئی۔

ہم سب جانتے ہیں کہ کوئی بھی استعفیٰ نہیں دے گا کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ تحریک انصاف مڈٹرم انتخابات کے بجائے ضمنی الیکشن کرا کر دو تہائی اکثریت حاصل کرلے گی اور آرڈیننس جاری کرانے کے بجائے ایوانوں سے ہر قسم کی قانون سازی کرنے کے لئے انہیں رکائوٹ کا سامنا بھی نہیں ہوگا۔ تاہم میری رائے اب بھی وہی ہے جو تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج و دھرنے کے وقت تھی کہ ، آئینی طریقہ اختیار کیا جائے اور دھرنوں سے جو نقصان پہنچ سکتا ہے اس سے بچا جائے ۔ تحریک انصاف اُس وقت پارلیمان میں اتنی عددی قوت نہیں رکھتی تھی کہ وہ عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کو تبدیل کرسکتی ۔پیپلز پارٹی و ایم کیو ایم کے ساتھ عمران خان کے تعلقات اچھے نہ تھے اس لئے تحریک انصاف نے رات گئے دھرنے کو126دن تک جاری رکھا ۔ موجودہ حزب اختلاف کی پوزیشن گذشتہ حکومت سے مختلف ہے۔ موجودہ حکومت صرف چند نشستوں پر( بظاہر) ٹکی ہوئی ہے۔ چھوٹی چھوٹی اتحادی جماعتیں تمام تر تحفظات کے باوجود تحریک انصاف کو سپورٹ کررہی ہیں۔( یا مجبور ہیں )۔

تحریک انصاف سے جو بھی اختلاف ہو ، عمران خان باحیثیت وزیر اعظم ناپسند ہیں تو پارلیمان سے تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ وزیر اعظم کو ہٹائیں ، صدر کو فارغ کریں اور پھر اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کا اعلان کردیں ۔ لیکن ٹھہریئے، اس بات کی گارنٹی کون دے گا کہ نئے انتخابات’’ شفاف‘‘ ہونگے ۔ انہیں من و عن تسلیم بھی کرلیا جائے گا ۔پہلے تقریباََ ہر سیاسی جماعت کا نعرہ ہوتا تھا کہ فوج کی نگرانی میں انتخابات کرائے جائیں ۔ اب کہتے ہیں کہ انتخابات میں فوج کو کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔ کیا پارلیمان نے انتخابات کے لئے اصلاحاتی عمل اس قدر شفاف بنادہاہے کہ جب بھی انتخابات ہوں تو شکست خودہ جماعتیں صدق دلی سے قبول کرلیں گی۔

میرے نزدیک تو ایسا نا ممکن ہے۔ آرٹی ایس سسٹم کا حشر تو ہم سب دیکھ چکے ہیں ، افغانستان میں بائیو میٹرک نظام سے ووٹروں کی تصدیق کا بدترین تجربہ ہمارے سامنے ہے۔ بھارت میں الیکٹرونک پولنگ مشینوںپر بھی بہت تنقید ہوئی لیکن تمام تر تحفظات کے باوجود اپوزیشن میں نتائج تسلیم کئے۔امریکی صدارتی انتخابات میں روسی سائبر مداخلت کے الزامات بھلائے نہیں گئے۔ بنگلہ دیش کے خونی انتخابات سیاہ تاریخ بن چکے ہیں۔جہاں300میں سے 288نشستیں چوتھی بار جیتنے والی شیخ حسینہ کو ملی اور صرف6 نشستیں اپوزیشن کو۔

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال71برسوں کی طرح اب بھی کشیدہ ہے۔ بھارت کی خودسری لائن آف کنٹرول پر تبدیل نہیں ہوئی ۔ سب کچھ جیسا تھا ویسا ہی ہے۔ اس لئے میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ اگرحزب اختلاف احتجاج نہ کرے تو کیا مقبوضہ جموں وکشمیر آزاد ہوجائے گا ، ملک پر اربوں ڈالر کا قرضہ اوراداروں کے لئے کرائے کے مشیروں کی ضرورت ختم ہوجائے گی، افغانستان مفاہمتی عمل کامیاب ہوجائے گا ،ایران اور سعودی عرب تنازع ختم ہوجائے گا ،ترکی ،شام ، یمن ، صومالیہ میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا ؟۔ آخر کیا ہوگا ۔ کوئی مجھے سمجھائے کہ اگر حزب اختلاف احتجاج نہ کرے تو کیا ہوجائے گا ، ایک کروڑ نوکری و لاکھوں گھر جادو کی چھڑی گھما کر عوام کو دے دیں گے ، ڈالر کی سطح 1988کی سطح پر لے آئیں گے ،کرپٹ خاندانوں کو ڈی چوک پر پھانسی پر لٹکا دیں گے؟۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ ایسا بھی کچھ نہیں ہوگا، لیکن حکومت احتجاج کو روکنے کے لئے جس قسم کے اقدامات کررہی ہے وہ اچھا تاثر نہیں دے رہے۔ حزب اختلاف عمران خان کو رخصت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں پارلیمان سے آئینی طریقہ اختیار کرکے فارغ کردیں ، لیکن وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سینیٹ چیئرمین و نائب چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں جس قسم کا اُن کے ساتھ ہاتھ ہوا تھا وہ سب کچھ قومی اسمبلی میں دوہرایا جاسکتا ہے۔ اگر ڈی چوک کو تحریر اسکوئر بنانا چاہتے ہیں تو ایک نظر ہانگ کانگ ، لیبیا ، عراق ، ایران ، فرانس، جرمنی اور لبنان کے احتجاجی مظاہروں کو دیکھ لیں۔ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے ، کیا نتائج سامنے آئے۔ کیا کچھ بدلا ، برطانیہ کی مثال دیکھ لیں ، بریگزٹ ڈیل تنازعے پر چار ورزائے اعظم تبدیل ہوگئے۔ امریکی صدر و کانگریس کی جنگ دیکھ لیں، ٹرمپ کے مواخذہ کا کیا حشر ہوا۔

آج بھی میرا یہی ماننا ہے کہ پارلیمان منظور نہیں تو ایوان بالا ، ایوان زریں اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیں ۔استعفیٰ نہیں دینا چاہتے تو پھرپارلیمان میں اپنے جمہوری نظام کے آئین سے تبدیلی لے آئیں ۔ یہ بھی نہیں کرسکتے تو پھر عوام کو بھی دیکھ لیں ۔ لبنان میں واٹس ایپ کال پر ٹیکس لگانے پر حکومت کو ہلادیا جاتا ہے اور یہاں عوام تاریخ کی بلند ترین سطح پر ڈالر و مہنگائی جانے پر چپ سادھے بیٹھی ہے۔ ترکی میں ایک واٹس ایپ پیغام پر لاکھوں عوام بغاوت کچل دیتے ہیں، لیکن ہماری عوام موبائل پر ٹک ٹاک دیکھ رہی ہے۔ ہمیں ساری وجوہ کو سوچنا ہوگا ۔ بالفرض عوام اسلام آباد نکل آتی ہے ، حکومت نے تو استعفیٰ دینا نہیں ، تو پھر کیا قبریں کھودیں گے۔ کفن تقسیم کریں گے ، سرکاری املاک پر قبضہ کرائیں گے، عوام و سیکورٹی فورسز کے ٹکرائو سے انقلاب لائیں گے۔جھنڈا سفید ہوگا یا کالا ۔

لیکن یہ انقلاب کس کے خلاف ہوگا ۔ حکومت کے خلاف ، جیسے پارلیمان سے ہٹانہیں سکتے یا اُس کے خلاف جس کے حکم کے بغیر ایمپائر انگلی نہیں اٹھاتا۔احتجاج کریں، دھرنا دیں جو آئینی حق ہے وہ سب کریں لیکن ملک و قوم کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی سازشوں کو مد نظر رکھیں ۔ حکومت مصنوعی مذاکراتی عمل و تضیحک آمیز رویئے سے اجتناب کرے۔ میڈیا کو آزاد ی سے کام کرنے دیں ۔ عوام دودھ اور پانی کوالگ الگ دیکھنا ہے۔ جو اپنے عمل لئے جائز سمجھا ، وہ اپوزیشن کو بھی کرنے دیں یا پھر ماضی میں کئے جانے والے عمل پر قوم سے معافی مانگیں۔ دھرنوں سے کوئی حکومت نہیں جاتی۔ کیونکہ حکومت بنانے والے تو شروع سے ہی اقتدار میں ہیں۔ چہرے بدلنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com