تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے-میمونہ بلوچ

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک دفعہ اپنے رب سے پوچھا کہ اے مالک دوجہاں، فرعون اسقدر مغرور اور خود پسند تھا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ کیا، اسکے باوجود بھی آپ اسکو ڈھیل دیتے رہے اور اس کی رسی دراز کرتے رہے، اسکی کیا وجہ تھی -

رب نے فرمایا "میں کیا کرتا کیونکہ وہ کم بخت اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کیا کرتا تھا" آجکل کے حکمران مغرور اور خود پسند بھی ہیں اور بے انصاف بھی. اس خبر نے روح تک کو ہلا کر رکھ دیا، کہ سانحہ ساہیوال کے چشم دید گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے ہیں اور جج نے تمام مجرموں کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیا - حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ" کفر پر مبنی معاشرے پنپ جاتے ہیں مگر ظلم اور بے انصافی پر مبنی معاشرے ہرگز نہیں، ھمارے معاشرے میں ظلم، بے انصافی، خود پسندی اپنے عروج پر ہے، ہمارے اندر سے خوف خدا بھی نکل چکا ہے، ھمارے اندر وہ تمام قباحتیں جڑ پکڑ چکی ہیں، جن کی پاداش میں رب ذوالجلال نے گزشتہ اقوام پر اپنا قہر نازل فرمایا، انکے کھنڈرات ھماری عبرت کیلئے باقی ہیں -

صرف حکمرانوں کا قصور نہیں، ہم من حیث القوم اخلاقی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، ریڑھی والے مزدور سے لے کر، دفتر میں کام کرنے والے افسران تک ہر ایک کی رگوں میں خون کی بجائے زہر گردش کر رہا ہے، ہر بندہ دوسرے کو زک پہچانے کی تگ و دو میں ہے، ایک دہائی پہلے تک کہیں کہیں انسانیت نظر آ جاتی تھی، اب تو ڈھونڈے نہیں ملتی-
ایسے میں سانحہ ساہیوال کے مرحومین اور انکے بچوں کو کیا پرسا دیا جائے، ھمارے گناہوں کی فصل پک چکی ہے، جانے وہ بردبار رب کب تک ھماری رسی دراز کرے گا -