اب صاحب انصاف ہے خود طالب انصاف - قاضی نصیر عالم

فیڈرل کاسترو اور میرا تعلق ویسا ہی تھا جو آج سے چالیس سال پہلے میاں برادران کا آپس میں تھا یہ اس زمانے کی بات ہے جب فیڈرل کاسترو مقبولیت پا چکے تھے لیکن انقلاب کی منزل ابھی کوسوں دور تھی۔ایک روز گرفتاری کے احکامات جاری ہوئے تو میں اور وہ رپوش ہو گئے۔

اور اندھیرا پھیلنے پر کسی عمارت کی چھت پر پہنچ گئے رات بھر سوچتے رہے کہ صبح ہو گی اور لوگوں کو پتہ چلے گا تو وہ اٹھ کھڑے ہوں گے کاروبار زندگی معطل ہو جائے گا۔۔ لیکن جب صبح ہوئی تو ہر طرف پھیلے سپاہیوں کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ جس چھت پر ہم چھپے بیٹھے ہیں وہ کوئی دفاعی عمارت ہے۔۔دوسری طرف سڑک کی سمت جھانکا تو کاروبار زندگی رواں دواں تھا۔۔ لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے۔۔ یہ دوسرا دھچکا زیادہ خطرناک تھا۔کاسترو جھنجھلا اٹھے دیر تک بیٹھے سوچتے رہے کہ جن لوگوں کے لیے میں اپنی جان جوکھوں میں ڈالے ہوئے ہوں ان کو میری رتی برابر پروا نہی تو پھر میں کس لیے اپنی زندگی عذاب کروں۔۔میں نے اس کی بھرپور تائید کی شائد وہ گرفتاری دینے کا فیصلہ بھی کر لیتے لیکن دوسرے خیال نے آن لیا۔۔ یہ لوگ میرے پاس چل کر تو کبھی نہی آئے تھے کہ ہم اس ذلت کا شکار ہیں آپ ہمارے لیے کھڑے ہوں اور اس سے چھٹکارا دلائیں یہ تو میرا اپنا فیصلہ تھا میرے ضمیر کی آواز تھی کہ میں اپنے لوگوں کو اس حال میں نہی دیکھنا چاہتا تھا تو پھر لوگوں سے کیسا شکوہ۔۔ جیسے تیسے ہم اس عمارت سے باہر آئے میں نے کاسترو سے آخری معانقہ کیا کیوبا کے لوگوں پر چار حرف بھیجے اور واپس لوٹ آیا کاسترو نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور منزل پالی۔۔

لیکن اس کی ناراضگی مرتے دم تک ختم نہ ہوئی میرے شہر سے زرا پرے حیدر آباد میں جام ساقی کو وہ سلام بھجواتا رہا اور میرا تزکرہ اس نے اپنی سوانح حیات میں کرنا بھی گوارا نہ کیا۔سوچتا ہوں اگر اس روز کاسترو اپنے آپ سے ہار جاتا تو اسے کون جانتا۔۔ آج اسی دوراہے پر کاسترو کی جگہ نوازشریف اور میری جگہ شہباز شریف کھڑے ہیں۔۔ میاں صاحب اس ملک میں جمہوریت کے لیے جو قربانی دے سکتے تھے اس سے بڑھ کر دے چکے ۔لیکن یہاں جمہور کو ابھی اندازہ بھی نہی کہ آمریت کیا بلا ہے اور جمہوریت کا حسن کیسا ہے۔۔ کیوں یورپ نے اپنے گلے سے اس غلامی کے طوق کو اپنی گردنوں سمیت اتار پھنکا اور کیوں عرب و فارس تک لوگ اس کے لیے تڑپتے ہیں۔۔ اپنی منتخب حکومت کو بچانے کے لیے ترکی و مصر میں ٹینکوں کو اپنے سینوں پر روکتے ہیں۔۔
ابھی ہمارے یہاں شعور کی وہ منزل ہی نہی آئی ۔ اب یہ نوازشریف پر ہے کہ وہ ایک بار پھر جلا وطنی اختیار کر لیں یا کم از کم دس دن مزید انتظار کرلیں لیکن یہ پیشکش تو بہت پہلے سے تھی۔۔
اگر یہ پیشکش مان لی جاتی تو زندگی میں دو دفعہ ”اوور مائی ڈیڈ باڈی “ کہنے کی نوبت ہی نہ آتی۔۔ جو اصحاب حل وعقد یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں آمریت نہی جمہوریت ہے تو وہ مشرف غداری کیس کا حشر دیکھ لیں۔۔

جو یہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کی جنگ اگر نواز شریف ہار گیا تو کوئی اور لڑ لے گا تو ان کی مثال ویسی ہی ہے جو نور جہاں کے مرنے پر کہتے تھے
“ فیر کی ہویا جے نور جہاں مر گئ نصیبو لال ہے گی نا ساڈے کول” جو اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ نوازشریف کا کرپشن کی وجہ سے احتساب ہو رہا ہے وہ بہر حال اس دور کے ہپی ہیں قابل رحم ہیں در گزر کیے جانے کے لائق ہیں کبھی کوئی درد دل رکھنے والی حکومت آئی تو ڈاکٹر مبین اختر سے ان کا علاج حکومتی خرچے پر کروائے گی۔ بس سمجھنے کی بات فقط اتنی سی ہے جو لوگ طاقت کے بل پر حکومت کرتے ہیں ان کے پاس حکمرانی کی کوئی اہلیت یا قابلیت نہی ہوتی۔ اور طاقت شعور سے بے بہرہ ہوتی ہے فرعونوں کو سمجھایا نہی جا سکتا۔۔ یہ جو عوام ہیں نا انہیں آپ نہی تو آپ کی آئیندہ نسل اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اس لیے کہ یہ بہرحال دماغ رکھتے ہیں۔۔لیکن ان سب باتوں میں آخر رکھا بھی کیا ہے فیض کو پڑھیے ...
گھر رہیے تو ویرانئ دل کھانے کو آوے - رہ چلیے تو ہر گام پہ غوغائے سگاں ہے
یاں اہل جنوں یک بہ دگر دست و گریباں - واں جیش ہوس تیغ بکف درپئے جاں ہے
اب صاحب انصاف ہے خود طالب انصاف - مہر اس کی ہے میزان بدست دگراں ہے
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن - اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com