نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر - راحیلہ چوہدری

ربیع الاول کی آمد آمد ہے۔اس مہینے کے آغاز ہی سے12ربیع الاول کی تیاریاں خوب زور و شور سے شروع ہو جاتی ہیں۔12 ربیع الاول کے دن ہر مکتبہ فکر کے لوگ اپنے اپنے انداز میں نبیؐ سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ تاریخ ہر سال اس لیے دہرائی جاتی ہے۔ کہ ہم سب نبیؐ کے امتی ہونے کے ناطے ایک بار اپنا اپنا محاسبہ کریں۔

اس تیز رفتار اور برف کی مانند پگھلتی ہوئی زندگی میں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں کہ جس ہستی کو اللہ تعالیٰ نے پورے عالم کے لیے رحمت بنا کے بھیجا کیا ہم ان کے امتی ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں؟ یا صرف ان کے امتی ہونے کا اتنا سا فرض ہے کہ پورے سال میں چند دن محفلِ میلاد منعقد کروا کر نعتیں پڑھ کر کیک کاٹ کراور عمارتوں کوخوب سجا کر آپؐسے محبت کا اظہار کر کے گزار دیں عنائت علی خان اپنی نعت کے ایک شعر میں کہتے ہیں:
تیرے حسنِ خلق کی اِک رمق میری زندگی میں نہ آ سکی - میں اِسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا
نبیؐ سے محبت اور عقیدت کا اصل تقاضا یہ تھاکہ ہم اپنی زندگیوں کو ان کے اسوہ کے مطابق ڈھالنے کی پوری پوری کوشیش کرتے۔نبیؐ نے جو ہمیں کرنے کا حکم دیا سب سے پہلے خود کر کے دکھایا۔نبیؐ کی اصلاح کا مقصداپنے آپ کو درست کر کے اللہ کے نظام کو دنیا میں نافذ کرنا تھا۔لیکن ہم نے کبھی اس چیز کی ضرورت محسوس نہیں کی اور طاغوت کے راستے پہ ہی چلتے رہے۔ کیوں کہ ہم نے اپنی محبت کا محور نبیؐ کو نہیں بنایا۔بلکہ اس دھوکے اور فریب پہ مبنی دنیا جو بار بار خوشنما بنا کر ہماری آنکھوں کے سامنے پیش کر دی جاتی ہے۔

اسی کی محبت اور فریب میں مبتلا رہے۔اللہ نے دنیا میں انسان کو اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ صرف اپنی خواہشات ِ نفس کو پورا کرے اور اگلے جہان چلا جائے۔ بلکہ انسان کو اس دنیا میں بھیجنے کے ساتھ دینِ اسلام کی شکل میں ایک پورا دستور ِ حیات بھی دیا۔ پھر نبیؐ کو عملی نمونہ بنا کر بھیجا۔
سب سے بڑ ھ کر اللہ نے ہمیں نبیؐ کا امتی بنایا اس کے بعد ہمارا فرض تھا کہ نبیؐ کے فرمان کے سامنے ہر کسی کی بات ہیچ ہوتی اور ہر ایسی خاندانی روایت اور معاشرتی چلن، جو کہ اسلام سے متصادم ہیں،اس کو چھوڑ دیا جا تا اور سنتِ رسول کو زندگی کے ہر معاملے میں جاری و ساری رکھا جاتا۔ان کے اسوہ پہ چل کر اس دنیا کو امن اور محبت کا گہوارہ بنایا جاتا۔ آج ہم سب اسی لیے بھٹک رہے ہیں اور حیوانیت کے درجے کو پہنچ چکے ہیں۔ کیوں کہ ہمار ے عشق و محبت کا محور نبیؐ کی بجائے یہ دنیا ہے۔اقبال نے یہی بھولا ہوا سبق یاد دلانے کے لیے یہ شعر کہا تھا:
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے - دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کر دے
مسلمانوں کو نبیؐ سے زبانی کلامی محبت کا دعوی کرنے کی نہیں بلکہ ان کی ذات سے عشق کرنے کی ضرورت ہے ۔صرف اللہ اور اس کے رسولؐ سے عشق ہی ایک انسان کو وہ ہمت اور جرات عطا کرتا ہے جو اس دنیا کو امن اور محبت کا گہوارہ بنا سکتی ہے اللہ اور اس کے رسولؐ سے عشق ہی وہ واحد قوت ہے جو انسان کو ہر مشکل سے مشکل چیز سے بھی گزار دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ولادت مصطفیٰ اور امت محمدﷺ - محمد عبداللہ

صحابہ کی زندگیاں ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہیں۔حضرت بلال کو یقین تھا کہ کلمہ پڑھنے کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔مگر انہوں نے کفر اور کفر کے نظام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔لاالہ کا کلمہ پڑھنے کے بعد جو ظلم ان پہ ڈھائے گئے ان سے کون واقف نہیں ان مظالم سے انہیں صرف عشق کی طاقت نے گزارا۔
غزوہ بدر حق و باطل کا پہلا معرکہ جس میں خونی رشتے تلواروں کے نیچے آ گئے کسی نے کسی کی پرواہ نہیں کی اللہ اور اس کے رسول ؐ کی رضااو نظام کی خاطر اپنے خونی رشتوں کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر دیا۔شعب ِ ابی طالب میں 3سال کا عرصہ جس میں صحابہ کرام کو بھوک،پیاس اور اپنوں کی جدائی بھی محسوس نہیں ہوئی یہ عرصہ صرف اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت اور عشق کی وجہ سے گزرا۔حضرت فاطمہ کئی کئی دن بھوکے ہونے کے باوجود فقیر کی ایک دستک دے کر کھانا مانگنے پر اپنا کھانا اٹھا کر اس کو دے دیتیں عمل کی یہ پختگی صرف اللہ اور اس کے رسول سے عشق کی بدولت تھی۔ صحابہ کرام کے بعد بھی طارق بن زیاد جب سپین فتح کرنے گئے تو ساری کشتیاں جلا دیں جو واپس جانے کاواحد سہارا تھیں۔

اس نیت کے ساتھ کے دنیا میں جہاں جہاں اللہ کا نظام قائم کر سکا کروں گا ورنہ جینے کا کیا فائدہ یہ جذبہ بھی عشق کی بدولت تھاعشق کے جزبے نے ہی ان کے اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اسی عشق کا یہ انعام تھاکے طارق بن زیاد کی وجہ سے 800سال تک سپین میں اسلام رائج رہا۔صرف نبیؐ سے عشق ہی وہ واحد چیز ہے جو روح کو سیراب کرتی ہے یہ وہ واحد جذبہ ہے جو انسان کی دنیا اور آخرت کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ جس دور سے ہم گزر رہے ہیں۔ہماری زندگیاں اور معاشرہ جن مسائل کا شکار ہے اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم نبیؐ کی حیات طیبہ کا ہر پہلو غور سے پڑھیں،سیکھیں اور ان کے اسوہ پہ چلنے کا وہی جذبہ تازہ کریں۔ جوصحابہ کرام آپؐ کے لیے رکھتے تھے۔انہوں نے سچے دل کے ساتھ حضورؐ کی پیروی کی اسی اسوہ پر عمل کر کے صحابہ کرام مشکل سے مشکل وقت سے بھی گزر گئے اور پھر نبیؐ کے بعد خلافت راشدہ کے سنہر ے دور کی عظیم الشان مثال قائم کی۔ مسلمانوں کو یہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اتباع رسول ؐاور اطاعتِ رسولؐ صرف چند عبادات تک محدود نہیں بلکہ اطاعتِ رسول ساری کی ساری زندگی پر محیط ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا میں عاشقِ رسول ﷺ ؟ - سطوت اویس

نماز کی ادائیگی میں جس طرح اتباع ِ سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق وکردار میں بھی اتباع ِ سنت مطلوب ہے۔جس طرح روزے اور حج کے مسائل میں اتباعِ سنت مطلوب ہے اسی طرح کاروبار اور باہمی لین دین میں بھی مطلوب ہے۔اسی طرح معاشرے کو برائی سے روکنا اور اچھائی کا حکم دینا نبیؐ کا امتی ہونے کے ناطے ہر فرد کا اولین فرض ہونا چاہیے۔ نبیؐ کے امتی ہونے کے ناطے میرے عمل سے معا شرے میں کیا خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں سب کو اس حوالے سے اپنا اپنا محاسبہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔زندگی کا جو بھی شعبہ ہو سنتِ رسول زندگی کے ہر معاملے میں جاری رہنی چاہیے۔نبیؐ سے محبت کا یہ تقاضا ہے کہ ربیع الاول کے اس مہینے میں ہر فردسیرت کی کوئی ایک کتاب خود پڑ ھ کر ضرور ختم کرے اس نیت کے ساتھ کہ میں نے اپنی خامیوں کو دور کرنا ہے اور نبیؐ کی سنت کو عملی طور پر اپنا نا ہے کتاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ ربیع الاول کے اس مہینے میں اللہ تعالیٰ سے خاص طور پر اس دعا کا اہتمام بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بنیؐ سے محبت کرنے اور سنت کو عملی طور پر اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں۔