تو کیا خیال ہے پھر ؟ کفیل اسلم

ایک نوجوان گریجویشن کے رزلٹ آنے کیبعد کالج کے پرنسپل کے آفس میں گیا اور پرجوش لہجے میں کہا : ''سر ! میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہو چکا ہوں ۔ خدا کا شکر ہے کہ میری تعلیم مکمل ہوگئی'' یہ سن کر پرنسپل کے ہونٹوں پر ہنسی آگئی اور انہوں نے کچھ رک کر کہا : ''برخوردار! تم خوش نصیب ہو کہ تمہاری تعلیم مکمل ہوگئی ، ہمیں تو یہ لگتا ہے کہ ہماری تعلیم اب تک شروع ہی نہیں ہوئی''

یہ تو تھی ایک نوجوان کی غلط فہمی جسے شائد پرنسپل صاحب نے دور کردیا مگر ہم میں سے کئی افراد زندگی بھر اس بھول میں رہتے ہیں کہ ہم سب سے بہترین ہیں۔ ہمیں بہت کچھ آتا ہے۔ ہی میں کچھ سیکھنے سکھانے کی کوئی خاص حاجت نہیں۔ ہمیں اتنا زیادہ سیکھ چکے ہیں کہ بس اب مزید کی ضرورت نہیں۔ یقیناً یہ ہماری بھول ہے۔ ہمیں اس غلط فہمی سے باہر آنا ہوگا۔
کوشش کیجئے کہ تعلیم حاصل کرتے رہیں، علم و ہنر میں اپنا نام پیدا کریں ،اپنی فیلڈ میں اپنا سکہ جمائیں لیکن کبھی بھی اپنے دماغ میں تکبر کو نہ آنے دیں کیونکہ جس دن آپ کو یہ لگا کہ آپ نے کسی بھی چیز پر دسترس حاصل کرلی ہے ٹھیک اسی دن آپ پر سیکھنے کا ہر دروازہ بند ہو جائے گا۔ کائنات میں کسی بھی فیلڈ ،کسی بھی شعبے میں سیکھنے کے لئے کچھ بھی، کبھی بھی ختم نہیں ہوتا۔ ہر گزرے دن کی ساتھ نت نئی کتنی ہی دلچسپ چیزیں آتی رہتی ہیں اور انہیں سیکھتے رہنا ہی آپکی فتح ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ چند لوگ کسی شعبے میں ماہانہ صرف چند ہزار روپے کماتے ہیں اور اسی فیلڈ کے چند لوگ دن کے لاکھوں روپے۔ فرق ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنی فیلڈ میں اتنی مہارت حاصل کر لی اور اپنے آپ کو اتنا اپڈیٹ رکھا کہ وہ ادارے اور مارکیٹ کیلئے ناگزیر ہوگئے۔ سسٹم کا ان کے بغیر چارہ ہی نہیں ۔ بس انکی سہولیات حاصل کرنا مجبوری ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعلی صاحب! پروفیسروں کی بھی سن لیں - امیرجان حقانی

خود کو دوسروں سے بہتر بنانے کیلئے چند تیربہدف نسخے آپکی خدمت میں عرض کردوں۔
1- درست سِمت : آپ کو یہ پتہ ہو کہ آپ جس سمت میں کام کر رہے ہیں وہ بالکل درست ہے ۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ لوگ ساری عمر کسی سمت چلتے رہتے ہیں اور محنت کرتے رہتے ہیں لیکن عمر کے آخری حصے میں انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تو سمت ہی غلط چنی گئی ۔اسکا انجام بہت بھیانک اور مایوس کن ہوسکتا ہے۔ آپ خود کو کوستا رہیں گے اور ہر گزرتا دن آپکو ڈپریشن میں مبتلا کردیتا ہے۔
2- ان تھک محنت اور ایمانداری : اب اگر آپ نے سمت کا تعین کرلیا ہے تو اس فیلڈ میں کوشش کریں کہ اپنی انتھک محنت اور ایمانداری سے لوگوں کا دل جیتنے کی کوشش کریں ۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اگر آپ کسی فیلڈ میں محنت کرتے ہیں اور ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہیں تو بہت جلد آپ لوگوں کے دل میں گھر کر جاتے ہیں۔ آپ کی ساکھ ہی آپ کی فیلڈ میں آپ کو آگے بڑھانے میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔ آپکے گردونواح میں موجود لوگوں میں آپکی ساکھ ہی تو آپکی کامیابی و ناکامی کا فیصلہ کرتی ہے۔
3۔ اپنے سافٹ وئیر کی اپ۔گریڈیشن: جی ہاں۔ اپنی فیلڈ میں گزرنے کے ساتھ ساتھ مہارت حاصل کریں ۔ مہارت کیسے آتی ہے ؟

الف۔ مہارت وقت گزرنے کے ساتھ لگاتار کام کرنے سے آتی ہے۔
ب۔ مہارت دوسروں سے زیادہ کام کرنے کے نتیجے میں آتی ہے ۔ وہ تین گھنٹے کام کرتے ہیں تو آپ 4 گھنٹے کام کریں۔ یہ چیز آپکو دوسروں سے زیادہ قابل بنائےگی۔
ج۔ مہارت اچھے اساتذہ اور تجربہ کار لوگوں کی صحبت میں اٹھنے بیٹھنے سے آتی ہے ۔ یہ لوگ آپکو وہ گرُ دکھاتے ہیں جو ناتجربہ کار کئی ماہ و سال لگا کر بھی نہیں حاصل کرپائے۔
د۔ مہارت اس فیلڈ سے متعلق کتابیں پڑھنے سے آتی ہے دنیا میں روزانہ آپ کی متعلقہ فیلڈ سے متعلق نئی تحقیقات آتی رہتی ہیں آپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ اس سے بھی استفادہ حاصل کریں۔
4-جھُکا ہوا تولنا : سہانے کہہ گئے کہ جھکا ہوا تولو۔ یعنی دام کے عوض جتنے کام کی ذمےداری لی گئی آپکو چاہئے کہ اس سے کچھ اضافی کردیں۔ کچھ اضافی دینے سے فوائد آپکو ملینگے اسکی فہرست بنانا یہاں ممکن نہیں ۔ یہ عادت آپکو کسٹمر، کلائنٹ یا گاہک کی نظر میں دوسروں سے ممتاز کریگی۔ آپ کا قد کاٹھ سب میں نمایاں ہوجائیگی۔ آپ ان کے رویوں میں ایک بہت خوشگوار بدلاؤ محسوس کرینگے۔

یہ بھی پڑھیں:   شعبۂ تعلیم اور نظام تعلیم ۔۔۔توجہ اور خاطر خواہ اقدامات کے منتظر - محمد ریاض

5-خدا خوفی : اگرچہ اسے سب سے پہلا نقطہ ہونا چاہئے تھا مگر یہاں آخر میں بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا مقصود ہے کہ کبھی کبھی لوگ ہر کوشش کرلیتے ہیں مگر کام میں کچھ کمی سی رہ جاتی ہے۔ سب کچھ کرکے بھی خاطر خواہ نتیجہ نہیں ملتا ۔ کمی اسی نسخہِ کیمیاء کی ہوتی ہے۔ دانا کہہ گئے ہیں . ''خدا خوفی دانائی کی جڑ ہے'' لہذہٰ اس بات کو ہم میں سے ہر ایک کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے کوخدا خوفی رکھنے والے مشکلات و مصائب کے گرداب میں ہوتے ہوئے بھی ناامید نہیں ہوتے۔ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کوئی تو ہے جو انہیں آزمارہا ہے۔ اسکے بعد پھر رختِ سفر باندھنا ہے اور کامیابی منتظر ملیگی۔ بقول شاعر : ''رات جتنی بھی سرمگیں ہوگی، - صبح اتنی ہی دل نشیں ہوگی''
قصہ مختصر یہ کہ اس اٹل حقیقت سے مگر نہیں، اگر آپ کسی فیلڈ میں ناگزیر ہوجائیں، آپ کی خدمات حاصل کرنا کسی شعبے کے انتظامیہ کی مجبوری بن جائے تو جان لیجئے کہ آپکی طلب پیدا ہوچکی ہے اور طلب پیدا ہونے کا مطلب سیدھا سا ہے . ''آپ امیر ہونے والے ہیں'' تو کیا خیال ہے پھر؟؟؟