مظفرآباد ميں پوليس گردی - توقیر ریاض

۱۹۹۹ ميں ہم ڈگری کالج راولاکوٹ ميں زير تعليم تھے جب فيسوں ميں بے پناہ اضافہ کر ديا گيا ، طلبہ تنضيموں نے احتجاج کی کال دی ۔ کالج سے طلبہ نکلے روڈ بند کی ابھی ہم سی ايم ايچ تک ہی پہنچے تھے کے آنسو گيس کی شيلنگ اور لاٹھی چارج شروع ھو گيا ۔

مار مار کر پوليس نے بے چارے طلبہ کا بھرکس نکال ديا ، آنسو گيس نے سانس لينا دو بھر ھو گيا ، بھاگ بھاگ کر پوٹھی کے قريب جا کر جان خلاصی ھوئی ۔پھر اسی طرح دوسری بار جب ڈگری کالج ميں ايک ممتحن پروفيسر صاحب کے قتل پر احتجاج کرنے نکلے تو مار مار کر طلبہ کے سر پھاڑ دئيے گے ۔ دونوں بار مجھے سمجھ نہ آئی کے پوليس نے لاٹھی چارج يا آنسو گيس کا استعمال کيوں کيا پر امن احتجاج وہ بھی مناسب انداز ميں ۔ ماڈل ٹاون لاھور ميں پوليس نے تحريک منھاج کے اندر گھس کر سو کے قريب لوگوں کو گولياں مار دی ، ۱۲ بندے جان سے ہی مار دئيے ، سی ڈی نے کچھ عرصہ قبل معصوم بچوں کے سامنے والدين کو گولياں مار دی ، ايک بات پوچھوں صلاح الدين بچارے کو حوالات ميں مار مار کر ختم کر ديا ۔ يہ سب وہ مثاليں ہی جن کی کوئ توجہی منتق سمجھ نہيں آتی اسی طرح کل مظفرآباد ميں نہتے لوگوں پر جو ظلم و بربريت ھوئ اسکی مثال ملنا مشکل ھے ، احتجاج بنيادی انسانی جبلت اور حق ھے ، پہلے سے طے شدہ پروگرام تھا ، پوليس مناسب پلان ترتيب دے سکتی تھی ، لوگوں کو جان مال کا زمہ حکومت کا ھے اور فاروق حيدر کو جوابدہ بھی ھونا ھو گا ۔ اگر منتشر کرنا بھی مقصود تھا تو آنسو گيس سے کيا جا سکتا تھا ، اتنی بے دردی اور ظلم اپنی عوام پر کسی طور مناسب نہيں اور قابل مذمت ھے ۔

یہ بھی پڑھیں:   قاتل شارع اور اصل محرکات - گہرام اسلم بلوچ

ليکن معصوم لوگوں کو مروا کر قيادت جو اپنا اُلو سيدھا کرنے لگی ھے وہ کسی طور درست نہيں بلکہ تحريک آزادی کے لئے زہر قاتل ھے ۔ عين اسوقت جب عالمی دباؤ بھارت پر ھے ، کشمير بھارت کے اعصاب پر سوار ھے ، انٹرنیشنل ميڈيا کو توجہ مقبوضہ وادی سے ھٹ نہيں ری ايسے ميں پاکستانی ايمبسيز کے باہر احتجاج کی کال دينا ، کشمير ميں پوليس کے بے وقوفی کو اپنے مذموم مقاصد کے کئے استعمال کرنا کسی طور درست نہيں ، برطانيہ ميں ۲۷ اکتوبر کو بھارتی ايمبسی کے سامنے ھونے والے احتجاج سے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ھے ، پہلے ديوالئ کا بہانہ بنا کر روکنے کی کوشش کی پھر ايم پی پريتی پٹيل کے زريع لندن مئير کو خط لکھا گيا ، پھر بھی ناکامی ھوئ ، اب کل سے پاکستانی ايمبسی کے سامنے احتجاج رکھ ديا گيا ھے ، احتجاج کرنا ھے تو فاروق حيدر کے خلاف کريں اسلام آباد کريں بيرون ملک اس سے نہ صرف کشميری تقسيم ھوں گے بلکہ بھارت کو چين کا سانس بھی آئے گا ۔