میڈیا ریٹنگس کا چکر اور بے حسی ۔ انجینیئر راحیل لطیف میمن

مجھے اچھی طرح یاد ہے اسکول کے زمانے مین جب پی ٹی وی کا صرف ایک چینل ہوا کرتا تھا جو شام کے اوقات میں آن ایئر ہوا کرتا تھا تلاوت قران پاک ،اقراء ، ریجنل آور یعنی صوبا ئی زبانوں میں ایک گھنٹے کے پروگرام ، انگریزی اور اردو خبریں ، خبریں کیا تھیں پورا وزیر نامہ تھا ، صدر ، وزیر اعظم اور وزرا کی دن بھر کی مصروفیات بتائی جاتی تھیں حاجیوں کی واپسی ، کشمیر بنے گا پاکستان ، افغان جہاد اور آگے موسم کا حال ۔

ہمیں وہ دکھانا چاہتے ہی نہیں تھے جو خبریں ہم دیکھنا چاہتے ہوں . زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی لیکن خبروں کا زوق رکھنے والے اس وقت بھے موجود تھے جو بی بی سی ریڈیو سروس سے خبرین اور شفعی نقی جامعی کا تجزیہ سن کر محضوض ہوا کرتے تھے ۔ آج ہمارے ملک میں ماشاء اللہ ہمارے ملک میں نیوز ، انٹرٹینمینٹ ، اسپورٹ ، میوزک ، مذھبی اور ریجنل سمیت 250 چینل ہیں , خبر ، بریکنگ نیوز ، تجزیہ ، سیاسی و عسکری تجزیہ کار ، اینکرز ، مارننگ ، میوزک ، فیشن اور کرئیم شوز ، اسٹنگ آپریشنز وغیرہ وغیرہ اتنی ساری خرافات نے تو جیسے سر چکرا کے رکھ دیا ہے . تمام چینلز نے اپنی اپنی ویورز شپ بنائی ہوئی ہے کوئی عسکری ادارون ، حکومت ، اپوزیشن کے ساتھ تو کوئی مذھبی اور لسانی تنظیموں کے ساتھ ، گو کے یہ سارے دن بھر عوام کا رونا روتے ہیں لیکن عوام کے ساتھ ان میں سے کوئی بھی نھیں . ایک دوسرے سے آگے نکل کر ریٹیگس کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ ایڈرورٹائیزنگ حاصل کرنے اور کم خرچے پر زیادہ کام لینے کے چکر میں غیر تجربےکار اسٹاف کو رپوٹر سے نیوز کاسٹر ، نیوز کاسٹر سے نیوزڈائریکٹر اور کیمرہ میں سے پروڈیوسر بنا کر کام چلا رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے -اسماء طارق

جو ادارے میں آنے والی ہر خبر کو بریکنگ نیوز کا ٹیگ لگا کر آگے بھیج دیتے ہیں ۔ آگے اس خبر کا پوسٹ مارٹم ادارے کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ڈائریکٹر اور تجزیہ کار اپنی اپنی سوچ اور ذھنی صلاحیت کے مطابق رنگ میں دھال کر ، کر دیتے ہین ، بغیر یہ سوچے سمجھے کے اس کا نتیجا کیا نکلے گا ۔ جس طرح پچھلے دنوں رحیم یار خان سے سی سی تی وی فٹیج دکھا کر بتایا جا رہا تھا کے ، ملزم اے ٹی ایم سے پیسے نکال کر لوگوں کو لوٹتا اور شکلیں بنا بنا کر پولیس کو چڑاتا رہا ۔ ( جب کے وہ اے ٹی ایم سے کارڈ نکال رہا تھا ) یہ خبر پورے آب و تاب کے ساتھ تمام چینل بار بار چلاکر پنجاب پولیس کو چیلینج کر کے تیش دلاتے رہے جب تک ملزم پولیس کی گرفت میں نہ آیا ، جس کا نتیجا ہم نے صلاح الدین کے سخت تشدد سے موت کی صورت میں دیکھ لیا ۔ پولیس کی جانب سے صلاح دین کی اے ٹی ایم سے گرفتاری سے لیکر تشدد سے موت واقع ہونے تک بنائی گئی وڈیو میں جس طرح صلاح دین کو پانی مانگتے ، کتا بناتے والد کو صلاح دین کی لاش پر روتے ہوئے بار بار دکھا کر بے حسی سے پھر وہی ٹی وی چینل اور انکے نیوز کاسٹرس اور ان کے چھاتا بردار تجزیہ کار صلاح دین کو مظلوم ،گونگا اور ذھنی مریض بتا کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش اور پولیس ریفارمس ،گورنینس کا رونا روکر اپنا چورن بیچ رہے تھے .