نکاح والی رات بات، نکاح والی رات ملاقات - صدام حسین

ہمارے معاشرے میں اکثریت شادی سے پہلے منگیتر سے بات کرتی ہے، جب انہیں روکا جاتا ہے سمجھایا جاتا ہے تو کچھ لوگ جواب دیتے ہیں کہ کبھی کبھی کرتے ہیں ، کچھ کہتے ہیں کہ ہم حدود میں رہ کر بات کرتے ہیں ، کچھ کہتے ہیں کہ شادی سے پہلے انڈرسٹینگ ہوجاتی ہے اس لیے کرتے ہیں ،

کچھ کہتے ہیں کہ اسکے بغیر دل نہیں لگتا شادی میں دیر ہے تو بات کرکے دل بہلا لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔!!! یقین جانیں یہ تمام دلائل ذرہ برابر وذن نہیں رکھتے سیدھی بات ہے ہمارا اپنے نفس پر کنٹرول ہی نہیں ہے ہم خواہشات کے غلام بنے ہوۓ ہیں ، جو دل کہتا ہے وہ ہم کرتے ہیں ، ضمیر کی آواز ہمیں نہیں آتی ، کہتے ہیں منگیتر کے بغیر دل نہیں لگتا ارے یہی تو آذمائش ہے کہ اپنے نفس کو مار کر اپنی آگے کی زندگی بنانی ہے، یہی تو امتحان ہے کہ ہم اللہ کے حکم کو اوپر رکھتے ہیں یا اپنی دلی خواہشات کو جہاں 20 سے 25 سال انتظار کیا وہاں ایک دو سال انتظار کرنے میں کیا برائی ہے۔۔۔!!! لیکن نہیں ہم تو اپنے نفس کی مانیں گے ، ایک ساتھی کہنے لگا " کبھی کبھی کرتے ہیں " ارے جناب کبھی کبھی بھی کیوں کرتے ہو، یہ تمہارا کبھی کبھی کسی دن گلے میں آجاۓ گا پھر ساری عمر ایک دوسرے کو طعنے دیتے پھرو گے کہ شادی کے بعد بہت بدل گۓ ہو۔۔۔!!! ایک ساتھی نے کہا " انڈرسٹینڈنگ ہوجاتی ہے" جیسے کوئی عربی کسی عجمی سے نکاح کرنے جارہا ہے جو انڈرسٹینڈنگ کی انہیں ضرورت ہے .

انڈرسٹینگ کے چکر میں گاڑی کے اپنے گیئر پھنس جاتے ہیں اور لگانے پر بریک بھی نہین لگتا نتیجہ کسی برے ایکسڈنٹ سے کم نہین نکلتا ، جاؤ جا کر دیکھو معاشرے مین منگیتروں کے نام پر کس قدر بے حیائی عام ہوچکی ہے ہوٹلین ریسٹرونٹس ، کافی شاپس بھرے پڑے ہیں . کون ہو ؟ جواب ملتا ہے آپ کی ہونے والی بھابھی ۔ تحفے تحائف کی لین دین بڑا مہنگا اینڈرائڈ موبائل گفٹ کیا جارہا ہے ، کڑھائی والے سوٹ ہدیہ کیا جارہا ہے ، یہاں تک بات محدود نہین ہوتی بعض تو تمام حدیں پار کرجاتے ہیں کہ یہاں لکھنے مین شرم آتی ہے۔۔۔!!! دراصل منگیتر سے بات کرنا تمام برایئوں کا زینہ ہے، پہلے بات ہوتی ہے کہیں گے صرف بات کرتے ہیں پھر دیکھنا دکھانا ہوگا ، پھر آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے لیۓ گفٹ خریدے جایئں گے، بات آگے بڑھے گی ملاقات کرنے کے مواقع ڈھونڈے جایئں گے ۔ بات کرتے کرتے آہستہ آہستہ انسان دوسرے گناہوں کی طرف جانے لگتا ہے۔۔۔!! کہتے ہیں صدام سر آپ پرانے خیالات کے مالک ہیں ہم تو صرف موبائل پر بات کرتے ہیں ، اسکا مختصر جواب یہ ہے کہ نۓ خیالات کے ذریعے آپ خود منگیتر کو اپنے ہاتھ سے خراب کر رہے ہو،

یہ بھی پڑھیں:   شادی بیاہ کے نافذ شدہ فرائض - بشارت حمید

ساری شرم حیا ادب و آداب تم خود اپنے ہاتھ سے ختم کر رہے ہو ، نکاح کی برکتیں رحمتیں سب اپنے ہاتھ سے ختم کر رہے ہو ، جو لوگ نکاح سے پپلے موبائل فون پر باتیں کرتے ہیں نکاح کے بعد انکی زندگی پر 100 فیصد اسکے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔۔۔!!! لہذا اس چیز سے دور رہنا چاہیے اپنے نفس کر قابو پانا چاہیے، آپ کی ہی منگیتر ہے کیوں اس سے بات کرکے اسے خراب کر رہے ہو، تھوڑا سا صبر کرلو ، ابھی وہ غیر محرم ہے ، اس سے بات کرنا گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے، صرف نکاح والی رات بات کرو نکاح والی رات ملاقات کرو، کھل کر باتین کرو کھل کر ملاقاتیں کرو جو دل چاہتا یے وہ کرو لیکن نکاح سے پہلے تھوڑا کنٹرول کرو اور یقین کریں جو لوگ منگیتر سے بات نہین کرتے اللہ کا حکم اور رسول اللہﷺ کے فرمان کا پاس رکھتے ہیں اس عمل کو گناہ کبیرہ مانتے ہیں ایسے لوگوں پر نکاح والی رات خدا کی خاص رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں ، ایسے جوڑوں کو اللہ اپنے حفظ و امان مین رکھتا ہے جو اپنے نفس پر قابو کرتے ہوۓ حکم باری تعالی کو اولین ترجیح دیتے ہیں ۔