ایک دن پسنی کے دیہات میں - ظریف بلوچ

بوریت کو ختم کرنے، جستجو اور نیچر کو قریب سے دیکھنے کے لیے میں جنگلوں و بیابانوں، قبرستانوں اور پہاڑوں کی طرف اس لیے رخ کرتا ہوں کیوں کہ یہاں میں سکون کے چند لمحے گزار کر ذہنی سکون پاتا ہوں۔ جب کہ ترقی کے آثار کو قریب سے دیکھنے کے لیے دیہات کا سفر کرنے کو اس لیے ترجیح دیتا ہوں کہ شہری آبادی میں ترقی کے آثار سب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

دیہی علاقوں کا رخ کر کے وہاں کشادہ سڑکوں، تعلیم اور صحت کی صورت حال کو قریب سے دیکھنے کے بعد اپنی ناقص معلومات کو درست کرنے کا موقع ملتا ہے، جو میں روز غلط پیش کرتا آ رہا ہوں۔ تحصیل پسنی کے متعدد دیہی علاقوں کو کئی بار قریب سے دیکھنے کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب ان دیہات کی طرف رخ کروں گا، جن کی ترقی میری نظروں سے اوجھل تھی۔ اس مرتبہ اتفاقاً مجھے ” کنڈاسول“ اور اس کے قرب و جوار کے گاؤں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ سو اپنی موٹر بائیک کو لے کر میں صبح سویرے پسنی سے ” کنڈاسول“ کی طرف نکل گیا۔ مکران کوسٹل ہائی وے پر آرام دہ سفر کے بعد اب ہمیں ایک لنک روڈ کے ذریعے ” کنڈاسول“ کا باقی ماندہ سفر طے کرنا تھا۔ اب ” کنڈاسول“ تک پہنچنے کے لیے ہم اسی لنک روڈ پر محوِسفر تھے۔ جس کی خستہ حالی کو دیکھ کر مجھے پسنی کے وہ تمام دیہات یاد آ رہے تھے، جہاں سڑکیں اسی طرح خستہ حال تھیں اور مقامی لوگ روز اسی اذیت سے گزر کر اپنی اپنی منزلِ مقصود کی طرف پہنچ رہے تھے۔ ” کنڈاسول“ پانچ سے چھ چھوٹے دیہات پر مشتمل ہے جس کی آبادی پانچ سو کے قریب ہے۔ جب کہ ”چکین“ کو ملا کر یہ آبادی سات سے آٹھ سو تک بنتی ہے۔ کوسٹل ہائی وے سے کنڈاسول تک لنک روڈ دس سے بارہ کلومیٹر ہے، مگر سڑک کی خستہ حالی کی وجہ سے یہاں پہنچ کر طویل آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان میں طلبہ سیاست کا احوال -گہرام اسلم بلوچ

وہاں پہنچ کر یہ معلوم ہوا کہ چند سال پہلے کوسٹل ہائی وے سے کنڈاسول تک لنک روڈ منظور ہوا تھا اور ٹھیکیدار چند روز کام کر کے یہاں سے چلا گیا۔ یہ معلوم نہ ہو سکا کہ سرکاری کاغذات میں کوسٹل ہائی وے سے کنڈاسول تک یہ لنک روڈ مکمل ہے یا فنڈز کا بروقت اجرا نہ ہونے سے یہ کام ٹھیکیدار کو ادھورا چھوڑنا پڑا تھا۔ بہرحال وہاں ایک پرائمری سکول نظر آیا، جہاں کنڈاسول کے بچے اور بچیاں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ جب کہ حسبِ معمول پسنی کے زیادہ تر دیہات کی طرح یہاں صحت عامہ کی کوئی سہولت میسر نہ تھی۔ جب کہ بجلی کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے کچھ گھروں میں سولر سسٹم نصب شدہ تھے۔ کنڈاسول کی ترقی کے آثار کو دیکھنے کے بعد ہم ایک درخت کے سائے کے نیچے بیٹھ گئے۔ لہلہاتی فصلوں اور سرسز و شاداب کھیتوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد مجھے اپنا بچپن یاد آیا جب ہم اپنے گاؤں میں دوپہر کو چٹائی بچھا کر سوتے تھے۔ درختوں پر پرندوں کی چہچاہٹ کی آواز سے ہم یہ بھول گئے کہ الیکشن کے دوران اس گاؤں میں بھی روز انتخابی امیدوار یاترا کرنے آتے تھے۔ ہم نیچرل مناظر کی نظر بندی کرنے میں مصروف تھے کہ باتوں باتوں میں سیاست اور الیکشن کے موضوعات زیر بحث آئے۔ گاؤں کے ایک بزرگ سے معلوم ہوا کہ الیکشن کے بعد کسی نے یہاں کا رخ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

دیہی علاقوں کے اکثر لوگ سیاست سے زیادہ اپنے کاروبار یا سمندر میں شکار کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے سیاسی پارٹیاں اور منتخب نمائندے صرف الیکشن کے وقت ووٹوں کے حصول کے لیے ان کے دیدار کو آتے ہیں۔ ہمیں سروج غروب ہونے سے پہلے واپس اپنے منزل کی طرف پہنچنا تھا۔ ” کنڈاسول“ کے ہر گاؤں میں مجھے کوئی ایسا کام نظر نہیں آیا جس کو دیکھ کر یہ کہا جائے کہ یہاں کا بھی کوئی نمائندہ ہے۔ سورج غروب ہونے سے قبل ہم نے ” کنڈاسول“ سے متصل ایک اور گاؤں چکین کا رخ کیا۔ وہاں سڑکوں کی حالتِ زار کو دیکھ کر مجھے اتنا احساس ہوا کہ معصوم لوگوں کے لیے ترقی صرف یہی ہے کہ انھیں دو وقت کی روٹی آسانی سے مل سکے۔ جب ہم واپسی کا سفر شروع کر چکے تھے تو میں نے اپنے ہم سفر دوست سے اتنا کہا کہ ان لوگوں کی تقدیر اس وقت تک نہیں بدلے گی جب تک معاشرے میں ان کے لیے کوئی آواز اٹھانے والا نہ ہو۔ ہمارے نمائندے پانچ سال بعد یہاں آتے ہیں، پھر یہاں آنا اپنی جگہ یہاں کے لوگوں سے ملنا تک گوارا نہیں کرتے۔
راستے میں اسی سوچ و بچار کے ساتھ جب میں گھر پہنچا تو میرا لاڈلا بیٹا مہروان مجھے پہچان نہیں سکا۔ جب اپنے آپ کو آئینہ میں دیکھا تو چہرے کی رنگت بدل چکی تھی۔ سفید کپڑے مٹی اور دھول کی وجہ سے کالا رنگ پیش کر رہے تھے۔ پھر خیال آیا کہ دنیا کا دوسرا بڑا آئل سٹی بھی اسی یونین کونسل میں بننے جا رہا ہے۔ آج نہیں تو کل ہمارے گاؤں پیرس اور سنگاپور کے گاؤں جیسے ہوں گے۔