آئیے نکاح آسان بنائیں، مہم چلائیں - عارف جتوئی

تیزی سے بیتتے وقت اور گرتی... سنبھلتی... پھسلتی ... سہارے لیتی... تیزی سے ڈھلتی جوانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سرپرستوں کو بچوں کی جلدی اور وقت پر شادی کہ فکر کرنی چاہیے. یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جانے کل ہو یا نہ مگر آپ اپنی ذمے داری سے سبکدوش ہوجائیں گے. ویسے بھی میاں دیر کس بات کی اور تاخیر کیوں کی جارہی ہے.

اس پر بھی روشنی ڈال لیتے ہیں کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر یہ تاخیر ہورہی ہے تاکہ وہ وجوہات ختم کی جاسکیں. شادی میں رکاوٹ کی پہلی وجہ مناسب رشتہ نہ ملنا ہے . بہتر سے بہتر رشتے کی تلاش سب کو ہوتی ہے اور یہ اچھی بات ہے. مناسب رشتہ ملے تو اوپر والے کا خاص کرم ہے. لیکن اگر آپ کی عین سوچ کے مطابق نہیں بھی مل رہا تو کچھ خصوصیات کی کمی بیشی کے ساتھ قبول کر لیجیے. یہ نہیں کہ اور نہیں ملے گا بلکہ یہ سوچ کر وقت پر مل گیا یہ اچھا ہے. اللہ نے نصیب اچھے کرنے ہیں آپ نے اونٹ کی ٹانگ باندھنی ہے. کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ بالکل معمولی سی بات پر اچھے خاصے رشتے سے انکار کردیا جاتا ہے. اگر آپ کو عدالت مختصر وقت دے تو یقینا آپ کچھ ہی لمحوں میں اسے دل قبول کرچکے ہوں مگر یہاں بس کیڑے نکالنے ہی ہوتے ہیں کیوں کہ آپ آزاد ہوتے ہیں. تو ایسا مت کیجیے ترجیح لینے دینے والی ہونی چاہیے نہ کہ ونڈو شاپنگ کے ارادے سے نکلے ہوں. شادی میں دوسرا اہم مسئلہ ہے اخراجات کا. اخراجات آپ کے اپنے اختیار میں ہیں. بڑھاتے جائیں تو بڑھتے جائیں گے. اگر کلچ دبا لیں بریک لگ جائے گی. دل تو بہت کچھ چاہتا ہے. بہت حسرتیں ہوتی ہیں ارمان ختم ہی نہیں ہوتے مگر ان کے ساتھ زندگی الجھتی ہے سلجھتی کبھی نہیں ہے. اس لیے ان خواہشات کو بڑھانے کے بجائے اینف بولیں اور میسر وسائل کے ساتھ مسائل کا حل نکالیں.

اپنی حیثیت کے مطابق جو ہے کریں کون کیا کہہ گا کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے. آپ کے بچے نے کچھ غلط کردیا تب کون کیا کہہ گا بہت فرق پڑے گا. ہم نے کئی بہترین ولیمے دیکھے مگر پھر بھی لوگوں نے اعتراض ہی کیا. لوگ کب آپ سے خوش ہونے والے ہیں. تو لوگوں کی کسی بھی معاملے میں فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے. باتیں ویسے بھی ہونی ہیں جب ہونی ہیں تو چاولوں میں بوٹی ہو یا چنے کچھ نہیں ہوتا. بیٹی کے جہیز کی وجہ سے بعض اوقات کئی سال شادی کا معاملا لٹکا رہتا ہے. جہیز آپ کی مرضی پر منحصر ہے. آپ لازمی نہیں گھر بھر کر دیں. آپ کے پاس جو ہے وہی دے دیں. چار برتن دو کپڑے اور ایک بیگ بھی بہت ہے. الیکٹرونکس سے لے کر فرنیچر تک بائیک سے لے گھر فلیٹ گاڑی تک یہ سب ایسی چیزیں ہیں اگر دیکھا جائے تو یہ مرد کی ذمے داری دینا لڑکی کیوں دے. آپ تصور کرسکتے ہیں کہ ایک مرد یعنی شوہر کیسے گوارہ کرتا ہے کہ وہ اپنے پیسے کے پلنگ کے بجائے بیوی کے والدین کے دیے گئے پلنگ پر سوئے. بیوی کو دیا گیا ٹی وی دیکھے اسی کے فریزر سے ٹھنڈا پانی پیے اسی کو ملی گاڑی پر گھومے. ایک باغیرت مرد کبھی یہ سب نہیں کرسکتا. تو یہ سب اپنی حیثیت میں رہ کر کیجیے اور بعد میں بھی دیتے رہیے کونسا منع ہے.

یہ بھی پڑھیں:   دستک دینا ہر مرد کی فطرت ہے - ملک محمد

ایک اہم مسئلہ لڑکے کا اپنے قدموں پر کھڑے ہونا یا بیٹی کا تعلیم مکمل کرنا بھی ہے. دونوں کے لیے دونوں چیزیں بہت اہم ہیں لیکن شادی بھی اسی طرح اہم ہے. تو بیلنس کیا جانا چاہیے. تعلیم کو ایک خاص مقام پر روک کر شادی کردی جائے اور پھر سے جاری رکھا جائے. اسی طرح سے لڑکے کو خاص عمر کے گزرتے ہی یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اب اپنی ذمے داریاں خود اٹھائے جب شادی کی عمر ہوگی وہ یقینا اس فریضے کو باخوبی سرانجام دینے کے لیے تیار ہوگا. اسے پتا ہونا چاہیے دال چینی کے بہاو کیا چل رہے ہیں اور کیسے خریدا جاتا ہے. اپنے بچوں کو پیراشوٹر مت بنائیے کہ وہ دنیا کے لیے اجنبی ثابت ہوں. انہیں 15 سال کی عمر میں گھر کی ذمے داری کا احساس دلا دیا جائے تو 21 سال کی عمر میں وہ گھر چلانے کے قابل ہوں گے. دیکھا جائے تو 80 فیصد شادیوں میں رکاوٹ ہمارے بزرگ طبقے کی سوچ یا نظریات ہوتی ہے. وہ اپنی جگہ درست سوچتے ہیں اور دور اندیشی بھی ہوتی ہے مگر کہیں تھوڑا سا توجہ کریں تو دور اندیشی اے زیادہ انا آڑے ہوتی ہے. ان کی میں یا ناک مسئلہ بنی ہوئی ہوتی ہے. اس پر تھوڑا سا نرمی کی پالیسی اپنائیے. آپ کی لچک سے اگر زندگیوں میں آسودگی آجاتی ہے تو ممکن ہے بعد میں آپ کو اعتراض نہیں ہو.

شادی کو آسان بنائیے ورنہ سچی بات تو یہ ہے سوشل میڈیا پر دعوت گناہ اور سیاہ کاری ہر دوسرے لمحے میسر ہے. محفوظ جگہ چند روپے اور آپ کی نسل کے سفید کپڑے ہمیشہ کے لیے داغدار ہوجائیں گے. یہ جو شیطان ہے نا صاحب! یہ خون کی طرح رگوں میں دوڑ رہا ہے. اس کا آپ سے گہرا تعلق ہے آپ کے نوجوان بیٹے بیٹی کے ساتھ. آپ کی تربیت پر شک نہیں پر یہ شیطان بہت خطرناک ہے کچھ بھی کرسکتا ہے. پتا تو ہے نا یہ جو وعدہ کر کے آیا تھا کہ آدم کی اولاد کو ننگا کر کے چھوڑوں گا. اللہ محفوظ رکھے آمین. شادی میں رکاوٹ کی کئی دیگر وجوہات ہوسکتی ہیں طے آپ کا کرنا ہے کہ بیٹھ کر ان مسائل کیسے ختم کرنا ہے. ہر مسئلے کا ہوتا ہے. آپ نے طے کرلیا کہ شادی کرنی ہے تو اسباب خالق کائنات نے پیدا کر دینے ہیں ان شاء اللہ. مسائل سے بھاگنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے حل نکالنا ہوگا اور وہ کوئی باہر سے آکر نہیں نکالے گا مسئلے کا حل بھی آپ کو ہی نکالنا ہے. اللہ آپ کے لیے آسانی پیدا فرمائے, کسی سے نکلوانے کا غیر شرعی طریقہ اختیار کیے بغیر سنت کے مطابق استخارہ خود کرتے رہیں. دعاوں میں بہت تاثیر ہوتی ہے شرط ہے کہ یقین محکم ہو.

ٹیگز