بڑھتی مہنگائی اور عوامی مایوسی، سدباب کیسے ممکن؟ محمداظہر عالم

پاکستان کی موجودہ حکومت کو تباہ حال معیشت ملی ہے اور اس معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے مزید قرضے لیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس سال قرضہ ملکی پیداوار کے 82.3 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ جس in کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی zہے اور ایک عام آدمی کو مشکلات کا سامنا ہے۔

مہنگائی کے بوجھ کی وجہ سے اسکول کی فیسیں، گھر کے خرچے اور پورا مہینہ چلانے کیلئے اسے 3 نوکریاں بیک وقت کرنی پڑ رہی ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جو تنخواہ دار آدمی کی جیب پر بھاری پڑ رہی ہیں۔ پہلے جہاں وہ 28 تاریخ تک خرچہ چلا لیتا تھا اب 22 تاریخ پر اسکی جیب خالی ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے اسے دوسروں سے قرض لے کر مہینہ کے اختتام تک گھر چلانا پڑتا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ قرض مقررہ وقت پر واپس نہ دینے کی وجہ سے اسکی عزت خراب ہوتی ہے، وہ ٹینشن اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے اوریوں چڑچڑاہٹ اور رشتوں اور دیگر تعلقات کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔

موبائل، گاڑیوں اور پراپرٹی کا کاروبار مضبوط کاروبار سمجھے جاتے تھے مگر ان پر ایکسائز ڈیوٹی اور ٹیکسز لگنے کی وجہ سے لوگ کاروبار چھوڑ رہے ہیں۔ لوگوں نے پراپرٹی خریدنا چھوڑ دی ہے، موبائل کی خریداری میں کمی واقع ہورہی ہے۔

سی این جی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے عام آدمی کا گاڑی اور موٹر سائیکل کا ماہانہ خرچہ 50 فیصد بڑھ گیا ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں دینے میں مشکلات کا شکار اداروں کے مالکان لوگوں کو نوکریوں سے نکال رہے ہیں۔ لوگ جب باعزت روزگار سے محروم ہوجائیں گے، پڑھے لکھے ڈگری ہولڈرز نوجوانوں کو نوکریوں نہیں ملیں گی تو اسکا اثر ہماری سوسائٹی پر یہ پڑے گا کہ مجبورا وہ کوئی غلط قدم اٹھائیں گے۔ جس کی وجہ سے چوری ڈکیتی کے واقعات بڑھیں گے، قتل و غارت گری بڑھے گی اور کرائم ریٹ بڑھ جائے گا۔ نوجوان جنہوں نے ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنا تھا جیل کی ترقی کا ذریعہ بن جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   مہنگائی اور غریب کا حال - سعدیہ طاہر

ملک کے تمام بڑے مسائل اپنی جگہ لیکن عام آدمی کے کچن کے مسائل کو حل کرنے کیلئے حکومت کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ کم از کم روزمرہ کے استعمال کے چیزوں کی قیمتوں کو کم کرنا ہوگا۔ اور وزراء اور ایم پی ایز کو عوام میں اتر گراؤنڈ کی حقیقت معلوم رکھنی ہوگی۔ تاکہ عوام کا ان پر اعتماد بڑھے اور موجودہ حکمران اس ملک کی معیشت کو عوام کے ساتھ مل کر بہتری اور ترقی کی جانب گامزن کرسکیں۔