مسافر خانے سے لنگر خانے تک - نسیم الحق زاہدی

وہی جذبہ حب الوطنی،ملک و قوم کیلئے وہی کچھ کرگزرنے کا عزم و ارادہ، وہی خوداری اور وہی خود اعتمادی عمران خان کی شخصیت میں نظر آرہی ہے۔میرٹ پر یقین محکم ہے،جس کام کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمت مرداں مدد خدا کی روشن مثال ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں وطن عزیز کو ریاست مدینہ کا ماڈل بنانے کا جو وعدہ کیا تھا اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ غربت کے خاتمے کے لئے احساس پروگرام سے لیکرمسافر خانوں اور لنگر خانوں کی تعمیر اس کا عملی نمونہ ہیں۔ گزشتہ 72سالوں میں بہت سی حکومتیں آئیں اور متعدد وزرائے اعظم نے عوامی فلاح و بہبود کے دعوے و وعدے بھی کئے لیکن ان میں سے کم ہی ایفاء ہوسکے۔وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے پہلے روز سے ہی مستحق، نادار اور کمزور طبقات کو سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کر رکھا ہے کہ نیا پاکستان ایک فلاحی ریاست کا قیام ہوگا، نچلے طبقے کو اٹھانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے، امیروں سے ٹیکس وصول کرکے غریبوں پر خرچ کئے جائیں گے۔ ملک بھر میں پہلے مرحلے میں 112 لنگر خانے کھولے جائیں گے۔ یہ لنگر خانے ان علاقوں میں کھولے جائیں گے جہاں محنت کش، بیروزگاری اور بھوک کا شکار ہے۔ ریاست مدینہ میں کمزور طبقہ کی ذمہ داری ریاست لیتی ہے اور یہ فلاحی ریاست ہوتی ہے، ریاست مدینہ قرآن و سنت کی عملی تصویر تھی اور وزیر اعظم ریاست مدینہ کے تصور کی عملی تعبیر کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔

آج تک کسی حکمران نے بھی ان مسافروں کا نہیں سوچا کہ وہ بے یارومددگار اپنے گھر سے دورکسی دوسرے اجنبی شہر میں جو کسی ہوٹل میں قیام کی سکت نہ رکھتے ہوں اوراگر کسی مشکل سے دوچار ہو جائے تو وہ رات کہاںٹھہرے گے، اگر بھوکے ہوں تو اپنا پیٹ کیسے بھریں گے؟۔بلاشبہ مفلسوں اور غریب مسافروں کے سرکاری قیام گاہیں کسی نعمت سے کم نہیں۔ ایسے افراد کیلئے فوری طور پر ٹینٹ لگا کر عارضی پناہ گاہیں بنانے کا حکم دیا جو بلاشبہ ان کی انسان دوستی کا مظہر ہے۔ ابتدائی طور پرعارضی شیلٹر ہوم کے قیام کا کام مکمل کرنے اور اس سلسلے میں اراضی کے انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی تھیں اور یہ ہدایت اپنے سوشل میڈیا پیغام پر بھی دی۔ بے گھر افراد کیلئے بالخصوص جو راتیں فٹ پاتھ پر گزارتے ہیں شیلٹر ہومز کا منصوبہ پورے ملک میں بنایا گیا اور ان پناہ گاہوںمیں سے ہر ایک میں 300 افراد کی گنجائش رکھی گئی ہے جنہیں دو وقت کا کھانا بھی دیا جا رہا ہے اور یہ شیلٹر ہومز مخیر حضرات کے تعاون سے چلائے جا رہے ہیں۔ اسے بلاشبہ ایک فلاحی ریاست کی سوچ لائق تحسین اور قابل تقلید انسان دوست قوم قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کو لچک اور فراخدلی دکھانا ہوگی - نصرت جاوید

جہاں تک ان شیلٹرہومز یا پناہ گاہوں کا تعلق ہے ا ن کی خصوصی سکیورٹی اور کڑی نگرانی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ یہ جرائم پیشہ افراد کی محفوظ پناہ گاہیں نہ بن جائیں ان میں بڑی اکثریت گداگروں اور نشہ کرنے والوں کی ہوتی ہے اس لئے انہیں فٹ پاتھ کی بجائے باقاعدہ بستر پر موسم کی سختی سے نجات دلا کر سکون سے رات گزارنے کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ انتظام بھی کیا گیا کہ گداگر اور نشہ باز یہاں محض رات نہ گزاریں بلکہ ان گداگروں کو کوئی ہنر سکھانے اور نشہ بازوں کی بحالی کیلئے علاج و معالجے کی سہولت فراہم کرنے کا پروگرام بنایا گیا تاکہ یہ لوگ بھی اور ان کے علاوہ غربت کی چکی میں پسے ہوئے پسماندگی کا شکار افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی سبیل نکالی جائے تاکہ وہ معاشرہ کے مفید شہری بن سکیں اور لینے کی بجائے دینے والے بن سکیں۔ کوئی شک نہیں کہ کئی سالوں سے عمران خان کی ملک میں کرپشن اور سیاسی مافیاکے خاتمے کی سوچ نے نئی نسل کو ایک نیاپاکستان دیا ۔ وزیراعظم کا حلف اٹھاتے ہی وزیراعظم ہاوس میں رہنے سے انکار کیا ۔ 500سے زائد ملازمین میں سے صرف دو ملازمین پاس رکھے جب کہ قیمتی گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر نیلام کر دئیے ۔کھلے آسمان تلے سونے والوں کو چھت فراہم کی . بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار پروگرام کا اعلان کیا ۔

غریب بے گھر افراد کے لیے 50لاکھ گھروں کے منصوبے کا اعلان کیا۔ عوام سے براہ راست رابطے کے لیے شکایات سیل قائم کیا، وزیراعظم عمران خان نے نہ صبح دیکھتے ہیں اور نہ شام اور دن رات کام میں مصروف ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کی معیشت گزشتہ حکومتوں نے پہلے ہی تباہ کرکے رکھ دی تھی ملک پر عالمی قرضوں کی بھرمار کرکے قرضوں کوبے دردری سے اپنے اوپر استعمال کیا گیا اور لندن اور امریکا سمیت دنیا بھر میں جائیدادیں بنائی گئیں ۔یقینی طور پر حکومت کو بہت سے درپیش چیلنجز کا سامناہے مگر معاشی بہتری کے لیے تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے جس انداز میں دلیرانہ فیصلے کیئے جارہے ہیں اس نے ناقدین کے منہ بند کردیئے ہیں کیونکہ حکومت اس وقت اپوزیشن کی جا نب سے بھرپور پراپیگنڈے کے باجودعوامی بہتری کے کاموں میں مشغول نظر آتی ہے، یقینااس میں کچھ وقت تو لگے مگر یہ وہ اقدامات ہیں جنھیں اٹھانے کی کسی بھی دور میں زحمت نہ کی گئی تھی وہ اقدامات اب اس لیے اٹھائے جارہے ہیں کہ اس ملک کو اب ایک حقیقی قیادت میسر ہوچکی ہے جلد ہی قوم کو نہ صرف قرضوں کے پہاڑ سے نجات ملے گی بلکہ کرپشن کا خاتمہ بھی ہوگااور عوام کو رہنے کے لیے گھر اور روزگار بھی ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   محمود خان اچکزئی کس بات کا احتجاج کر رہے ہیں؟ آصف محمود

ماضی میں بھی پاکستان کی مختلف حکومتوں کی جانب سے غربت کے خاتمے کے لیے بیت المال اور زکوٰۃجیسے منصوبے سمیت لا تعداد پروگرام شروع کیے جاتے رہیںجن میں سے بیشتر ناکام ہوئے گویاغربت کو مٹانے کے لیے شروع کیے گئے پروگرام مٹ گئے مگر غربت نہیں مٹ سکی۔ اس وقت غربت میں کمی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں جا رہے ہیں ۔احساس پروگرام ایک ایسی پالیسی ہے جس میں تبدیلی لاکر اسے بنیادی حقوق کا درجہ دیا جا رہا ہے جس کے تحت عوام کو کھانا اور رہائش مہیا کرنے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔تحریک انصاف کی موجودہ حکومت بدترین معاشی مسائل اور پیچیدگیوں کے باوجود ملک میںمثبت تبدیلیوں کی کوشش کر رہی ہے۔اب یہ حکومت کہاں تک کامیاب ہوتی ہے یہ وقت بتلائے گا۔