زندگی کیا ہے، کتابوں کو ہٹَا کر دیکھو" - میمونہ بلوچ

کم از کم یہ بات میرے لیے سو فیصد درست ہے، کتابوں میں پڑھا تھا کہ محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے، با ادب ہمیشہ بانصیب ھوتا ہے اور وغیرہ وغیرہ، حقیقت کچھ اور ہے دوستو!
بچپن سے محنت کرنے کی عادت تھی مجھے... اور آج تک ہے، تھوڑی دیر کیلئے بیٹھ جاوں تو لگتا ہے کہ جیسے کسی نے جھنجھوڑ کر اٹھا دیا ہے کہ اٹھ اور کام کر.. تیرے پاس وقت بہت تھوڑا ہے،

اس عادت نے ساری زندگی چین سے نہ جینے دیا. محنت کی اس عادت نے میڈیکل کالج میں پہنچایا حالانکہ اس وقت خاندان کی بہت سی لڑکیوں نے سکول کا منہ بھی نہ دیکھا، اور کچھ نے صرف منہ ھی دیکھا، میڈیکل کالج میں گے ہوئے صرف ایک ہی سال ھوا تھا کہ والدہ کو خیال آیا کہ اگر یہ ڈاکٹر بن گئ تو میرے میٹرک پاس بھتیجے سے اسکی شادی نہیں ہو سکے گی اور بھتیجے کو شادی کی جلدی تھی، مجھ سے نہیں بلکہ کسی بھی لڑکی سے، جو اسکی خالی جگہ کو پر کر سکے- اب میری باادب بانصیب والی عادت نے والدہ کی اس خواہش کے سامنے سر جھکا دیا - آج انتالیس برس گزر چکے ہیں، بیس سال کی لڑکی سے میں اٹھاون برس کی عورت بن چکی ہوں - میڈیکل کالج کی تعلیم شادی کے بعد میری سخت محنت کرنے کی عادت نے پوری کروا دی لیکن باادب ہونے کی عادت نے شوھر کے سامنے زبان نہ کھولنے دی کہ مجھے اب اپنی محنت سے مستفید ہونے کا موقع بھی دیا جائے - آج میں ڈاکٹر ھونے کے باوجود بھی ڈاکٹر نہیں ، والدہ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے، انکے میٹرک پاس لیکن انتہائی پسماندہ ذہن رکھنے والے بھتیجے سے شادی کرنے کے باوجود، ایک اچھی بیٹی بھی نہیں ، پانچ بچے پیدا کرنے اور انکی پرورش کرنے اور شوھر کو روز تازہ کھانا فراہم کرنے کے باوجود ایک اچھی بیوی بھی نہیں،

آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ھوں کہ اس سارے سفر میں مجھ سے غلطی کہاں ہوی تو جواب ملتا ہے کہ ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش میں، میں نے اپنی ذات اور خواہشات کو فراموش کر دیا، میں بھول گئ کہ میری ذات کا بھی مجھ پر کوئی حق ہے - آج شوہر اور بچوں کے لیے میں ہر وقت میسر ہونے والی ایک سہولت کے سوا کچھ نہیں - نہ میں تھکتی ہوں، نہ میں بیمار ہوتی ہوں اگر بیمار ھو جاوں تو مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جانا کوئی ضروری نہیں ہے - ماں بھی مجھے بھول چکی ہے کہ ایک بیٹی اس نے اپنی انا اور خواہش کی پھینٹ چڑھائی تھی، اب وہ ایک زندہ لاش کے سوا کچھ نہیں - باادب ھمیشہ با نصیب نہیں ہوتا اور کبھی کبھی محنت کا پھل اتنا کڑوا ھوتا ہے کہ اسکو کھا کر آپ زہر آلود ہو جاتے ھیں اور اسے تھوک بھی نہیں سکتے -