محسن ِاعظمؐ اور ایک قیدی- حافظ محمد ادریس

معروف انصاری صحابی حضرت محمد بن مسلمہؓ ‘کئی اسلام دشمن مشرک قبائل کا کامیاب مقابلہ کرنے کے بعد واپس مدینہ آرہے تھے کہ ایک مقام پر نجد کا ایک طاقت ور اور معزز سردار مسلمانوں کے ہاتھ آگیا۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ نے اسے گرفتار کرلیا۔ وہ اس سردار سے پوری طرح متعارف نہیں تھے ‘لیکن انہیں اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ کوئی اہم آدمی ہے۔ یہ شخص ثُمامہ بن اُثال تھا‘ جو بنو حنیفہ کا سردار تھا۔

بعض مؤرخین کی رائے ہے کہ یہ مدینہ ہی کی طرف آرہا تھا اور اس کا ارادہ آنحضورؐ کو دھوکے سے قتل کرنے کا تھا۔ ثمامہ بن اثال اسلام دشمنی میں بلاشبہ معروف تھا‘ مگر اس کے بارے میں مؤرخین کی درج بالا رائے درست نہیں ‘کیوں کہ وہ دراصل عمرے کی ادائیگی کے لیے عازم مکہ تھا ‘مگر راستے میں پکڑ لیا گیا(طبقات الکبرٰی لابن سعد ۵/۵۴۹)۔ بہرحال جب اسلامی لشکر مدینہ پہنچا اور آنحضورؐ کو اطلاع ملی تو آپؐ نے مالِ غنیمت کا جائزہ لیا۔ آپؐ کو پتا چلا کہ ایک قیدی بھی صحابہ نے پکڑا ہے۔ آپؐ نے اسے دیکھتے ہی اپنے ان صحابہ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو تمہارا یہ قیدی کون ہے؟ انہوں نے کہا ؛ہم پوری طرح واقف نہیں ۔ آپؐ نے کہا؛ یہ بنو حنیفہ کا ایک اہم سردار ثمامہ بن اثال ہے۔ اسے اپنی حفاظت میں رکھو کہ بھاگ نہ جائے‘ لیکن اس کے ساتھ بہت عزت و احترام کا سلوک روا رکھنا۔ ثمامہ بن اثال مسیلمہ کذاب کے قبیلے سے تھا‘ جس کے فتنے میں بے شمار لوگ گرفتار ہوچکے تھے۔ بد قسمتی سے اپنی ذہانت اور فطانت کے باوجود ثمامہ بھی اس کے دھوکے میں آگیا اور اس جھوٹے مدعیٔ نبوت پر ایمان لے آیا۔ نبیٔ مہربانؐ لوگوں کی خوبیوں سے واقف بھی تھے اور قدردان بھی۔ آپؐ نے فرمایا کہ ثمامہ اچھی اونٹنیوں کا دودھ پینے کا عادی ہے‘ پھر آپؐ نے ایک بہت اعلیٰ اونٹنی اس کے لیے مختص فرمائی اور کہا؛ صبح و شام اس کا دودھ اس کی خدمت میں پیش کیا کرو۔

ثمامہ قیدی تھا اور آنحضورؐ سے اسے شدید نفرت تھی‘ لیکن اس بات پر وہ خوشگوار حیرت میں مبتلا تھا کہ قیدی ہونے کے باوجود اس سے اتنا اچھا سلوک کیا جارہا ہے۔ نبی اکرمؐ خود اس قیدی سے ملاقات کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ آپؐ نے ہمیشہ اس کے ساتھ نرم اور اچھے الفاظ میں گفتگو فرمائی۔ وہ دن بدن آنحضورؐ کے اخلاق حسنہ سے متاثر ہو رہا تھا۔ یہاں تک کہ مفتوح ہوگیا۔ آنحضورؐ اس سے سوال جواب کرتے اور روزانہ اس کا حال احوال دریافت کرتے۔ ایک روز آپؐ نے اس سے پوچھا؛ ثمامہ تمہارے دل میں کیا خیالات ہیں؟ اس نے کہا؛اے محمد میرے پاس خیرو بھلائی ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو یہ ایک ایسے شخص کا قتل ہوگا‘ جس کے خون کی بڑی قیمت ہے اور اگر آپ عفو و درگزر سے کام لیں گے تو جان لیں کہ آپ ایک ایسے شخص کے ساتھ احسان کریں گے ‘جو احسان کا بدلہ دینا جانتا ہے اور اگر آپ کو مال و دولت درکار ہے‘ تو مانگ لیجیے۔ آپ جو چاہیں گے‘ وہ دے دوں گا۔ نبی اکرمؐ خود بھی محسوس کر رہے تھے کہ اس دوران قیدی کے دل کی کیفیت بدلتی چلی جارہی ہے۔ آپؐ کو اللہ نے بے پناہ خوبیاں عطا فرمائی تھیں‘ ان میں آپؐ کی محبتِ فاتحِ عالم اور آپؐ کے سخنِ دلنواز کے کیا کہنے۔ ان خوبیوں سے بے شمار نفرتوں کے طوفان محبت کے زمزموں میں بدل گئے۔ آپؐ نے ایک دن حکم دیا کہ قیدی کو چھوڑ دو۔ نہ اس سے کوئی فدیہ طلب کیا نہ کچھ اور کہا۔ فرمایا کہ ثمامہ تم آزاد ہو ‘جہاں چاہو آزادی سے چلے جائو۔

اس وقت تک ثمامہ اپنی آزادی کو چھوڑ کر برضا و رغبت غلامی اختیار کر چکا تھا۔ جب تک اسے آزادی نہیں ملی اس نے اس کا اظہار نہیں کیا‘ لیکن آزاد ہوجانے کے بعد وہ آنحضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آنحضورؐ کے سامنے اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں کا دلچسپ تذکرہ کیا۔ اس نے کہا ''اے محمد اللہ کی قسم کرہ ارضی پر آپؐ کی ذات سے زیادہ مجھے کسی شخص سے دشمنی اور نفرت نہیں تھی۔ بخدا آج آپؐ کی ذات مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوگئی ہے۔ خدا کی قسم آپؐ کے دین سے زیادہ دنیا بھر میں مجھے کسی اور دین سے نفرت و عداوت نہ تھی۔ اس وقت مجھے آپؐ کا دین سب ادیان سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے۔ خدا کی قسم آپؐ کے شہر سے زیادہ مجھے دنیا کے کسی اور مقام سے نفرت و عداوت نہ تھی۔ بخدا آج مجھے آپؐ کا شہر دنیا کے ہر خطے سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے۔ اس کے بعد وہ باہر نکل گیا۔ غسل کرکے آیا اور کلمۂ شہادت پڑھا اور اعلان کیا کہ ایک تو وہ قریش کی اسلام دشمنی کی وجہ سے ان پر عرصۂ حیات تنگ کر دے گا اور دوسرے مسیلمہ کذاب کا فتنہ ختم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا۔ تیسرے اپنے علاقے اور قبیلے میں لوگوں تک دعوتِ حق پہنچانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائے گا۔ مکہ معظمہ میں اللہ کا گھر ہے۔ اس سے محبت تقاضائے ایمان بھی ہے اور قبولیتِ دعائے خلیل کا اعجاز بھی‘ اسی طرح مدینہ طیبہ نبیٔ مہربانؐ کا مسکن ہے اور یہی آپؐ کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس سے محبت بھی ایمان کا حصہ ہے۔ حضورؐ کی ذات‘ آپؐ کا لایا ہوا دین اور آپؐ کا شہر سبھی ہمیں محبوب ہیں اور ہم اس نعمت پر اللہ کا شکر بجالاتے ہیں۔ حکیم الامت نے کیا خوب کہا ہے:؎

خاکِ یثرب از دو عالم خوشتر است
اے خنک شہرے کہ آنجا دلبر است
ماہر القادریؒ کے الفاظ میں:؎
اے صلِ علیٰ! ایک ایک ادا اللہ کی آیت ہوتی ہے
ہے روئے محمدؐ پیشِ نظر قرآن کی تلاوت ہوتی ہے
طیبہ کے ببولوں کے کانٹے پھولوں سے بھی نازک تر نکلے
تلووں کو بھی لذت ملتی ہے ‘ آسودہ طبیعت ہوتی ہے
آنحضورؐ ثمامہ کے قبولِ اسلام سے بہت خوش ہوئے۔ آپؐ کو پہلے دن سے یقین تھا کہ ثمامہ میں خیر ہے۔ مسلمان ہونے کے بعد اس نے آنحضورؐ سے ایک سوال پوچھا کہ اللہ کے رسولؐ میں عمرے کے سفر کے لیے جارہا تھا کہ آپؐ کے فوجی دستے نے مجھے راستے میں پکڑ لیا‘ اب میں کیا کروں؟ میرا ارادہ تو اب بھی عمرہ ادا کرنے کا ہے۔ آپؐ نے فرمایا؛ ضرور عمرے کے لیے جائو؛چنانچہ ثمامہؓ مدینہ سے نجد جانے کی بجائے مکہ کے طرف روانہ ہوئے۔ مکے کے لوگ ثمامہؓ کو پہچانتے تھے‘ لیکن اس مرتبہ جب وہ حرم میں داخل ہوئے تو وہ قریش اور دیگر قبائل کے طریقہ کی بجائے اسلامی تعلیمات کے مطابق‘ تلبیہ پڑھ رہے تھے۔ قریش نے جب ان کی زبان سے یہ الفاظ سنے بالخصوص وہ بلند آواز سے لاشریک لک کے الفاظ ادا کر رہے تھے ‘تو قریش کا ماتھا ٹھنکا۔ انہوں نے کہا ثمامہ کو یہ کیا ہوگیا ہے۔ پوچھا ؛کیا تم صابی (بے دین) ہوگئے ہو؟‘‘ تم جیسے آدمی کا بے دین ہوجانا المیہ ہے۔ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ میں بے دین نہیں ہوا۔ میں کرۂ ارض کے بہترین دین میں داخل ہوگیا ہوں اور یہ دین اللہ کے سچے نبی محمدؐ کا دین ہے۔

قریش تلبیہ ہی سے خاصے ناراض تھے‘ اب اس گفتگو نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ انہوں نے ثمامہ کو گرفتار کرکے قید کر لیا۔ قریش کے سرداروں کو للکارتے ہوئے‘ انہوں نے کہا؛ تم نے مجھے محبوس کردیا ہے‘ تو جان لو کہ تم نے اپنے اوپر اپنی رسد وخوراک کے دروازے بند کر لیے ہیں۔ آج سے سمجھ لو کہ غلے کا ایک دانہ بھی یمامہ سے تمہاری طرف نہیں پہنچ پائے گا۔ قریش کے لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا اور ان کے صاحب الرائے لوگوں نے اس عمل کو خطرناک‘ عاجلانہ اور احمقانہ قرار دیا؛ چنانچہ انہوں نے ثمامہؓ کو فوراً چھوڑدیا۔
ثمامہؓ جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں۔ یہ عمرہ کرکے واپس اپنے قبیلے میں پہنچے تو انہوں نے مکہ کی طرف غلے کی ترسیل مکمل طور پر بند کردی۔ اب‘ قریش کو اندازہ ہوا کہ انہوں نے اپنی حماقت سے اپنے پائوں پر کلہاڑا مار لیا ہے۔ تھوڑا ہی عرصہ قبل قریش نے مدینہ کو تباہ و برباد کرنے کے لیے احزاب جمع کرکے مدینے کا محاصرہ کیا تھا۔ آنحضورؐ کے ساتھ ان کی دشمنی ڈھکی چھپی نہ تھی ‘لیکن اس سخت صورتِ حال میں کہ جس میں مکہ کے لوگوں کو بھوک کی وجہ سے درختوں کے پتے اور چھال کھانے اور چمڑے ابال کر پانی پینے کی نوبت آئی‘ انہوں نے آنحضورؐ سے رجوع کیا اور درخواست کی کہ اپنے پیروکار ثُمامہ بن اُثال کو حکم دیں کہ وہ غلے کی ترسیل پر سے پابندی اٹھائے۔ یہ نبی اکرمؐ کی فتح تھی۔ آپؐ نے ثمامہؓ کو حکم دیا کہ وہ پابندی ختم کردیں؛ چنانچہ انہوں نے آنحضورؐ کے پیغام کا احترام کرتے ہوئے فوراً یہ پابندی ختم کردی۔

آپؐ کو تین سال تک شعبِ ابی طالب میں محصور کرکے دنیا کی ہر نعمت سے محروم کر دینے والوں کی یہ بے بسی! اور پھر درِ یتیم کا اعلیٰ ترین اخلاق و ظرف کہ اس واقعہ کی طرف اشارہ تک نہ کیا! سبحان اللہ کیا عظیم رہبر تھے!! سلام اُن پر‘ درود اُن پر!!!؎
سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں
سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
سلام اس پر کہ اسرارِ محبت جس نے سمجھائے
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
یہ بات پورے عرب میں مشہور ہوئی اور اس سے ایک جانب آنحضورؐ کی قوت کا اظہار ہوا اور دوسری جانب آپؐ کے اخلاقِ عالیہ کا چرچا ہر گھر اور قبیلے میں ہونے لگا۔ خون کے پیاسوں کے ساتھ صلہ رحمی کی یہ مثال بے اثر کیسے رہ سکتی تھی۔