سرفراز کی چھُٹی - توقیر ریاض

ورلڈ کپ سے کچھ پہلے پاکستان اور آسٹریلیا کی پانچ ون ڈے اور تين ٹی ٹونٹی ميچوں کی سيريز ھونا تھی ، يہ ايک لمبی سیريز تھی ، ورلڈ کپ سر پے تھا ، قومی ٹيم کے زيادہ تر پلئرز ابھی پی ايس ايل سے فارغ ھوۓ تھے تو اچھا موقعہ تھا اپنی بينچ سٹرنتھ اور کچھ نئے کھلاڑيوں کو موقعہ دينے کا ۔

سرفراز ابھی تک اچھے کپتان ثابت ھوۓ تھے ليکن انجری ، فارم کچھ بھی ھو سکتا تھا پاکستان کو مسقبل کو ديکھتے ھوئے کسی کھلاڑی کو کپتانی کے پريشر ميں دکھيلنے کا ، پاکستان نے شعيب ملک کو کپتان بنايا ، جو ورلڈ کپ کے بعد ريٹائر ھونے والے تھے ۔يہ تھا ہماری مسقبل کی پلاننگ کا معيار ۔تمام دنيا ميں کپتان انڈر ۱۶ يا زيادہ سے زيادہ انڈر ۱۹ ميں چن ليا جاتا ھے ، پاکستان ميں کپتانی دے کر سکھائ جاتی ھے ۔ اسوقت بھی سرفراز کی اپنی فارم بھلے بری رہی ھو اس سے بہتر کپتان ميسر نہيں خاص کر سفيد گيند کے فارميٹ ميں ، عماد ، شاداب ، عامر ، وھاب کی اپنی جگہ خطرے ميں ھے ، امام کو ابھی انضمام کے ٹيگ سے نکلنا ھے اور خود کو ثابت کرنا ھے ، لے دے کے اگر بابر اعظم کا نام نکلتا ھے تو پاکستان کو ٹھيک ۱۵-۲۰ سال بعد اچھا بيٹسمين ملا ھے اسکو اس طرح کپتانی کے جميلے ميں ڈال کے يہ نہ ھو ہم بابر بلے باز سے بھی ھاتھ دھو ليں ، سعيد انور اور ٹيڈولکر کی مثاليں موجود ہيں وہ بلا شہبہ مہان بلے باز تھے ليکن ناکام کپتان اور دونوں کی بلے بازی بھی متاثر ھوئی تھی ۔ ٹيسٹ کے لئے اظہر علی موزوں اميدوار ہيں ۔ ليکن ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے لئے اسوقت بھی سرفراز کے ساتھ گزارا کرنا چاہئے تھا ظاہر ھے جب اس سے بہتر اپشن موجود نہيں تو اس ساری ورزش کا کيا فائدہ ۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی20 بارش کے باعث منسوخ

پی سی بی نے پہلے مکی آرتھر جيسے کوچ کو ہٹا کر بڑی غلطی کر دی اور پھر مصباح نے اپنی جوانی کی ياد تازہ کر دی پہلے احمد شہزاد اور اکمل کو ٹيم يا ترا کروائ اور اب يہ کپتانی کا ہلا گلا لگتا نہيں مسقبل قريب ميں پاکستانی کرکٹ کا کوئ بھلا ھونے والا ھے ۔