غذائی بے اعتدالی - بشریٰ نواز

اکثر لوگ غذائی بے اعتدالی کی وجہ سے متعدد امراض میں گھرے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا دھیان متوازن غذا کی طرف نہیں جاتا۔ حالانکہ کھانے پینے کی اشیاء میں معمولی سی تبدیلی ہماری صحت پر خوشگواراثرات مرتب کرسکتی ہے۔ بعض سبزیاں ایسی ہوتی ہیں جنھیں ہم پکائے بغیر بھی کھاسکتے ہیں۔

کچی سبزیوں کا استعمال صحت کے لیے بہت مفید ہے، سلاد کے طور پر کھائی جانے والی سبزیوں میں کھیرا ،ٹماٹر ،بند گوبھی ،چقندر ،گاجر ،مولی ،لیموں ،پیاز اور سرخ مولی شامل ہیں۔ یہ ہمیں سارا سال ہی میسر ہیں۔ سب کی سب نہ سہی، ان میں سے چند ایک تو ہم اپنی روزمرہ کی غذا میں شامل کرسکتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہی ہے کہ سلاد گرمیوں اور سردیوں دونوں موسموں میں کھایا جاسکتا ہے۔ آج کل بعض بیماریاں بہت عام ہوچکی ہیں جن میں بلڈ پریشر ہائی یا لو ہونا، شوگر، امراض قلب شامل ہیں۔ سلاد ان بیماریوں میں مبتلا لوگوں کے لیے بہترین دوا بھی ہے۔
سلاد کھانے کا سب سے زیادہ فائدہ نظام ہضم کو پہنچتا ہے۔ اس میں موجود اجزاء دوران خون کو بہتر بناتے ہیں۔ جسم کو ضروری معدنیات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ سلاد کے طور پر کھائی جانے والی ان تمام سبزیوں کے فائدے اور غذائی توانائی کو دیکھتے ہوئے ہم بے اختیار یہ سوچتے ہیں کہ کیوں نا صرف سلاد ہی کھایا جائے جو بہت سی بیماریوں کا علاج ہے اور ہر بیماری سے بچنے کے لیے جسم میں قوت مدافعت بھی پیدا کرتا ہے۔

سلاد کی سبزیوں میں پروٹین، چکنائی، معدنی نمکیات، نشاستہ اور ریشہ شامل ہیں۔ سلاد کا استعمال ہمارے بالوں کو مضبوط کرتا اور جلد کو چمکدار بناتا ہے۔ سلاد بنانا صرف سبزیوں کو کاٹنے کا نام نہیں۔ اسے خوبصورتی سے کاٹنا اور پھر اسے سجانا بڑی مہارت کا کام ہے۔ خوبصورتی سے سجایا گیا سلاد خاتون خانہ کی سلیقہ مندی اور حسن ذوق کی عکاسی کرتا ہے اور پھر کھانے کی رونق بھی بڑھاتا ہے۔