روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 7)

طلوع و غروب آفتاب کے ساتھ زندگی جیسے ہموار شاہراہ پر دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگی تھی۔ احمد اور زینب بچپن کی حسین وادیوں سے ہوتے بلوغت کی حدود میں داخل ہو رہے تھے۔
اف یہ گرمی، چلچلاتی دھوپ میں احمد جیسے ہی سکول سے گھر پہنچا اذان ظہر قریبی مسجد سے بلند ہونے لگی۔

اس نے دیوار گیر گھڑی کی جانب دیکھا۔ ہمممم ابھی جماعت کھڑی ہو جائے گی۔ ٹھنڈا پانی پی کر سکون سے اندھیرے کمرے میں ٹھنڈی ہوا میں سونے کی خواہش دل میں مچلنے لگی تھی۔ ”نماز تو گھر میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ نصف گھنٹے بعد بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ دین میں آسانی ہے۔ کتنے ہی معاملات میں دین ہمیں رخصت دیتا ہے۔“ خواہش جواز گھڑنے لگی تھی۔ اس نے کمرے کی جانب قدم بڑھایا لیکن یہ کیا؟ یہاں سامنے اس کا کمرہ نہیں تھا۔ مکہ مکرمہ کا صدیوں پہلے کا منظر تھا۔ پھتریلے کنکروں پر سیدنا بلالؓ کا عزیمت سے بھرپور وجود احد احد پکار رہا تھا اور وہ اکیلے نہیں تھے۔ وہاں کھجور کی چٹائی میں لپیٹے گئے سیدنا عثمانؓ بھی تھے، آل یاسرؓ بھی وہیں تھے اور حضرت خبابؓ کا دہکتے انگاروں پر تڑپتا بھاری پتھر تلے دبا وجود بھی تھا۔ اللہ اکبر مٶذن آخری صدا لگا رہا تھا۔ اِس اذان کو اُس تک پہچانے کے لیے ان عظیم ہستیوں کی قربانیوں کا قرض احمد کے کاندھوں پر آن پڑا تھا اور یہ قرض چکانے کو اسے فریضہ نماز مسجد ہی میں باجماعت ادا کرنا تھا۔ سونے کی خواہش دم توڑ چکی تھی اور اس کے قدم مسجد کی جانب اٹھ رہے تھے۔ اللہ خیر! کیا ہوا؟ تم رو کیوں رہی ہو؟ زینب کی امی پریشانی کے عالم میں بولتی جا رہی تھیں جبکہ زینب بےآواز آنسو بہا رہی تھی۔

وہ جب سے سکول سے آئی تھی مسلسل رو رہی تھی۔ ہوا کیا؟ کچھ کہو زینب امی نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔ یہ کیسی عبایا پہنا کر سکول بھیج دیا آپ نے مجھے آج،،، میں کل سے عبایا نہیں پہنوں گی نہ ہی حجاب لوں گی۔ وہ سسکیاں بھرنے لگی تھی۔ کیوں کیا ہوا زینب؟ امی کو اپنی ہی آواز بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ ماہم لوگوں کا گروپ ہے ناں انہوں نے میرا بہت مذاق اڑایا آج۔ میں تو ابھی اب نہم میں ہوں جماعت دہم کی لڑکیاں بھی عبایا نہیں پہنتیں اور جو پہنتی بھی ہیں ان کے عبایا اتنے پینڈو اور ڈھیلے ڈھالے نہیں ہیں جیسا مجھے لے دیا آپ نے۔ کیا کیا نہیں کہا ماہم نے مجھے۔ وہ ایک بار پھر سسکیاں لینے لگی۔ دن کا کھانا کھائے بغیر وہ آکر اپنے کمرے میں سو گئی۔ اس کی آنکھ کھلی تو بیڈ سائیڈ ٹیبل پر کتاب پڑی تھی۔ شہیدہ اول حضرت سمیہؓ سے شہیدہ حجاب مروہ الشربینی تک۔۔ اس نے کتاب کھولی تو صفحہ اول سورہ طہ کی آیت نمبر 130 سے جگمگا رہا تھا۔ پس جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے۔ اس کے کانوں میں ماہم کے استہزائیہ جملے گونجنے لگے۔ ارے عبایا پہننا ہی تھا تو کچھ فٹنگ ہی کرا لی ہوتی۔ اس نے صفحہ الٹا۔ سورہ الشوری آیت 15 ... ثابت قدم رہیے جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ اس نے دو تین صفحات اکھٹے پلٹ دئیے۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے - بنتِ سحر

توحید کے پرستار نہ بدزبان تھے نہ چور نہ مجرم تھے نہ گناہ گار مگر پھر بھی سزائیں دئیے گئے مگر چونکہ وہ سچے تھے اور حق پر تھے اور جنت کا وعدہ دئیے گئے تھے پس وہ صابر اور ثابت قدم رہے۔
زینب کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ حضرت سمیہ ؓ کو اسلام لانے کی وجہ سے مکہ کے کافروں نے بہت زیادہ ستایا ایک مرتبہ ابو جہل نے نیزہ تان کر ان سے دھمکا کر کہا کہ تو کلمہ نہ پڑھ ورنہ میں تجھے یہ نیزہ مار دوں گا حضرت بی بی سمیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے سینہ تان کر زور زور سے کلمہ پڑھنا شروع کیا ابو جہل نے غصہ میں بھر کر ان کی ناف کے نیچے اس زور سے نیزہ مارا کہ وہ خون میں لت پت ہو کر گر پڑیں اور شہید ہوگئیں۔ حضرت سمیہ بنت خُبَّاط رضی اللہ تعالیٰ عنہا مظلومانہ شہادت کے علاوہ اور بھی سختیاں جھیل چکی تھیں۔ ان کو گرمی کے وقت سخت دھوپ میں کنکریوں پر ڈالا جاتا، لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کیا جاتا تاکہ دھوپ کی گرمی سے لوہا تپنے لگے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوتا تو صبر کی تلقین اور جنت کا وعدہ فرماتے یہاں تک کہ سب سے بڑ ے دشمن اسلام ابو جہل کے ہاتھوں انکی شہادت ہوئی۔ زینب کی آنکھوں سے حضرت سمیہؓ کی شہادت پر آنسو بہہ نکلے۔ اس نے صفحہ پلٹا۔

شہیدہ الحجاب کے نام سے معروف مرواشیرینی مصر سے تعلق رکھنے والی ایک با غیرت مسلم خاتون تھیں جو ایک نسل پرست جرمن کی سفاکیت کا نشانہ بنیں۔ مروا شیرینی کو سارے عالم اسلام میں ”شہیدہ الحجاب“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 31 سالہ مرواشیرینی اپنے شوہر ایلوی عکاذ کے ہمراہ جرمنی میں رہائش پزیر تھیں جہاں ا یلوی عکاذ بسلسلہ روزگار مقیم تھے۔ آپ نے اجنبی ملک میں بھی بلا خوف و خطر حجاب کو اپنایا ہوا تھا۔ 2008 میں مروا ایک روز ایک تفریحی مقام پر اپنے بیٹے مصطفیٰ کے ساتھ ٹہل رہی تھیں کہ ایک اٹھائیس سالہ جرمن نوجوان ( جس کا نام ”ایلکس“ بتایا گیا ہے ) نے اس باحجاب خاتون کو ” دہشت گرد اسلامسٹ“ کہہ کر پکارا۔ مروا شیرینی نے ”ایلکس“ کی اس بد تمیزی پر جرمنی کی ایک عدالت میں ایلکس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ عدالت میں دائر کی گئی اپنی درخواست میں لکھا کہ” جرمن نوجوان نے ان کی مذہبی شناخت کی توہین کی ہے“ چنانچہ تحقیق و تفتیش کے بعد ایلکس کو مجرم ٹھہرا کراس پر عدالت نے 750 یورو جرمانہ عائد کیا۔ ایلکس ڈبلیو نے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی جس پر عدالت نے فریقین کو طلب کیا۔ 7 جولائی 2009 کو مروا شیرینی عدالت پہنچی جبکہ خبیث جرمن نوجوان بھی عدالت پہنچا

یہ بھی پڑھیں:   *روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ - قسط نمبر 9

،ابھی نظر ثانی کی درخواست شنوائی کا آغاز ہو ہی رہا تھا کہ اس حجاب دشمن جرمن نوجوان نے عفت مآب مروا شیرینی پر تیز دھار خنجر سے حملہ کر دیا۔ اس نے مروا کو لہو لہان کر کے انہیں اٹھارہ سے زائد وار کیے جن کی تاب نہ لاکر مروا شیرینی نے کمرہ عدالت میں جام شہادت نوش فرمایا۔ کتاب کے صفحات زینب کی نگاہوں کے سامنے دھندلا رہے تھے۔ مسلمان عورت کی سب سے قیمتی متاع اس کا کلمہ توحید پر ایمان ہے۔ حضرت سمیہؓ جو اسلام کی پہلی شہیدہ ہیں نے اپنا مقدس خون اسی کلمے پر نچھاور کیا۔ کلمہ توحید پر ایمان کا عملی اظہار مسلمان عورت کی حیا اور اس کے باپردہ و باحجاب ہونے میں ہے۔ جس کے لیے اسلام کی بیٹی مروا شیرینی نے اپنی جان تو قربان کر دی لیکن نسل پرست انتہا پسندوں سے نہ تو خوفزدہ ہوئیں اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ کیا۔ زینب نے کتاب بند کر کے واپس میز پر رکھ دی۔ سامنے الماری میں اس کی عبایا رکھی تھی۔ جو اب صرف عبایا نہیں تھی۔ اس کے کلمہ توحید پر ایمان کا عملی مظہر تھی۔ اس کی ثابت قدمی کی جانچ تھی۔ اس کے لیے جنت کی بشارت تھی اور سب سے بڑھ کر اس کی ان خاموش ہم جماعت طالبات کے لیے عملاً دعوت حیا تھی جو ماہم اور اس کے مابین ہونے والے معاملے کی خاموش تماشائی تھیں۔
جاری ہے۔