شہر شور سے عبارت ہیں۔ - قاضی نصیر عالم

کوئی صدا اپنے پورے کرب کے ساتھ پہنچ ہی نہی پاتی۔ میخانے کی ہاو ہو میں جرات رندانہ کی طرف دیہان نہیں جاتا۔۔آوازیں آوازوں کا راستہ روک دیتی ہیں اور پھر کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ۔۔شہر شاید تھکن سے چور ہیں۔

یہاں سال بھر کے اناج کے ذخیرہ رکھنے کی سکت ہے نہ اس کا تصور ۔ پھر ہم جیسے جب دیہی علاقوں میں “اوطاق”اور “حجرے”دیکھتے ہیں تو جنت کاگماں گزرتا ہے ۔ ہم وہ قیدی جو ساری عمر صبح بیگار کے لیے پجن ہول سے نکالے جاتے ہیں اور شام کو واپس بھیج دئیے جاتے ہیں ۔۔کہنے کو اپارٹمنٹس ۔۔ دوکاندار کے پاس پاو چینی ، آدھ پاو دال ، کلو آٹا اور تھوڑا سا گھی لینے کے بعد پیسے کم پڑ جائیں تو سمجھ نہی آتا کہ کیا چیز واپس لوٹائ جائے۔۔ دس اور بیس روپے کے فرائیز کھائے اور “وانا بی “ٹائپ مخلوق بن گئے ۔۔ سرکاری دفتروں میں اے سی آر کی فکر اور کارخانوں میں ٹھیکیداروں کا خوف ۔۔ترقی پسندوں نے اگر دیہی علاقوں کو ہدف بنایا تو ٹھیک بنایا تھا ۔۔یہاں جرات رندانہ پہ کوئ کان نہی دھرتا۔ اور دیہات میں کوئی نعرہ مستانہ بلند کرے تو سکوت اسے چہار دانگ پھیلانے کا زمہ لے لیتا ہے۔۔ کراچی بظاہر خاموش ہے سمندر ساتھ ہے تو شاید عادات بھی اپنا لی ہیں۔۔ یہاں بھی طوفان زیر زمین جنم لیتے ہیں سطح زمین پہ آتے ہیں تو حیران کر دیتے ہیں اور ساحل سے ٹکرانے سے پہلے آخری لمحے تک رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔۔کراچی سے زرا پرے موسم کا رنگ بدل چکا ہے ۔۔

سجاول کی تحصیل میر پور بٹھورو میں لوگ قرض کے لین دین سیدھے کر رہے ہیں ۔ گلے شکوے کدورتیں ختم کر کے معافی تلافی اور بخشنے بخشوانے کا سلسلہ جاری ہے ۔۔ یہاں کے مختلف دیہاتوں سے کوئی پانچ سو سے ہزار لوگ آزادی مارچ کے لیے نکل رہے ہیں ۔۔ یہ لوگ یکسو ہیں اس لیے کہ فضل الرحمن صاحب کہہ چکے کہ دھرنا ختم یا ملتوی ہونے کی ایک ہی صورت ہے کہ میں مر جاوں یا مار دیا جاوں ۔۔ پھر تذبذب کی گنجائش ہی کہاں باقی رہتی ہے ۔۔ان کے لیے یہ “معرکہ عین جالوت”ہے ۔ عباسی شکست کھا چکے اور تاتاریوں کا رخ پھیرنے کی زمہ داری مملوکوں پہ آن پڑی ہے ۔ فضل الرحمن صاحب کیوں اتنے یکسو ہیں اور ان کی کور ٹیم کیوں مدافعانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے جارحانہ انداز اپنا رہے ہیں اس کی وجوہات بے شمار ہیں۔۔ لیگیسی ؟؟؟یقیناً ۔۔ایک بھرپور سیاسی زندگی گزارنے کے بعد اب یہ میراث منتقل ہونے کا وقت ہے اور سوال یہ ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں کے لیے کیا ترکہ چھوڑ کر جا رہے ہیں اور خود تاریخ میں کس کردار کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں یہ وہ پہلو ہے جو ہر نڈر لیڈر کبھی اپنے دل ودماغ سے نکلنے نہی دیتا ۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا نے اہم موقع کیسے ضائع کر دیا - اوریا مقبول جان

جس نے میراث میں کچھ پایا ہو تو وہ اس میں کچھ اضافہ کے ساتھ ہی اسے آگے منتقل کرتا ہے ۔۔ مولانا یہ بات جانتے ہیں کہ یہ آخری موقع ہے اس منصوبہ کو تلپٹ کرنے کا جس میں یہ سیٹ آپ آئیندہ دس سال تک چلایا جانا ہے۔۔ اس میں کامیابی کے امکانات ناکامی سے کہیں زیادہ ہیں ۔۔کھونے کو کچھ نہی اور پانے کو پورا جہاں ۔۔ ناکامی کا مولانا کو خوف اس لیے نہی کہ صورتحال بدل چکی طاقت کے مراکز اب پہلے کی طرح یکسو نہی رہے ۔ بے خوف ہونے کی وجہ یہ ہےکہ اس طبقے میں قوت مدافعت بہت ہے ۔۔ جنگ آزادی کے بعد گورے گوروں کے جبر سے نکل آئے اور پھر سے قوت بن گئے تو کالے انگریزوں کی چیرہ دستیوں میں بھی اپنا راستہ نکال ہی لیں گے میر پور بٹھورو سے پنجاب کی سرحد تک دیہی علاقوں میں ایک زمانے بعد ایسی لہر اٹھی ہے ۔۔ اگر مارچ میں رکاوٹ نہ ڈالی گئ تو پنجاب کے شہروں اور اسلام آباد سے اتنے لوگ نکلیں گے کہ مولوی اور مدرسین اس میں نظر بھی نہی آئیں گے ۔۔ سیاست کا “سرفر “ کبھی لو ٹائیڈ اور ہائی ٹائیڈ کی پروا نہی کرتا وہ اونچی لہر کا منتظر ہوتا ہے اسی لہر پر اپنا سرفنگ بورڈ ڈالتا ہے جس سے کنارے پہ کھڑے لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں ۔