گلیمر انڈسٹری کے بنائے گئے معیارات - جویریہ سعید

نوآبادیاتی دور کے چھوڑے ہوئے کچرے اور گلیمر انڈسٹری کے بنائے گئے معیارات کے مطابق طے کی گئی خوبصورتی کی تعریف کے برخلاف خود کو یا اوروں کو سراہنے کا عملی جہاد اس کے قولی جہاد کے مقابلے میں کئی گنا مشکل ہے۔

اس کام کی اہمیت اس لیے ہے کہ احساس کمتری کسی بھی قسم کا ہو کئی سطحوں پر اور کئی معاملات میں بڑے نقصانات کرواتا ہے۔ حجاب اور بچوں کی تعریف کے پردے میں سرخ و سفید رنگت والے انسانوں کی تصویریں لگانے سے لے کر "اس عمر میں یا اس رنگت پر اس رنگ کی لپ اسٹک لگاتے شرم نہیں آتی" جیسے جملوں تک کئی محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے۔ "یہ رنگ میں نہیں پہنتی کہ مجھ پر جچتا نہیں" تو قابل قبول ہے . مگر " یہ رنگ میں نہیں پہنتی کہ اس میں میری رنگت گہری یا کالی لگتی ہے!" ایسی سوچ ہے جس کی ٹھونک بجا کر اصلاح کی جانی چاہیے۔ اسی طرح تعریف تو بظاہر کسی کے لباس کے سلیقے کی ہورہی ہوتی ہے لیکن سچ پوچھیے تو اسی قسم کی ستائش سے کسی فربہی مائل دبتی ہوئی رنگت والی خاتون کا سرفراز کیا جانا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ اور یہ سوچ تبدیل کرنے میں ان بہادر اور خوبصورت خواتین کا بڑا ہاتھ ہے جو دبتی ہوئی رنگت کے ساتھ بھی خوشرنگ لباس اور میک اپ کے ساتھ سجتی سنورتی ہیں۔ ورنہ ہمارا لاشعور یہ قبول کرچکا ہوتا ہے کہ یہ حقوق صرف کھلتی رنگت اور دبلی پتلی خواتین کے حق میں محفوظ کیے جاچکے ہیں۔

خوداعتمادی اور خوشی کے ساتھ ہلکے سے جھریوں والے ہاتھ پر کچھ انگوٹھیاں یا دبتی ہوئی رنگت پر گلابی لپ اسٹک اور فربہی مائل بدن پر ڈھیلا سا خوبصورت اسٹائلش کرتا اور بڑا دوپٹہ پہنے کچھ حسیناؤں نے ذہن پر لگے کئی جالے اتارے ۔ ناخنوں پر مہندی صرف وہی نہیں لگاتیں جن کو دیکھ کر لوگ کہیں گے کہ واہ ہاتھ کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں۔ہاتھوں پر مہندی تو عورت اپنی خوشی کے لیے لگاتی تھی۔ محبت اور مودت جس شے کا نام ہے اس کے لیے چہرے و بدن کا حسین ہونا شرط نہیں، محبت ہوجائے تو سامنے والا حسین نظر آنے لگتا ہے۔ یہ بات کئی محبت کرنے والوں کو خاموشی سے پڑھتے رہنے سے سمجھ آئی۔ دل بھر جائے تو بہت سا حسن بھی اس بیش قیمت بیڈ شیٹ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے جسے سال میں ایک دوبار کسی امیر مہمان کی تواضع کے لیے نکال کر شان بڑھانے کو استعمال کر لیاجاتا ہے مگر رات سونے کے لیے اس بے آرام چادر کی طرف طبیعت مائل نہیں ہوتی۔ واضح کیے دیتے ہیں کہ یہاں موضوع چونکہ سجنے سنورنے کی ترغیب نہیں ہے اس لیے میک اپ زدگی کے مفاسد اور ذاتی آرائش و زیبائش میں حد اعتدال سے گزرجانے کی قباحتیں ڈسکس کرنے سے گریز کیا جائے تو بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک جملہ - جانیتا جاوید

ہم تو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دیکھا یہ ہے کہ کوئی متقی بہن بھی اگر میک اپ کے مفاسد کا تذکرہ کرکے اپنے اس لعنت سے محفوظ ہونے کا تذکرہ کرتی ہیں تو یہ جتانا نہیں بھولتیں کہ بغیر میک اپ کے بھی ان کی " سرخ و سفید " یا "کھلتی رنگت" کیسی "پر نور" دکھائی دیتی ہے ۔ واقعی سچ یہ ہے کہ اصل حسن شخصیت کا ہوتا ہے ۔ حسن اخلاق، معاملات میں وسعت ظرفی اور خوشدلی اور پھر اس پر ذہانت اور قابلیت اگر وقار کی چادر کے ساتھ پہنے اوڑھے جائیں تو شخصیت کا اصل حسن نکھر کر سامنے آتا ہے ۔ چلتے چلتے عرض ہے کہ اگر آپ آرائش و زیبائش و غازہ و گلگونہ سے اس لیے گریز کرتی ہیں کہ آپ کی طبیعت اس کی طرف مائل نہیں ہوتی تو اچھی بات ہے ، لیکن اگر اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو خوبصورتی کے کچھ ایسے معیارات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے اس کا حق نہیں ہے جن کی بنیاد نوآبادیاتی دور کا چھوڑا ہوا کچرا اور عورت کو پروڈاکٹ سمجھنے والی گلیمر کی صنعت پھیلایا ہوا گند ہے تو آپ ضرور ٹھونک بجا کر اپنی اصلاح کرنے کا سوچیے ۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.