سفر میرا تعاقب کررہا ہے - قدسیہ ملک

خبر یہ ہے کہ نابالغ کے گاڑی چلانے پر جیل وہ جائے گا جس کے نام پر گاڑی ہوگی"۔یہ سن کر کچھ لوگوں نے گاڑیاں اپنی اپنی بیویوں کے نام پر ٹرانسفر کروادی اور نابالغ لڑکے سے بول دیا کہ جابیٹاجا۔گاڑی چلا،چالان کی پروا مت کر ابھی تیرا باپ زندہ ہے۔

کچھ مرد حضرات خواتین کےگاڑی چلانے پر بہت اعتراض کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ خواتین اچھی طرح گاڑی نہیں چلاپاتی۔غیر ضروری گیئر،بریک لگاتی ہیں۔جگہ جگہ گاڑی روک دیتی ہے۔موڑ بہت طویل کاٹتی ہیں۔ان میں سے بہت سی باتیں کافی حد تک ٹھیک بھی ہیں۔گاڑی چلانے کے لئے بہت صبر حوصلہ اور برداشت کی ضرورت ہوتی ہیں۔بعض خواتین جو بات بات پر اپناپیمانہ صبر لبریز کرلیتی ہیں۔کراچی کی سڑکوں پر ان کے لئے گاڑی چلانا کافی مشکل کام ہے۔ویسے بھی بعض مرد حضرات بھی اس تاک میں رہتے ہیں کہ کہیں کوئی خواتین ڈرائیورمل جائے اور اور وہ فقرے بازی،غیر ضروری ہارن اور گاڑی آہستہ چلاکر ان کو ہراساں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نادیں۔لیکن بعض مرد حضرات خواتین ڈرائیورز کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگرایک خاتون گاڑی گاڑی چلانے کراچی کی سڑکوں پر نکل ہی آئی ہے تو اسے صبروبرداشت کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے۔اس کے علاوہ عمدہ مہارت ڈرائیونگ پر مکمل عبور تو بہت ضروری ہے۔کیونکہ آجکل لاکھوں لوگوں کا خیال ہے کہ وہ گاڑی چلائے بغیر گزارہ نہیں کر سکتے۔‏ لیکن بعض صورتوں میں گاڑی چلانا خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔‏

اس کے لئے ہمیں چند اصولوں کو جاننا بہت ضروری ہے لیکن ان اصولوں سے پہلے میں جامعیہ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاون کا فتویٰ آپ سب دوستوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ " کیا عورت کا گاڑی چلانا جائز ہے؟ جواب بالکل من و عن آپ قارئین کی نذر کیا جارہاہے " قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا ، اور زمانۂ جاہلیت کے دستور کے موافق بے پردگی کے ساتھ اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے اور گھومنے پھرنے سے منع کیا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت چھپانے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تانک جھانک میں لگ جاتا ہے۔ ‘‘ اس لیے عام حالات میں بلا ضرورت عورت کا گھر سے نکلنا اور گاڑی چلانا درست نہیں ہے، خاص طور پر موجودہ ماحول میں عورت کے لیے گھر سے باہر نکلنے اور گاڑی چلانے میں بہت سے مفاسد وخرابیاں اور احکامِ شرعیہ کی خلاف ورزی لازم آتی ہے ، فقہائے کرام نے شرعی وطبعی ضرورتوں کے لیے (جب کہ ضرورت ایسی ہو کہ بغیر باہر نکلے مصیبت ٹلنے یا کام پورا ہونے کی کوئی سبیل نہ ہو ) عورت کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے، لیکن وہ بھی اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ عورت مکمل پردہ وبرقع کی حالت میں ہو،

اور برقع بھی ایسا ہو جو پورے بدن کو چھپاتا ہو، دیدہ زیب ونقش ونگار والا، زرق برق، نظروں کو خِیرہ کردینے والا نہ ہو۔نیز جس طرح مردوں کو حکم ہے کہ وہ عورتوں اور غیر محرم پر نظر نہ ڈالیں، اسی طرح عورتوں کو بھی حکم ہے کہ وہ غیر محرم مردوں پر نظر نہ ڈالیں ، جب کہ گاڑی چلاتے وقت ہر طرح کے (یعنی جوان اور بڑی عمر کے) مردوں پر نظر پڑنا لازمی امر ہے، اس سے بچنا ممکن نہیں ہے اور یہ فتنہ کا باعث ہو سکتا ہے، نیز جب کوئی عورت اور نوجوان لڑکی گاڑی چلاتی ہے، تو مردوں کی نگاہیں اس کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں، اور یہ بھی فتنہ کا باعث ہے، اس لیے بلا ضرورت عورتوں کا شوقیہ گاڑی چلانا جائز نہیں ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کے لیے شدید ضرورت کی بنا پر اور کوئی شرعی محذور نہ پائے جانے کی صورت میں پردہ کے پورے اہتمام کے ساتھ یعنی برقعہ پہن کر چہرہ چھپا کر تو گاڑی چلانے کی اجازت ہے، لیکن بلاضرورت یا بے پردگی کے ساتھ نہ تو باہر نکلنا جائز ہوگا اور نہ ہی گاڑی چلانا جائز ہوگا۔قرآن کریم میں ہے:اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکواۃ دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو ۔ الأحزاب: 33
انتہائی ضرورت کی حالت میں عورتوں کو گاڑی چلانے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کو خراج عقیدت - پروفیسر جمیل چودھری

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے تلوار اٹھانا ، نیزہ بازی گھڑسواری ، تیراکی وغیرہ ایسے تمام کاموں سے ایک اسلامی عورت کا آشنا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ بوقت ضرورت ان تمام مہارتوں کا استعمال کیاجاسکے۔ ڈرائیونگ کے اہم اصولوں سے آشنائی ہر گاڑی چلانے والے کے لئے ضروری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق،‏ پوری دُنیا میں ہرسال ۱۲ لاکھ سے زائد لوگ ٹریفک کے حادثات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں!‏ لہٰذا،‏ اچھا ہوگا کہ ہم اِس بات پر غور کریں کہ ہم احتیاط سے گاڑی کیسے چلا سکتے ہیں۔‏ آئیں اِس سلسلے میں کچھ عملی اقدام پر غور کریں۔ اپنا جائزہ لیں:آسٹریلین جرنل آف سوشل ایشوز نامی رسالے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بیان کِیا گیا کہ حادثات کے امکان کو کم کرنے کے لئے ایک ڈرائیور کو گاڑی چلانے کی اپنی عادات میں بہتری لانی چاہئے۔‏ لہٰذا،‏ گاڑی چلانے سے پہلے ایک شخص کو خود سے یہ پوچھنا چاہئے،‏ ’‏کیا مَیں گاڑی چلانے کی حالت میں ہوں؟‏‘‏ تھکاوٹ کی صورت میں ایک ڈرائیور کے لئے فوری ردِعمل دکھانا مشکل ہو سکتا ہے۔‏ فلپائن میں نقل‌وحمل کے شعبے کے مطابق آپ کے جذبات جیسا کہ غصہ،‏ پریشانی اور جوش آپ کے گاڑی چلانے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔‏ ایسی حالت میں آپ غیردانشمندانہ فیصلے کر سکتے یہاں تک کہ طیش میں آ کر کوئی سنگین قدم اُٹھا سکتے ہیں۔‏

اپنی مہارتوں کا جائزہ لیں:خاص طور پر ترقی‌ پذیر ممالک میں ،‏ جہاں روزبروز سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں نئے اور ناتجربہ‌کار ڈرائیوروں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔
محتاط ہو کر گاڑی چلائیں,چوکس رہیں:سڑک پر امکانی خطرات اور دوسرے ڈرائیوروں کی غلطیوں کے لئے تیار رہیں۔‏ اکثر گاڑیوں کے آپس میں ٹکراؤ کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ڈرائیور آگے والی گاڑی کے بالکل پیچھے پیچھے گاڑی چلاتے ہیں۔‏ ایک اچھا ڈرائیور اپنی اور دوسری گاڑی میں مناسب فاصلہ رکھے گا۔ محض شیشوں پر بھروسا نہ کریں: یاد رکھیں کہ گاڑی کے اردگرد ایسی جگہیں ہوتی ہیں جو شیشے میں نظر نہیں آتیں۔‏ لہٰذا،‏ شیشوں کو استعمال کرنے کے ساتھ‌ساتھ پیچھے کی طرف بھی نظر ڈالیں۔ پوری توجہ سے گاڑی چلائیں:ڈرائیونگ کرتے وقت ایسے کاموں سے گریز کریں جو آپ کا دھیان بٹا سکتے ہیں جیسےکہ موبائل‌فون کا استعمال کرنا۔‏ موٹرسائیکل چلانے کی صورت میں:‏ اعدادوشمار کے مطابق،‏ کسی حادثے کی صورت میں موٹرسائیکل چلانے والےکوگاڑی چلانے والے کی نسبت ۳۷ گُنا زیادہ موت کےخطرےکا سامنا ہوتا ہے۔موٹر سائیکل چلانے والوں کے تحفظ سے متعلق ایک امریکی تنظیم بیان کرتی ہے۔ دوسروں کو نظر آئیں:‏ پوری کوشش کریں کہ دوسرے آپ کو دیکھ سکیں۔‏

اپنی گاڑی کی ہیڈلائٹس کو جلائے رکھیں۔‏ ایسی جگہوں سے دُور رہیں جہاں اگلی گاڑی کا ڈرائیور آپ کو شیشے میں نہیں دیکھ پائے گا۔‏ تحفظ کے لئے ضروری لباس پہنیں: تیز رنگ کے کپڑے پہنیں تاکہ دوسرے آپ کو دیکھ سکیں۔‏ نیز ہیلمٹ اور ایسے لباس کا استعمال کریں جو آپ کو زیادہ زخمی ہونے سے بچا سکتا ہے۔‏ ‏بہت احتیاط سے چلائیں ڈرائیونگ کرتے ہوئے یہ تصور کریں کہ دوسرے آپ کو نہیں دیکھ سکتے ہیں۔‏ اپنی گاڑی کا جائزہ لیں:ایک ڈرائیور کو ہر لحاظ سے تحفظ کا خیال رکھنا چاہئے۔‏ اپنی گاڑی کو اچھی حالت میں رکھیں۔ بریک اور گاڑی کے دیگر تمام حصوں کو ٹھیک حالت میں ہونا چاہئے۔‏ ٹائر کی پکڑ اتنی مضبوط ہونی چاہئے کہ گیلی سڑک پر گاڑی کے پھسلنے کا امکان کم ہو۔‏ ٹائر میں ہوا کا درست دباؤ گاڑی کے سٹیرنگ کو کنٹرول کرنے اور بریک لگانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔‏ آجکل بہت سی گاڑیوں میں سیٹ بیلٹ لگائے جاتے ہیں۔‏ اگر اِنہیں استعمال نہ کِیا جائے تو اِن کا کوئی فائدہ نہیں۔ گاڑی چلاتے وقت ہمیشہ موسم اور سڑک کی حالت کو ذہن میں رکھیں:ب

یہ بھی پڑھیں:   ماں سے معاشرہ - عائشہ یاسین

رف‌ باری یا گیلی سڑک گاڑی کو کنٹرول کرنے اور اِس کے رُکنے کی رفتار پر اثرانداز ہوتی ہے۔‏ رات کے وقت ڈرائیونگ کرنے کے لئے ہیڈلائٹس کو ٹھیک حالت میں رکھیں۔‏ نیز،‏ گاڑی کی رفتار کم رکھیں۔‏ چونکہ زندگی خدا کی طرف سے تحفہ ہے اِس لئے ہمیں ہر لحاظ سے اِس کی حفاظت کرنی چاہئے۔‏ پس یہ بہت ضروری ہے کہ ہم محتاط طریقے سے گاڑی چلانا سیکھیں۔‏ گاڑی چلاتے وقت پٹرول کی بچت: پُرسکون طریقے سے گاڑی چلائیں:‏ باربار رفتار بڑھانے اور بریک لگانے سے پٹرول ضائع ہوتا ہے۔‏ جب گاڑی رُکی ہو تو انجن بند کریں:‏ آجکل عام طور پر گاڑی چلانے سے پہلے انجن کو گرم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‏ اگر گاڑی آدھے منٹ سے زیادہ دیر کے لئے روکنی ہے تو انجن کو بند کر دیں۔‏ ٹائر میں ہوا کا دباؤ مناسب رکھیں:‏ جب ٹائر میں ہوا کا دباؤ مناسب ہوتا ہے تو یہ زیادہ آسانی سے گھومتا ہے جس سے پٹرول کی بچت ہوتی ہے۔‏ رفتار کم رکھیں:‏ تیز رفتاری سے گاڑی چلانا خطرناک ہو سکتا ہے اور اِس میں پٹرول بھی زیادہ لگتا ہے۔‏

اللہ ہم سب کو ناگہانی آفات سےدور رکھے۔جاتے جاتے منہ کا مزہ بدلنے کے لئے ایک لطیفہ سنیئے۔
بیوی: سنو ! کیا تم میرے مرنے کے بعد دوسری شادی کر لو گے ؟؟ شوہر: نہیں‌بیگم۔ تمہیں پتہ ہے میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ میں دوسری شادی نہیں کرونگا۔ بیوی: لیکن تم اتنی لمبی زندگی تنہا بھی تو نہیں‌گذار سکتے ۔ شادی تو تہمیں کرنا ہو گی ..شوہر: دیکھا جائے گا ۔ اگر ضروری ہوا تو کر لوں گا!! ..بیوی: (دکھ بھری آواز میں ) کیا تم واقعی دوسری شادی کر لو گے ؟
شوہر: بیگم ! ابھی تم خود ہی تو زور دے رہی تھی۔ بیوی: اچھا کیا تم اسے اسی گھر میں لاؤ گے ؟ شوہر: ہاں۔ میرا خیال ہے ہمارا گھر کافی بڑا ہے اور اسے یہیں رہنا ہو گا ..بیوی: کیا تم اسے اسی کمرے میں رکھو گے ....شوہر: ہاں کیونکہ یہی تو ہمارا بیڈ روم ہے ..بیوی: کیا وہ اسی بیڈ پر سوئے گی ..شوہر: بھئی بیگم ظاہر ہے اور کہاں سوئے گی ..بیوی: اچھا کیا وہ میری جیولری استعمال کرے گی؟؟ شوہر: نہیں اس جیولری سے تمہاری سہانی یادیں وابستہ ہیں ۔ وہ یہ استمعال نہیں کرسکے گی ..بیوی: اور میرے کپڑے ؟؟ شوہر: پیاری بیگم ! اگر مجھے شادی کرنا ہوئی تو وہ کپڑے بھی خود ہی لے کر آئے گی۔ بیوی: اور کیا وہ میری گاڑی بھی استعمال کرے گی ؟؟ شوہر: نہیں ۔ اسے گاڑی چلانا نہیں آتی۔ بہت دفعہ بولا لیکن وہ سیکھنا ہی نہیں چاہتی ۔
بیوی: کیااااااااااااااااااااااا ااااااااااا ؟؟؟ شوہر: اوہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ

ٹیگز

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.