جون ایلیا! (آخری قسط) عطا ء الحق قاسمی

جون ایلیا سے ملاقاتوں کا سلسلہ برسہا برس پر محیط ہے مگر یہ ’’برسہا برس‘‘ اپنے دامن میں کل آٹھ دس ملاقاتیں لئے ہوئے ہیں، چنانچہ ان یادوں کا سلسلہ ترتیب وار ممکن نہیں،

جیسا کہ شروع میں کہہ چکا ہوں کہ مجھے منیر نیازی اور جون ایلیا صرف اپنی اعلیٰ درجے کی شاعری کی وجہ سے نہیں، باقی شاعروں سے بالکل مختلف زندگی گزارنے کی وجہ سے بھی محبوب تھے اور محبوب ہیں۔

جون بیحد بلکہ غیر ضروری حد تک پڑھے لکھے انسان تھے۔ عالمانہ گفتگو پر آتے تو علم کے موتی بکھیرتے چلے جاتے، ایک دن جب علم کے موتیوں کا ڈھیر لگ گیا اور گفتگو ختم ہونے کو نہیں آرہی تھی تو میں نے جون کو مخاطب کرکے کہا ’’جون بھائی آپ کو ایک لطیفہ سنائوں؟‘‘

اس پر اہل محفل نے مجھے گھور کر دیکھا مگر جون نے کہا ’’الحق تم ان جاہلوں کی پروا نہ کرو، لطیفہ سنائو‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا جون بھائی لطیفہ شروع کرنے سے پہلے میں نے ختم کر دیا، میں درمیان میں ذرا سی بریک چاہتا تھا کہ مجھے علمی بدہضمی محسوس ہونے لگی تھی۔ اب آپ دوبارہ شروع ہو جائیں‘‘

مگر اس کے بعد دوبارہ کیا شروع ہونا تھا، محفل ہی اجڑ گئی، سو جون دوبارہ وہی جون بن گئے، جن کی ادائوں نے مجھے ان کا اسیر کیا ہوا تھا۔

اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ جون ایلیا محض شاعر تھے، خوش ادا تھے تو وہ بھول جائے، سب نے جون کا ایک روپ کراچی کے مشاعرے میں دیکھا، جو ایم کیو ایم کی اشیرباد سے ہو رہا تھا،

میں اتفاق سے جون بھائی کے قریب بیٹھا تھا۔ مشاعرے کے دوران ایم کیو ایم کے ایک لیڈر اسٹیج پر آئے اور سامعین کے علاوہ شعراء نے بھی اپنی نشستوں سے اٹھ کر موصوف کا استقبال کیا مگر جون بھائی نہ صرف بیٹھے رہے بلکہ کچھ بڑبڑاتے بھی محسوس ہوئے، دوسرے لیڈر کی آمد پر بھی جب یہ ڈرامہ ہوا تو جون کیلئے یہ سب کچھ ناقابل برداشت ہوگیا،

انہوں نے قدرے بلند آواز میں کہا’’ یہ کیا گھٹیاپا ہے؟ بس قیامت کا منظر تھا جو میں نے دیکھا، کچھ کارکن جون کی طرف بڑھے مگر اس سے پہلے ایک شاعر نے (نام یاد نہیں) جون بھائی کو بغل میں دبایا اور بھاگ نکلا۔

میں اس روز شرم سے پانی پانی ہوگیا اور یہ سوچ کر جان سی نکل گئی کہ کہیں رستے میں ظالموں نے میرے جون بھائی کو نہ گھیر لیا ہو مگر اللہ کا شکر ہے، کہ اس شیر جوان نے جس نے جون کو ’’اغوا‘‘ کیا تھا،

ایک مشن امپوسیبل کو مشن پوسیبل بنا دیا اور اس حوالے سے آخر میں ایک ہولناک انکشاف، جس کے با رے میں آج بھی سوچ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ یہ کہ پاکستان بھر سے آئے ہوئے شعراء کو جس اسٹیج پر بٹھایا گیا تھا، عین اس کے نیچے بارود کے ڈھیر بچھے ہوئے تھے مگر لعنت ہے مجھ پر کہ ایک صحافی کے طور پر میں نے یہ بھی سوچا کہ اگر بارود کو کوئی ماچس کی تیلی دکھا دیتا تو اس روز اخبارات کے نیوز ایڈیٹرز کو کتنی بڑی خبر لیڈ کا زیادہ انتظار کئے بغیر مل جاتی۔

اور اب ایک بہت مزیدار محفل کی روداد، اس محفل میں صرف میں اور جون تھے یا غالباً امجد اسلام بھی تھا۔ جون بھائی کہنے لگے ’’الحق تم اب بھی اتنے خوبصورت ہو آج سے پندرہ برس قبل تم جب پچیس تیس سال کے ہوگے، نری قیامت ہوگے‘‘یہ سن کر میری ہنسی رکنے میں نہیں آرہی تھی۔

بالآخر میں نے خود پر کنٹرول کیا اور کہا ’’ہو سکتا ہے آپ صحیح کہتے ہوں‘‘ بولے ’’ہو نہیں سکتا، تم نے اس دور میں کشتوں کے پشتے لگا دئیے ہوں گے‘‘

میں نے شرمانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’’اللہ بہتر جانتا ہے، میرے علم میں تو نہیں‘‘ اس کے بعد جون نے جو بات کی، ہنستے ہنستے میری ’’وکھیوں‘‘ میں بل پڑ گئے مگر افسوس دنیا کا کوئی اخبار وہ شائع نہیں کرسکتا، تاہم میں ان کے جملے کو کند چھری سے ذبح کرنے کی کوشش کرتا ہوں، بولے ’’صرف اتنا بتا دو کہ تم آج تک کتنے کلومیٹر کی سیاحت کر چکے ہو‘‘ یہ بوگس جملہ لکھنے کی بجائے بہتر تھا، میں یہ قصہ ہی نہ چھیڑتا۔

اور آخر میں ایک بالکل مختلف جون ایلیا، جو میں نے اس روز دیکھا جب پاکستان کیلئے ہماری پرواز ایک ہی تھی، جو براہ راست کراچی آرہی تھی اور اس کے بعد اس نے لاہور کیلئے روانہ ہونا تھا۔ کراچی پہنچ کر بجائے اس کے کہ جون بھائی مجھے خدا حافظ کہتے، وہ باہر میرے ساتھ ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔

اس روز جون بالکل سنجیدہ موڈ میں تھے، انہوں نے مجھے اپنی عائلی زندگی کے بارے میں بتانا شروع کیا، مجھے علم تھا میری پسندیدہ افسانہ نگار اور کالم نگار خاتون سے ان کی شادی ہوئی اور تین بچوں کی ولادت کے بعد ان میں علیحدگی ہوگئی۔

وہ باتیں کرتے جاتے تھے،بچوں کا احوال بھی بیان کر رہے تھے پھر اچانک انہوں نے رونا شروع کر دیا، حتیٰ کہ ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ میرا دل صدمے سے بوجھل ہوگیا، پھر انہوں نے اپنا سر میرے کاندھے پر رکھ دیا اور ان کے آنسو میری آستین تک پہنچ گئے۔

میری اپنی آنکھیں بھی نم ہو گئی تھیں، میں اپنے محبوب شاعر کو اس عالم میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ میں لاہور کی فلائٹ میں سوار ہوا تو جون ایلیا کے آنسوئوں سے بھیگی ہوئی اپنی قمیص کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک میری آنکھوں میں بھی آنسوئوں کا ایک ریلا آیا، میرا ہم نشست میری کیفیت دیکھ کر پریشان ہوگیا، مگر میں اسے کیا بتاتا کہ مزاح نگار کے اگر قلم میں نہیں آنکھوں میں آنسو تو ہوتے ہی ہیں نا۔