جواز کی تلاش- ڈاکٹر صفدر محمود

مہنگائی کی ماری ہوئی اور تبدیلی کے انتظار میں تھکی ہوئی بیچاری قوم کو آج کل میڈیا نے آزادی مارچ کے بخار میں مبتلا کر رکھا ہے۔

اس طرح کے مارچ اور سیاسی حربے دیکھتے عمر گزر گئی۔ اس لئے تھوڑی سی حیرت ہوتی ہے جب دن رات میڈیا مولانا فضل الرحمٰن کے مارچ یا دھرنے میں مصنوعی ہوا بھرتا اور ایسے ایسے خوفناک نتائج برآمد کرتا ہے جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔

اس طرح میڈیا نے مولانا کی یہ خواہش یا حسرت تو پوری کر دی کہ وہ کئی دنوں سے میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں بقول شخصے مولانا اور اُن کے بزرگ پاکستان بنانے کے ’’گناہ‘‘ میں شامل نہیں تھے لیکن اب وہ مارچ اور دھرنے کے ذریعے حکومت گرانے کے ’’گناہ‘‘ کا ارتکاب کرنا چاہتے ہیں۔

بعض تجزیہ کار مولانا کے مارچ سے اس قدر گھبرائے ہوئے ہیں کہ وہ اندازوں اور پیش گوئیوں سے حکمرانوں کی نیندیں اڑا دینا چاہتے ہیں۔

انتظامیہ میں ایک عمر گزارنے کے بعد میرا اندازہ یا (Guess)ہے کہ مولانا کا آزادی مارچ حکمرانوں سے آزادی حاصل نہیں کر سکے گا۔ اگر انتظامیہ نے اپنے ہوش و حواس قائم رکھے اور حکمرانوں نے سیاسی بصیرت کے ساتھ ساتھ انتظامی حکمت عملی اپنائی تو مولانا ایک زبردست آندھی کی مانند یا جھکڑ بن کر آئیں گے اور طوفان کی مانند گزر جائیں گے۔

البتہ وہ ملک کی ڈگمگاتی معیشت کو زور دار جھٹکا دے جائیں گے۔ ہمارے تجزیہ کار بار بار تحریکِ نظامِ مصطفیٰؐ کا حوالہ دیتے اور بھٹو صاحب کے انجام کا نوحہ لکھتے ہیں۔ اول تو مولانا کا آزادی مارچ تحریکِ نظام مصطفیٰؐ تحریک نہیں بن سکتا اور نہ ہی ساری قوم کو گائوں گائوں، قریہ قریہ، شہر شہر سڑکوں پر لا سکتا ہے۔

دوم بھٹو مخالف تحریک کو فوج کی تھپکی مل گئی تھی جس نے دم توڑتی تحریک میں جان ڈال دی۔ ہم نے وہ اسٹیج بھی دیکھے جب جلوسوں میں موجود لوگوں کی تعداد انگلیوں پہ گنتی کی جا سکتی تھی پھر ہم نے وہ منظر بھی دیکھا کہ تھپکی ملی تو جلوس نے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور پولیس کی گولیوں نے تحریک کو شہدا دے دیئے۔

تفصیل میں جانا مناسب نہیں لیکن پھر کیا ہوا؟ لاتعداد قربانیاں دینے کے بعد، بیویوں کے سہاگ اجاڑنے کے بعد، مالی نقصانات برداشت کرنے کے بعد کیا قوم کو نظام مصطفیٰ ؐمل گیا؟ قوم کو ملا جنرل ضیاء الحق اور جنرل صاحب کا کوڑا جس کے زور پر وہ گیارہ برس اقتدار میں گزار گئے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا مارچ نہ اتنا وسیع، ہمہ گیر اور طاقتور ہو سکتا ہے اور نہ ہی فوج مداخلت پہ مائل ہے۔ لڑکھڑاتی معیشت، نئے نئے چیلنجز اور پڑوس میں پروان چڑھتے خطرات اور اس پر مستزاد یہ کہ ایک ہی سال بعد تبدیلی، یہ کسی سمجھدار ’’قوت‘‘ کا ایجنڈا نہیں ہو سکتا۔

غیرسیاسی قوتوں کو کیا چاہئے؟ تابع فرمانی- اتنا تابع فرمان تو مولانا فضل الرحمٰن بھی نہیں ہو سکتے جتنا بیچارا عمران خان ہے۔ فرض کیجئے تبدیلی آ بھی گئی تو ہمارے محترمی مولانا کو کیا ملے گا؟

وزارتِ عظمیٰ کی لکیر تو ان کے ہاتھ پہ نہیں۔ زیادہ سے زیادہ وزارت مذہبی امور یا کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی۔ کشمیر کمیٹی نے مولانا کو دنیا جہاں کی سیریں کروائیں جہاں مولانا کشمیر کی خدمت کرنے کے بجائے اپنے مدارس کے لئے چندہ مہم چلاتے رہے۔ آپ سابق سفیر کرامت غوری کی کتاب میں مولانا صاحب کے حوالے سے مشاہدات بلکہ حکایات پڑھ لیں۔ یہ دیگ کے چند دانے ہیں۔

یادش بخیر۔ اول تو بھٹو نہایت ذہین، پُرعزم اور اعلیٰ درجے کے شاطر حکمران تھے۔ اُن کو اپنی ذات پر اس قدر اعتماد تھا کہ اس اعتماد نے اُن میں تکبر پیدا کر دیا تھا۔

بھٹو صاحب اپنے سیاسی مخالفین کو حقیر اور کمتر سمجھتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ پاکستان کا غریب و محروم طبقہ ان پر جان چھڑکتا ہے چنانچہ انہوں نے سیاسی و غیرسیاسی مخالفین کا ناطقہ بند کر دیا تھا اور انہیں قید و بند کے علاوہ ذلیل کر کے خوشی ’’حاصل‘‘ کرتے تھے۔

چنانچہ تحریک نظام مصطفیٰؐ حکومت مخالف سیاستدانوں کے لئے زندگی و موت یا فنا و بقا کا مسئلہ تھا۔ اگرچہ عمران خان کی نیب تقریباً وہی کارنامے سرانجام دے رہی ہے اور اس کی مہربانیوں سے ملک میں تقریباً ویسا ہی ماحول پیدا ہو چکا ہے لیکن پھر بھی موجودہ صورتحال کا موازنہ 1977سے نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو صاحب وقت سے پہلے انتخابات کروا کر پھنسے، عمران کو تو اقتدار میں ابھی ایک سال ہوا ہے اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد اسے وقت دینے پر مائل ہے۔

بھٹو صاحب کو اپنی ذات پر اس درجہ بلکہ حد درجہ اعتماد نے مارا۔ آرمی ٹیک اوور سے چند روز قبل انٹیلی جنس بیورو سے صرف ایک سطری رپورٹ بھٹو صاحب کو بھجوائی گئی جس کا میں شاہد ہوں کیونکہ اس زمانے میں مَیں وہیں پایا جاتا تھا۔ وہ سطر تھی KHAKIS ARE COMING۔ بھٹو صاحب نے خطرے کا تدارک کرنے کے بجائے اس انتباہ کو ہی درخورِ اعتنا نہ سمجھا۔ یہی فروگزاشت یا بھول اُن کے گلے کا پھندا بن گئی۔

حکومتوں کو کامیابیاں سمیٹتے اور حماقتیں کرتے دیکھتے ہوئے عمر بیت گئی۔ میرا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ اکثر حکومتوں کے اندر ایسے بھیدی موجود ہوتے ہیں جو اقتدار کی لنکا ڈھاتے اور سوچے سمجھے بغیر بیانات دے کر اپنی کشتی میں سوراخ کر دیتے ہیں۔

بریگیڈیئر اعجاز شاہ وزیر داخلہ ایک سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ مشرف کا دست راست ہونے کے باوجود ’’محترم‘‘ ہیں لیکن شاید عمر بھی ایک حقیقت ہوتی ہے جو اپنا رنگ دکھاتی رہتی ہے۔ محترم شاہ صاحب نے بیان دے کر ایک راز فاش کر دیا۔ فرمایا اگر میاں نواز شریف کے اردگرد چند حضرات، کچھ سینیٹرز، کچھ ایم این اے نہ ہوتے تو وہ آج بھی حکومت کر رہے ہوتے اور چوتھی بار بھی منتخب ہو جاتے۔

پس پردہ ڈان لیکس بھی ہے۔ سوچتا ہوں کہ جج ارشد کی وڈیو کے انکشاف اور پھر وزیر داخلہ کے اعتراف کے بعد میاں نواز شریف کے خلاف مقدمات اور جیل کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟