اس حکومت کے خلاف ہر کوئی لکھ رہا ہے - صہیب جمال

اس حکومت کے خلاف ہر کوئی لکھ رہا ہے ۔ مہنگائی کا رونا ، پولیس کے کردار پر دوہائیاں ، کہیں تاجروں کا ماتم ، کہیں اسپتالوں میں علاج معالجہ میں کمی ، کوئی ڈالر پر آنسو بہا رہا ہے ، کسی کو ایک کروڑ نوکریوں اور دو سو ارب ڈالر کے وعدے یاد آ رہے ہیں ، کہیں ڈینگی مچھر پکڑ میں نہیں آ رہا ہے ، بی آر ٹی پشاور نہیں بن پا رہی ۔

یہ سب دنیا داروں کی باتیں ہیں ، ہم مسلمانوں کو کیا لینا دینا اس مال و متاع سے ، ایک دن سب یہیں رہ جائے گا ، قبر میں کچھ ساتھ نہیں جاتا ۔ یہ سائینس یہ ٹیکنالوجی کی باتیں کہ پہلے اس میں مقام بناؤ ، تعلیم کے لیے آگے بڑھو یہ سب مٹی میں مل جائے گا ۔ دیکھیں بھائی یہ حکومت ان سب دنیاداری کھیل تماشوں کے لیے نہیں آئی تھی ۔ اس حکومت کا مقصد صرف چوروں کو پکڑنا تھا وہ یہ کام بخوبی کرچکی ، اس حکومت کی آمد امتِ مسلمہ کو یکجا کرنا تھا ، خان صاحب یہ کر رہے ہیں ، ہمیں نظر آ رہا ہے کہ ایک دن یہ مسلمانوں کے عظیم لیڈر ہوں گے ، اقوامِ متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں جب یہ شیروں کی طرح سامنے یہود و نصارٰی کے دھاڑ رہا تھا تو ان کے ایوانوں میں تھر تھری سی مچ گئی تھی ، پاکستان میں مجھ جیسے دنیادار اور فارغ قسم کے مخالفین بھی یہود و ہنود کے ہمنوا بن گئے تھے ، کیونکہ ہم ناعاقبت اندیش لوگ ہیں انجام سے بے خبر ۔ میں پاکستان کے شہریوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس وقت امتِ مسلمہ کے ایک ہونے کا وقت ہے ایک بہت بڑا اسلامی بلاک بنا کر ہمیں خان صاحب کو اس صدی کا سلطان صلاح الدین ایوبی بنانا ہے ، بیت المقدس واپس لینا ہے ، برما کے مسلمانوں اور کشمیر کے مظلوموں کو آزادی دلوانی ہے ، یہ سب ممکن ہوگا جب ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے نکلیں گے پچاس لاکھ گھروں کے خواب سے نکلیں گے "شاہیں بناتا نہیں آشیانہ" ۔

یہ بھی پڑھیں:   ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا - قادر خان یوسف زئی

تحریک انصاف کے ٹائیگرز ، شیر ، شیرو بھی دھوکے میں آگئے اور اس اتحادِ مسلمہ کے نظریے کو بھول گئے ، جبکہ انہیں چاہیے تھا کہ یہ کمپیوٹر پر فوٹو شاپ سافٹ ویئر کھولتے اور دینا کا نیا نقشہ تشکیل دیتے ، مکہ کو مرکز دکھاتے اور وہاں سے راہداریاں نکال کر کینیڈا تک نکل جاتے رشیا کو جوڑ دیتے پاکپتن سے ، دیوارِ گریہ پر خان کی خطاب کرتے تصویر چپکاتے ، بیت المقدس پر پاکستان اور امت مسلمہ کا اپنا ڈیزائن کردہ جھنڈا لگاتے ، مگر... یہ دھوکے میں آگئے انہوں نے اپنے لیڈر کے برعکس الٹے کام کردیے یہ بھی ہم جیسے مخالفین دنیادار لوگوں کی باتوں میں آگئے اور مولانا کے دھرنے کو سنجیدہ لے لیا ، یہ کمپیوٹر پر بیٹھے اور ایک ہدایت نامہ جاری کردیا اس میں شق چھ ڈال کر ناچنے لگے ، بھول گئے اتحاد و فتح ، پھر لگ گئے قادیانیوں کا خط بنانے میں اس کو پھیلانے لگے ان سب کو بنانے کے لیے آٹھ دس گھنٹے لگے اور دس دن تک اس کو پھیلاتے رہے ، ان دنیا داروں کے چکر میں امت کے بہترین لوگ بےمقصد لاحاصل لایعنی کاموں میں لگ گئے ۔
کل سے ان بیچاروں پر فواد چودھری کا خطاب مصیبت بن کر گر رہا ہے کہ ہم نوکریاں نہیں دے سکتے یہ کام پرائیوٹ سیکٹر کا ہے ۔ فواد چوہدری خان کے نظریہ پر ہے کہ دنیاداری چھوڑو اور امت کے اتحاد کی طرف لگ جاؤ ۔ انصافی بھائیو ! اگر کہیں بھی کوئی اس دنیاداری کا عاشق کہیں ان نوکریوں والے وعدے کا طعنہ دے تو کہہ دینا
"نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانہ کے گنبد پر -- تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

ٹیگز