ایک اور طالب علم - عابد محمود عزام

گزشتہ دنوں ایف اے کے نتائج کا اعلان ہوا۔ سٹوڈنٹ زاہد محمود اچھے نمبر لے کر والدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا تو اس نے نہر میں کود کر خودکشی کر لی۔ نہر کنارے اس کا بیگ، جوتے اور خط ملا، جس میں لکھا تھا: "میرے پیارے ابو اور میری امی، میرا رزلٹ بہت گندا آیا ہے، مجھے معاف کردینا۔"

امتحانات میں نمبر کم آنے پر کسی سٹوڈنٹ کی خودکشی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، ہر سال مختلف درجات کے نتائج کے وقت خودکشی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ بہت سے والدین کے لیے زیادہ نمبرز کا حصول ان کا اسٹیٹس سمبل یا انا کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اسی لیے خراب رزلٹ آنے پر وہ بچوں پر اتنا زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ مایوسی، انتشار اور ذہنی کوفت کا شکار ہوجاتے ہیں، جس کا اثر ان کی ذہنی و جسمانی صحت پر بھی پڑتا ہے۔ اکثر اوقات نوجوان اس مایوسی سے تنگ آکر انتہائی قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے، جو بلاشہ ایک بزدلانہ فعل ہے، مگر اس کی زیادہ تر ذمہ داری والدین پر عاید ہوتی ہے۔ اس حوالے سے والدین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امتحانات کا اپنا ایک تناؤ ہوتا ہے جو ہر طالب علم اپنی حساسیت کے اعتبار سے محسوس کرتا ہے، اس دوران بہت سے طلباء کو والدین کی طرف سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کا دباؤ پریشان کیے رکھتا ہے۔ ناکامی کا خوف ان کے دل و دماغ پر حاوی ہوتا ہے جس سے امتحانات میں ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کی توقعات اور کامیابی کے جدید رجحانات نے نسل نو کے لیے بہت سے مسائل کھڑے کردیے ہیں۔ امتحانات میں ناکامی یا کم نمبروں کی وجہ سے داخلے میں ناکامی طلباء کو اس حد تک مایوس کردیتی ہے کہ وہ نہ صرف خود کو معاشرے کا ناکارہ فرد تصور کرنے لگتے ہیں، بلکہ خود سے بھی مایوس ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے : رانا اعجاز حسین چوہان

مسابقت اچھی چیز ہے، اس سے آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے، لیکن یہ ایک حد تک ہونی چاہیے۔ معاشرے میں مقابلے کی بڑھتی ہوئی فضاء، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی ریس نے نسل نو کے ذہن، ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر گہرا اثر کیا ہے۔ وہ تعلیم کے اصل مقصد کو بھول کر ریس کے گھوڑے کی طرح دوڑ رہے ہیں، وہ کسی بھی طرح بس کامیاب ہونا چاہتے ہیں، یہی سوچ نقل اور دیگر غیر اخلاقی رویوں کی طرف مائل کرتی ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو کارآمد بنانے کی بجائے صرف اس دائرے تک محدود ہوگئے ہیں کہ کسی طرح زیادہ نمبر حاصل کیے جائیں، جس سے والدین خوش ہوجائیں۔ یہ سوچ معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ بہت سے طالب علم بھرپور محنت کے باوجود زیادہ نمبر لینے سے محروم رہتے ہیں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ کند ذہن اور نالائق ہوتے ہیں، بلکہ قدرت نے ہرکسی کو مختلف ذہانت اور صلاحیت عطاء کی ہے۔ تعلیم میں ناکام ہونے والے سٹوڈنٹس کسی دوسرے شعبے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
اساتذہ اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ جہاں طلباء کو کامیاب ہونے کی ترغیب دیتے ہیں، وہاں انہیں یہ بھی بتائیں کہ محنت کرنا انسان پر لازم ہے، کامیابی نہیں ملتی تو وہ بے قصور ہیں۔ ناکام ہونا جرم نہیں ہے۔ ناکامی کے خوف سے نئے تجربات اور کوشش ترک کرنا برا ہے۔

انسان ناکامیوں سے بھی کامیابی کے راستے نکال لیتا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ناکامیوں کے بعد بھی بہت کامیاب انسان ثابت ہوئے ہیں۔ دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جن کا تعلیمی ریکارڈ بہت برا تھا مگر وہ مختلف شعبوں میں اتنے کامیاب ہوئے ایک دنیا ان پر رشک کرتی ہے۔ انسان کو اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ والدین کی ذمے داری ہے خراب رزلٹ آنے پر بچوں پر برسنے اور ان سے لاتعلقی اختیار کرنے کے بجائے انہیں حوصلہ دیں، تاکہ وہ ناکامیوں سے سیکھ کر کامیاب انسان بن سکیں۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.