کبھی کسی کو موٹا مت کہیں۔عابدہ بانو

میں ایک تھیراپسٹ کے طور پر جب بھی ایسے کلائنٹ دیکھتی ہوں جو وزن کم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو ایک بات نوٹ کرتی ہوں کہ انکو لوگوں کے جملے ..تم موٹی ہوگئی ہو یا تمہارا پیٹ نکل آیا ہے۔ تمہارے کپڑے تنگ ہوتے جارہے ہیں .تمہیں کیا ہوا؟ اتنی پھیلتی جارہی ہو۔ ان جملوں نے انکو اندر سے زخمی کیا ہوتا ہے۔

میری ایک بات غور سے سن لیں۔ آپ جب کسی کو موٹا کہتی ہیں تو یہ انفارمیشن دینا نہ انکے علم میں اضافہ کرتا ہے اور نہ آپکے لیے فائدہ مند ہے۔ اگر آپ نہیں نہیں بھی بتائیں گے تو اگلا فرد بخوبی جانتا ہے کہ اسکا سائز کیا ہے۔ آپکے بتانے سے قبل ہی اسکے ہاس یہ معلومات ہیں تو آپ وقت کیوں ضائع کرہے ہیں اپنا بھی اور دوسرے فرد کا بھی؟
ایک حدیث کا مفہوم یاد آرہا ہے کہ تم میں سے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ منہ سے اچھی بات نکالے ورنہ خاوموش رہے۔” خدارا اپنی زندگی سے یہ جملہ نکال دیں “ تم موٹے /موٹی ہو”۔ اس سے فائدہ نہیں ہمیشہ نقصان ہوتا ہے۔ اپنے ہاتھ اور زبان سے شر نہ دیں۔ دوسروں کے لیے آسانیاں بانٹنے والےبنیں۔ اور والدین سے بطور خاص التجا ہےکہ اپنے بچوں کو کبھی موٹا مت کہیں۔ ہاں اگر کوئی آپ سے خود رائے لینا چاہے تو مناسب رائے دے دیں کہ ہاں اگر صحت کا خیال رکھو گے تو بہتر ہوگا تمہارے لیے۔” دوسرا نکتہ کہ ہم نے یہ تو فرض منصبی سمجھ رکھا ہے کہ اگلے کو بتانا کہ وہ موٹا ہے لیکن جب وہ وزن کم کرلے تو کبھی اچھا تبصرہ کرنا بھول جاتے ہیں۔ کہ تم اب اسمارٹ ہورہی ہو۔ ایسا میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہی ہوں۔ میں باقاعدگی سے واک یا ورزش کی روٹین رکھتی ہوں۔

اور میں جانتی ہوں کہ محنت کرنے کے باوجود جب پیٹ پرفرق نہیں پڑتا تو کتنی تکلیف ہوتی ہے اور اوپر سے یہ تبصرے کہ تمہارا پیٹ نمایاں ہے۔ لیکن جب میرا پیٹ غائب ہوا تو ایک بھی فرد نے نوٹ نہیں کیا اگر کیا بھی تو کہا نہیں۔ اس سے میں نے ایک سبق سیکھا کہ اگر میں کسی کی زندگی میں بہتری لاسکتی ہوں تو ہمیشہ ایک جملہ بولتی ہوں جو جادو کی طرح اثر کرتا ہے اور وہ ہے . جب بھی کسی موٹے فرد کو دیکھتی ہوں انکو کہتی ہوں .“تم مجھے بہت اسمارٹ محسوس ہورہی ہو یا تم پہلے سے کم لگ رہی ہو” یقین مانئیے اس سے وہ اچھا محسوس کرتے ہیں۔ اور واقعتا مجھے ہر فرد، وہ جس بھی سائز کا ہے، اچھا ہی نظر آتا ہے۔ یہ پیمانے کس نے بنا ڈالے کہ کون کتنے سائز یا وزن کا ہو تو قابل قبول ہے؟؟؟ وزن بڑھنے کی کچھ وجوہات تو تھیراپی کی دنیا میں مستند ہیں اور جن پر کام اگر کیا جائے تو نتیجہ یقینی ہے۔ جب بھی آپ کو کسی اپنے سے rejection ملے گی جس سے آپ approval کی توقع رکھتے ہیں، آپکا جسم آپکو escape or hide mood میں لے جائے گا یعنی چربی کی تہہ چڑھا کر آپکی حفاظت کرے گا۔ کسی کے reaction کا خوف بھی چربی چڑھاتا ہے۔ خواہ وہ شوہر ہو یا والدین۔ اگر آپ اپنے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے یو خود کو نظر انداز کرتے ہیں یا اپنی ضروریات کا دھیان نہیں رکھتے تو آپکو میٹھا بہت اچھا لگنے گا۔ آپکا جسم آپ کو self reward mood میں لے جائے گا۔

میٹھا چونکہ وقتی انرجی پیدا کرتا ہے تو اس طریقہ سے وہ آپکی توجہ لے گا۔ اسکے علاوہ اگر آپ کا کوئی عقیدہ یا نظریہ ایسا ہے جو بہت پختہ ہے مثلاً ..میں موٹی ہوں کیونکہ میں ورزش نہیں کرتی یا میٹھا کھاتی ہوں یا پڑھائی کو دوران بیٹھی رہی یا میرا موٹاپا وراثت میں ہے کہ سب موٹے تھے وغیرہ وغیرہ تو جسم آپکے اس نظریے کی مطابق ہی چلے گا کیونکہ آپ نے اسکو پروگرام کردیا ہے۔
یہ چند وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہوسکتی ہیں۔ ایک بات یاد رکھیں .“Your body loves you more than you love your body” It’s programmed by Allah to do so.
وجہ کوئی بھی ہو محض ڈائیٹ یا ورزش کافی نہیں ہوتی جب تک کہ ان بنیادوں پر کام نہ ہو۔ صرف تب ہی نتیجہ نہ صرف یہ کہ نظر آئے گا بلکہ ہمیشگی کا ہوگا۔ خواہ اس میں وقت لگے۔
اور تمام بیویوں سے گزارش ہے کہ بچوں کی پیدائش کے بعد خود کو نظرانداز نہ کریں۔ اپنے لیےایک بجٹ رکھا کریں سال بھر کا جو خود پر لگائیں۔ خالی جگ سے کچھ نئیں نکل سکتا آپ اچھی ماں یا بیوی تب ہی بن سکتی ہیں اگر اپنا خیال رکھیں گی۔ اسکے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ممکن ہی نہیں۔ اسکے لیے عموما تین سیشن درکار ہوتے ہیں EFT تھیراپی کے۔ جو آن لائن کیے جاتے ہیں۔
چونکہ گروپ کے اصول کا احترام مجھ پر لازم ہے تو میں اس تھیراپی کاکوئی لنک نہیں دے سکتی۔ اس کے لیےآپ رابطہ کرسکتی /سکتے ہیں۔

ٹیگز