کرد قوم پرستی اور ملحمتہ الکبریٰ …(2) اوریا مقبول جان

جنگ عظیم اول کے بعد قومی ریاستوں کے قیام سے لے کر اب تک کرد قوم اس خطے کے پانچ ممالک میں تقسیم ہے، لیکن بے چاروں کی بدقسمتی یہ ہے کہ گذشتہ ایک سو سال سے انہیں قومیت کی خوابناک نشہ آور گولیاں کھلاکر ہر اس ریاست سے لڑایا جارہا ہے جن کے درمیان ان کی زمین تقسیم کردی گئی تھی۔ بابل و نینوا وہ تہذیب تھی جس نے ہمورابی جیسے قانون عطا کرنے والے کو پیدا کیا اور بابل کے لٹکتے ہوئے باغات بنائے، جس کی طاقت نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجائی، آدھے سے زیادہ یہودیوں قتل اور باقی کو غلام بنایا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ کرد اسی بابل کی سلطنت کے باسی تھے جو اجڑی تو دو عالمی طاقتوں روم اور فارس کے درمیان میدان جنگ بن گئی۔’’کرد‘‘ بنیادی طور پر ایرانی صحرائی علاقوں میں رہنے والوں کو پکارا کرتے تھے۔ بالکل ویسے ہی جیسے حجاز کے لوگ عرب کے ریگستانی باشندوں کو بدّو کہہ کر پکارتے تھے۔ ایران میں آج بھی اکھڑ، اجڈ اور گنوار کے لئے دو قوموں کی مثال دی جاتی ہے ، کرد اور خراسانی۔

بظاہر جاہل،اجڈ اور گنوار کہلانے والی کرد قوم بارہویں اور تیرہویں صدی میں اس وقت اسلام دشمن یورپ کی آنکھوں میں کھٹکنے لگی جب بکھرتی ہوئی مسلمان خلافت میں صلاح الدین ایوبی نے مصر میں ایک مضبوط سلطنت کی بنیاد رکھی اور متحدہ یورپ کی افواج سے یروشلم اور بیت المقدس واپس لے لیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کی دو بڑی حکومتوں کا میدانِ جنگ، یہ علاقہ بن گیا۔ ترکی کے عثمانی اور ایران کے صفوی۔ایک سنی مرکزیت کے علمبردار اور دوسرے شیعہ اقتدارکے بانی۔ ان دونوں کے لیے سبز چارہ انہی بے چارے کردوں کی سرزمین تھی۔ صلاح الدین ایوبی کی مصر کے فاطمی حکمرانوں کو شکست دینا ایک ایسا زخم تھا کہ جسے ایرانی حکمران کبھی نہ بھولے اور صفویوں سے لے کر نادر شاہ اور قاچار حکمرانوں تک سب نے کردوں کواپنے علاقوں سے دربدر کیا۔ انہیں خراسان دھکیلا گیا۔ بلوچستان میں آباد قبائل انہی کردوں کی اولاد ہیں۔ بڑی طاقتوں کی کشمکش کا میدان جنگ بننے والا یہ علاقہ جغرافیائی طور پر ایران کے جنوب مغربی شہر کرمان شاہ سے شروع ہوکر شام کے حلب، ترکی کے غازی انتسب، آرمینیا کے یاروان اور عراق کے کرکوک، اربیل اورموصل تک پھیلا ہوا ہے۔ اس علاقے میں آباد کرد گذشتہ سو برس سے ایک ایسی نہ ختم ہونے والی لڑائی میں جھونک دیے گئے ہیں کہ اسوقت یہ دنیا کے تقریبا دو درجن ممالک میں ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔

جرمنی میں ان کی تعداد پندرہ لاکھ ہے اور فرانس میں دو لاکھ جبکہ یورپ کا کوئی ملک بھی ایسا نہیں جہاں ان دربدر کردوں کا وجود نہ ہو اور وہ بھی اچھی خاصی تعداد میں۔ صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا زخم تو جدید سیکولر کاروباری یورپ بھول ہی چکا تھا مگر کردوں کی بدقسمتی یہ کہ انکی سرزمین کو قدرت نے تیل کی دولت سے مالامال کر دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب معاشی قوتوں یعنی کارپوریٹ مافیا نے پوری دنیا پر حکومت کا فیصلہ کیا تو وہ امریکہ جس نے یورپ کی ہٹلر کو شکست دینے میں مدد فراہم کی تھی وہ اس سارے علاقے کا نادیدہ کا حکمران بن گیا جہاں تیل کی دولت موجود تھی۔ کردوں کی تیل کی یہی دولت تھی جو دریائے فرات کے کنارے دیرالزور علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد کے پچپن سال ،سرد جنگ کا خوفناک عرصہ تھااسکی وجہ سے ہر ملک میں طبقاتی جنگ چھیڑی گئی۔ اس جنگ میں امریکہ اور اس کا اتحادی یورپ، ان حکومتوں کا ساتھ دیتے رہے جو انہوں نے خود بنائی تھیں جبکہ دوسری طاقت سوویت یونین ان ملکوں میں قوم پرست علاقائی تحریکوں کو مالی و عسکری اور نظریاتی مدد فراہم کرتی رہی۔ ان میں کرد، بلوچ، پشتون اور دیگر اقوام شامل تھیں۔ کردوں کو اس بڑی لڑائی کا ایندھن بنادیا گیا۔ انہیں پہلے صدام سے لڑایا گیا اور جب اس نے ان پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو دنیا خاموش رہی، انہیں شاہ ایران اور حافظ الاسد کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا۔

ترکی کی حکومت کے لیے بھی کرد قومی تحریک کو مسلح کیا گیا۔ 1984ء سے لے کر 2013 ء تک ترکی کی کردش ورکرپارٹی (PK K) نے باقاعدہ مسلح جدوجہد اختیار کیے رکھی، جسے پہلے سوویت یونین اور پھر امریکہ کی مدد حاصل رہی۔ صدام کو سبق سکھانے کا مرحلہ آیا تو اسکے خلاف عراق کے شیعوں اور کردوں کی مدد حاصل کی گئی اور ان دونوں کی مدد سے ہی سات لاکھ عراقی فوج دنوں میں بدترین شکست سے دوچار ہوئی۔ پورے عراق پر شیعہ حکمران مسلط کرکے کردوں کو محدود آزادی کے لالی پاپ پر ٹرخا دیا گیا۔ دوسری جانب امریکہ نے اپنی کاسہ لیس حکومت کے ذریعہ عراق کے سنی علاقوں میں القاعدہ کی دہشت گردی کے نام پر بدترین خونی آپریشن شروع کروایا جس کی تلخ یادیں آج بھی فلوجہ اور موصل میں نظر آتی ہیں۔ اس شیعہ سنی لڑائی کی کوکھ سے داعش نے جنم لیا۔ داعش نے جب پہلا شہر موصل فتح کیا تو عراقی فوج اپنے کئی سو ٹینک اور بے شمار اسلحہ چھوڑ کر بھاگ گئی تاکہ وہ داعش کی حکومت کے قیام میں مدد فراہم کرے۔ داعش سے اسلامی خلافت کا اعلان کروانا ایک ایسا جال تھا جو اس مقصد کے لیے پھیلایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں جو کوئی بھی اسلامی خلافت کے لئے تڑپ رکھتا ہوتو وہ وہاں جا پہنچے۔ یوں صرف یورپ کے بائیس ممالک سے ہزاروں لوگ داعش کی اسلامی حکومت کی طرف ہجرت کر گئے۔ داعش سے پہلا کام یہ لیا گیا کہ وہ اپنے اردگرد کی تمام قوتوں سے اعلان جنگ کرے۔

شام میں بشار الاسد، عراق میں امریکی نژدا حکومت اور خاص طور پر کردوں کو اسی لیے نشانہ بنوایا گیا۔ داعش کی حکومت اسی علاقے میں قائم کی گئی جسکے نقشے کرد قوم پرست عظیم کردستان کے طور پر گذشتہ سو سال سے تقسیم کیا کرتے تھے۔ اب دنیا بھر کے جنگجو اور جہادی اس جال کے تحت عراق آچکے تھے۔ داعش ہر سال ان تیل کے چشموں سے دو ارب ڈالر کا تیل فروخت کرتی تھی۔اس تیل کو یہ تمام عالمی طاقتیں خریدنے میں مدد فراہم کرتی تاکہ داعش مضبوط ہو اور مزید سادہ لوح مسلمان اس علاقے میں آجائیں۔ داعش کے تیل کے سب سے بڑے خریدار ایرانی اور کرد تھے جن کے ٹینکر مسلسل ان کی سرحدوں پر کھڑے رہتے تھے۔ اسکے بعد امریکہ، روس، ایران، شام، ترکی، سعودی عرب اور دیگر ممالک داعش کے خلاف متحد ہو گئے اور داعش کو عالمی خطرہ قرار دے کر تباہ و برباد کر دیا گیا۔ آخری معرکہ رقہ کے علاقے میں ہوا جہاں دریائے فرات کے کنارے تیل کے چشموں کی دونوں جانب روس اور امریکہ کی افواج نے پڑاؤ ڈال لیا اور کردوں کو ایک بار پھریہ لولی پاپ دیا گیا کہ اب تمہیں ہی اس علاقے کی حکمرانی عطا کی جائے گی اور انہیں اردگان سے لڑانے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ طیب اردگان کی حکومت ترکی میں وہ پہلی حکومت تھی جس نے 2014 ء میں کردوں کو سیاسی اور انتظامی معاملات میں شریک کیا اور انکی مسلح جدوجہد کو ختم کروایا۔

ترکی میں اس وقت 70 کے قریب کرد ارکان پارلیمنٹ میںہیں۔ یوں امریکہ کے ہاتھوں سے وہ سب سے بڑا ہتھیار نکل گیا۔ ترکی نے گذشتہ آٹھ برسوں سے جس طرح شام سے آنے والے تیس لاکھ مہاجرین کی مہمان نوازی کی ہے، اس نے ادلب سے لے کر حلب تک شام کی ساری سرحدی پٹی میں ترکی کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کر دیے ہیں۔ اس کیفیت کو بدلنے، اردگان کو مجبور کرنے اور اسے امریکہ کی بلا چوں چرا غلامی پر قائل کرنے کے لئے اسکی سرحدوں پر کردوں کو مسلح کیا گیا اور جنگ چھیڑی گئی، جسے گذشتہ دو سال پہلے ترکی افواج نے احرارالشام (Free Syrian Army) کی مدد سے روکے رکھا۔ ترک افواج شام کا جو علاقہ فتح کرتیں اسے احرارالشام کے حوالے کر دیتی ہیں تاکہ وہاں امن قائم ہوسکے۔ یہ احرارالشام ان سپاہیوں پر مشتمل ہے جو بشارالاسد کی فوج میں شامل تھے اور سنی اکثریت سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن بشار کے نصیری علوی غلبے سے بغاوت کرکے شام کے عوام کے شانہ بشانہ فوج چھوڑ کر آ گئے تھے۔(جاری)