میاں بیوی کے "مثالی" تعلقات اور عالمی سفارت کاری ( ذرا سی بات ) - محمد عاصم حفیظ

میرے ایک دوست نے اپنے جاننے والے کا ایک شاہکار واقعہ سنایا ۔ ایک محفل میں گھریلو ماحول کی بہتری اور میاں بیوی کے درمیان ہم آہنگی کے حوالے سے بات چیت ہو رہی تھی ۔ صاحب کا دعوی تھا کہ اس کے گھریلو تعلقات انتہائی مثالی ہیں ۔ کبھی جھگڑا نہیں ہوا ۔ کبھی اختلاف نہیں ہوا ۔ غصہ ناراضگی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ بس ہم میاں بیوی ایک چھوٹے سے اصول پر عمل کرتے ہیں۔

ہر کوئی چونک کر رہ گیا ۔ کان کھڑے ہو گئے یہ راز کون نہیں جاننا چاہتا ۔ ہر دل کی یہ خواہش ہے اور تقریبا ہر گھر کا یہی دیرینہ مسئلہ ہے ۔ روٹھنا ۔ منانا ۔ اونچی آواز میں باتیں ۔ غصہ ۔ ناراضگی ۔ موڈ آف ہر کسی کو کسی نہ کسی صورت حال کا سامنا کرنا ہی پڑ جاتا ہے ۔ سب ہمہ تن گوش تھے ۔ سانس روکے وہ راز وہ چھوٹا سا اصول جاننا چاہتے تھے ۔ صاحب نے لمبی سی سانس لی اور انتہائی اطمینان سے گویا ہوئے ۔ " دراصل ہم نے گھر کے اندرونی و بیرونی کام بانٹ لئے ہیں ۔ گھر کے چھوٹے مسائل میری بیوی دیکھ لیتی ہے اور میں باہر کے بڑے مسائل دیکھتا ہوں ہم ایکدوسرے کے اختیارات اور کاموں میں مداخلت نہیں کرتے " . مزید وضاحت درکار تھی ۔ سب ہی دم سادھے مزید سننا چاہتے تھے ۔ صاحب نے دوبارہ لمبی سانس لی اور فرمانے لگے ۔
" گھر کے اندرونی چھوٹے چھوٹے مسائل مثلا اخراجات رہن سہن ۔ لباس ۔ کھانا پکانا ۔ کہیں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ کسی رشتہ دار سے ملنے یا نہ ملنے کا فیصلہ ۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کے فیصلے وغیرہ میری بیوی کرتی ہے ۔ میں اپنی پوری تنخواہ لا کر اسے دے دیتا ہوں اور اپنے اخراجات کی منظوری ملنے پر رقم اسی سے وصول کرتا ہوں ۔ باقی کس کے لئے کیا خریدنا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   کلچر یا اسلام ‎- ایمن طارق

گھر میں کس چیز کی ضرورت ہے ۔ کون گھر آ سکتا ہے کسے اجازت نہیں حتی کہ میرے قریبی رشتہ دار بھی ۔ ان کے بارے بیگم کا فیصلہ حتمی ہے ۔ جو پکاتی ہے جیسا پکاتی ہے جب چاہے پکائے یہ اس پر منحصر ہے ۔ میں تو بس جب بھی مل جائے صبر شکر کرکے کھا لیتا ہوں ۔ اسے کتنے سوٹ خریدنے ہیں جیولری کس قسم کی چاہیے کب شاپنگ پر جانا ہے سب فیصلے خود کرنا ہوتے ہیں ۔ محفل میں موجود ہر کوئی ہمہ تن گوش تھا ۔ دنیا کا اہم ترین راز منکشف ہو رہا تھا اور اصول کی وضاحت ہو رہی تھی ۔ اب سب کا سوال ایک ہی تھا کہ صاحب جی آپ کے کام کیا ہیں ۔ اختیارات کی حد کیا اور آپ کن مسائل کو دیکھتے ہیں ۔ صاحب نے مطمئن چہرے کیساتھ ایک بار پھر لمبی سی سانس لی ۔ گویا ہوئے " جی میں بڑے مسائل کو دیکھتا ہوں" وہ کون سے جناب ؟؟؟ جب سب ہی سانس روکے سننے لگے تو صاحب خود ایک لمبی سانس لی اور گوش گزار ہوئے۔ " دراصل میں بڑے عالمی مسائل دیکھتا ہوں ۔امریکہ کی فارن پالیسی کیا ہے ؟ فلسطین میں کیا ہو رہا ہے ؟ عالمی تجارت کس رخ جا رہی ہے ؟ عالمی امن کو کونسے خطرات لاحق ہیں ؟ خلائی مشن کب روانہ ہو رہے ہیں ۔ عرب ایران تنازعہ کہاں تک پہنچا ؟

امریکہ شمالی کوریا کی صلح ہوئی کہ نہیں ۔اور ایسے ہی دیگر بڑے بڑے عالمی و بیرونی مسائل دیکھنا میری ذمہ داری ہے ۔ میری بیوی اس حوالے سے ہرگز مداخلت نہیں کرتی اور ان مسائل کے حل کرنے ۔ ان کے بارے پریشان ہونے ۔ سوچنے سمجھنے اور باقی دوستوں کیساتھ ڈسکس کرنے میں آزاد ہوں ۔ یہی وہ راز ہے اور چھوٹا سا اصول جس کی وجہ سے ہمارے گھریلو تعلقات ایک پیج پر ہیں اور کبھی بھی اختلاف نہیں ہوا ۔ ہم خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس میں پاکستانی قوم کے لئے بھی ایک بڑا سبق ہے ۔ سنا ہے معیشت کا برا حال ہے ۔ تاجر پریشان ہیں ۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے بقول گورنر سٹیٹ بنک مزید جھٹکے لگیں گے ۔ شہ رگ دشمن کے شکنجے میں ہے ۔ اندرونی سیاست بحران کا شکار ہے ۔ کوئی دھرنے کی تیاری کر رہا ہے تو کہیں تاجر ہڑتال پہ ہیں ۔ ڈاکٹرز ڈنڈے کھا رہے ہیں ۔ ٹیچرز سڑکوں پر ہیں ۔ نابینا ملازمین کئی دنوں سے سڑکوں پہ سو رہے ہیں ۔ ہسپتالوں میں ادویات نہیں اور ڈینگی تباہی پھیلا رہا ہے لیکن ہماری سرکار دنیا کے بڑے بڑے عالمی مسائل حل کرنے کے مشن پر ہے ۔ عرب ایران کے بعد ابھی امریکہ چین اور پھر امریکہ روس میں ثالثی کرانی ہیں ۔ اپنے اپنے اختیارات ہیں جی ۔ ایکدوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرتے ۔۔